مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر آپریشن کرنا ہوگا

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 20 فروری 2017
حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے منعقدہ ایکسپریس فورم کی رپورٹ۔ فوٹو: ایکسپریس

حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے منعقدہ ایکسپریس فورم کی رپورٹ۔ فوٹو: ایکسپریس

آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی، ان کا نیٹ ورک تباہ ہوگیا اور وہ پاکستان چھوڑ کر افغانستان بھاگ گئے۔ اس کامیاب فوجی آپریشن اور سول ملٹری قیادت کے عزم سے ملکی حالات بہتری کی جانب گامزن ہوگئے لیکن اب اچانک دہشت گردی کی ایک نئی لہر آئی ہے جس نے لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، سہیون شریف و دیگر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیاجن میں سیکورٹی فورسز کے افسران سمیت سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان واقعات کے بعد فوج نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جبکہ افغان سرحد پر قائم جماعت الاحرار کے پانچ ٹھکانے بھی تباہ کیے جو بہترین اقدام ہے۔

دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے بیشتر سوالات اٹھا دیئے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر کیس حد تک عملدرآمد ہوا؟ نیکٹا کتنا فعال ہوا؟ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے ؟کیا ابھی بھی ملک میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں؟ ان کے سہولت کار کون ہیں اورکیا ان کے خلاف کوئی موثر کارروائی ہورہی ہے ؟ اس اہم مسئلے پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف تجزیہ نگاروں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر اعجاز بٹ (سیاسی تجزیہ نگار)

سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے ضرب عضب کی صورت میں ایک بڑاآپریشن کرکے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا۔ یہ آپریشن ان جگہوں پر تھا جہاں دہشت گردوں کا مضبوط نیٹ ورک موجود تھا۔ اس سے پہلے دنیا ہمیں فاٹا و دیگر علاقوں کے حوالے سے بار بار کہتی رہی مگر ہم کچھ مصلحتوں کی وجہ سے آپریشن کر نہیں سکے لیکن ضرب عضب ایک کامیاب سرجیکل آپریشن تھا جس سے دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کو ٹارگٹ کیا گیا، بے شمار دہشت گرد مارے گئے جبکہ بعض دہشت گرد افغانستان بھاگ گئے۔

ہمیں ایک بنیادی چیز کو سمجھنا چاہیے کہ فوج کا کام گولہ وبارود کا استعمال کرکے ایک سٹرٹیجی کے ذریعے دہشت گردوںکا نیٹ ورک توڑنا ہے اور فوج نے ایسا کردیا لیکن افسوس ہے کہ بعض مصلحتوں کی وجہ سے ہم دہشت گردی کی جڑ اکھاڑ نہیں پائے۔ وہ نرسریاں جہاں سے دہشت گرد پیدا ہورہے ہیں وہ تو موجود ہیں اور انہیں ختم کرنے کیلئے جس ہمت اور طاقت کی ضرورت ہے، ہماری سیاسی قیادت میں اس کا فقدان نظر آتا ہے۔حالت تو یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک دہشت گردوں کی نرسریوں میں جو بیانیہ دیا جارہا ہے اس کا متبادل بیانیہ ہی تیار نہیں کیا جس سے لوگوں کی سوچ بدلی جاسکے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس کے لیے نصاب بنایا جائے اور تمام مدارس میں حکومت سے منظور شدہ نصاب پڑھایا جائے اورا س کے ساتھ مساجد اور خطیبوںکی رجسٹریشن کی جائے۔ مدارس سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک ہیں اور اسی وجہ سے ہی سیاسی جماعتیں مصلحتوں کا شکار ہیں۔ تمام مدارس دہشت گردوں کی نرسریاں نہیں ہیں لیکن اگر کہیں خرابی ہے تو اسے دور کیا جانا چاہیے۔ پنجاب میں تو ابھی تک اس حوالے سے آپریشن ہی نہیں کیا گیا حالانکہ وہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔

دہشت گرد سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں، معاشی و معاشرتی ناہمواریوں کی وجہ سے نوجوان دہشت گردی کی طرف راغب ہوسکتے ہیں، ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہیے۔بھارت ہماری فالٹ لائنز کواستعمال کررہا ہے۔ دہشت گردوں کو افغانستان کے ذریعے فندز اور اسلحہ فراہم کرکے ہمارے ملک میں افراتفری پھیلائی جارہی ہے جبکہ افغان حکومت ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہی۔ افغان حکومت نہیں چاہتی کے ویزہ یا دیگر قسم کی پابندیاں لگائی جائیں۔

افغان بارڈر ہمارے لیے درد سر بنا رہے گا، افغانستان کے بعض علاقے تو افغان حکومت کے کنٹرول میں ہی نہیں ہیں،وہاں بیٹھ کر دہشت گرد ’’را‘‘ کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں ان کے سہولت کار ہیں جن کے اپنے اپنے مفادات اور گلے شکوے ہیں۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ابھی ہمیں بہت کام کرنا ہے۔ ا س کے لیے افغان بارڈر کو محفوظ بنانا اور فاٹا میں اصلاحات لاکر اسے قومی دھارے میں لانا ہے لیکن حکومت مصلحتوں کا شکار ہے۔ اگر ہم صحیح معنوں میں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر پنجاب میں بھی فوجی آپریشن کیا جائے، نیکٹا کو فعال بنایا جائے اور فاٹا میں اصلاحات لاکروہاں حکومتی رٹ قائم کی جائے۔

بریگیڈیئر (ر) سید غضنفر علی (دفاعی تجزیہ نگار)

پاک فوج کی جانب سے افغانستان میں جماعت الاحرار کے جو ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں یہ بہترین اقدام ہے اور یہی وقت کی ضرورت ہے۔ میرے نزدیک پاکستان کو افغانستان کے اندر خفیہ آپریشن کرنا چاہیے اور وہاں موجود فضل اللہ و دیگر دہشت گردوں کو ختم کرنا چاہیے۔ اگر اس کے لیے عالمی مدد کی ضرورت ہوتو وہ بھی حاصل کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کیلئے فضائی بمباری بھی کرنی چاہیے۔

افغانستان میں دہشت گردوں کے صرف ٹھکانے ہی نہیں ہیں بلکہ وہاں ان کے ٹریننگ کیمپ بھی ہیں۔ افغان حکومت کو بارہا کہا گیا کہ بھارت وہاں سے آپریٹ کررہا ہے اور پاکستان میں دہشت گرد بھیجے جارہے ہیں لیکن وہاں کی حکومت بے حس ہے۔ وہ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہی بلکہ عبداللہ عبداللہ بھارت کے ساتھ ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے آج ہم جس نہج پر کھڑے ہیں، اس میں ہمارے اندرونی اور بیرونی مسائل شامل ہیں۔

گزشتہ 14 برسوں میں ہم نے جو آپریشن کیے ان کا جائزہ لیں تو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جوآپریشن شروع ہوا، ضرب عضب اسی کا تسلسل ہے۔ضرب عضب خیبرپختونخوا سے بارڈر کی طرف کیا گیا، بہت سارے دہشت گرد افغانستان چلے گئے جبکہ بعض پاکستان کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی نرسری بہت پرانی ہے اور ہمارے ملک میں شدت پسند عناصر کے ساتھ ان کے رابطے بھی بہت پرانے ہیں۔

افغانستان آج ہی نہیں بلکہ ماضی میں بھی ہمارے خلاف استعمال ہوتا رہا ہے۔ فضل اللہ، خالد خراسانی، منگل باغ و دیگر دہشت گرد اس وقت افغانستان میں موجود ہیں لیکن ان کا گٹھ جوڑ لاہور، کراچی، ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی کے گرد اور راولپنڈی سے حسن ابدال کے درمیان ہے۔ تین ماہ قبل افغانستان میں ہونے والی ایک میٹنگ میںجماعت الاحرار کا ’’را‘‘ کے ساتھ تعلق قائم ہوا ہے اور اب انہیں بھارت کی جانب سے فنڈز فراہم کیے جارہے ہیں۔

عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے ’’را‘‘ نے 350 ملین ڈالر سے ’’سی پیک‘‘ کے خلاف ایک تنظیم بنائی ہے، لشکر جھنگوئی، جماعت الاحرار و دیگر نیٹ ورکس کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں اور اب ان کے ذریعے کارروائیاں کی جارہی ہیں۔اب ان کی پالیسی صرف سیکورٹی فورسز کو ٹارگٹ کرنا ہی نہیں ہے بلکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانا بھی ہے۔ افغان حکومت کہتی ہے کہ ا ن کے بعض علاقوں میں طالبان کا قبضہ ہے اور وہاں ان کی رٹ نہیں ہے، اس لیے وہ ان کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے۔ ہمارے ملک میں بھی تھریٹس موجود ہیں،سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان کا خاتمہ کرلیا؟ ہماری قیادت اس طرف سنجیدہ نہیں ہے۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اَنا کے مسئلے سے جنگیں نہیں لڑی جاتی۔ افسوس ہے کہ دہشت گردوں کی نرسریاں ختم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس اس حوالے سے کوئی پالیسی ہے لہٰذا جب تک حکومت اپنی ترجیحات درست نہیں کرتی، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ہمارے ملک کو دو طرح کے تھریٹس ہیں، ایک افغان بھارت گٹھ جوڑ اور دوسرا ہمارے اندر موجود دشمن عناصر ہیں۔اندرونی تھریٹ سے نمٹنے کیلئے ہم نے اپنی ٹیکنیکل کپیسٹی کو نہیں بڑھایا۔ صرف کیمرے لگانے سے کچھ نہیں ہوتابلکہ ہمیں مزید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ ہمیں جیمرز، ڈرون ٹیکنالوجی، سرویلنس سسٹم و دیگر چیزیں چاہئیں کیونکہ ہر جگہ انسانوں کو نہیں بھیجا جا سکتا۔

نیشنل ایکشن پلان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف متبادل بیانیہ تیار نہیں کیا گیا، ہم اس سمت میں جا ہی نہیں رہے جس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکے۔ دہشت گردی کی جنگ میں سیاسی قیادت، آرمی، سیکورٹی فورسز اور سول سوسائٹی سب کو مل کر لڑنا ہوتا ہے، ہر شخص پر ذمہ داری بنتی ہے لیکن لوگوںکو تو اس حوالے سے ایجوکیٹ ہی نہیں کیا گیا، کیا تعلیمی نصاب میں اس حوالے سے مضامین شامل کیے گئے؟ فاٹا میں اصلاحات نہیں ہورہی جبکہ فوجی عدالتوں میں توسیع کا معاملہ بھی لٹکایا جارہا ہے، اگر فوجی عدالتوں کو توسیع نہ دی گئی تو دہشت گردی میں اضافہ ہوسکتاہے۔

سلمان عابد (تجزیہ نگار)

دہشت گردی کے حالیہ واقعات غیر متوقع نہیں ہیں بلکہ خدانخواستہ ابھی اس طرح کے مزید واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک، دو سال کے آپریشن سے ہم اس پر قابو پالیں گے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دنیا بھر میں شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیاںہوتی ہیں جن پر کام کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں ان پر ٹھیک طریقے سے کام نہیں ہوا۔ سول ملٹری اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، سب نے کہا کہ یہ دہشت گردی کے خلاف قومی نصاب ہے لیکن سول قیادت نے اس پر کیا کیا؟ مولانا فضل الرحمن اسے متنازعہ قرار دے چکے ہیں جبکہ اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی، آصف زرداری، الطاف حسین اور خود مسلم لیگ (ن) کے بعض لیڈر بھی اس پر بیان بازی کرچکے ہیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک جو لوگ نیشنل ایکشن پلان پر تنقید کر رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

افسوس ہے کہ جس پلان کے تحت ہم نے دہشت گردی پر قابو پانا تھا اس پر عملدرآمد میں خلاء نظر آرہا ہے۔ فوج کے دباؤ کی وجہ سے نیشنل ایکشن پلان بنا لیکن آپریشن ضرب عضب کے بعد جو کامیابیاں ملیں،ان کے ثمرات سمیٹنے کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو جو کام کرنا تھا وہ نہیں کیا گیا۔ اپیکس کمیٹیوں پر ہی بات کرلیں تو ان کا کیا ہوا؟

وزیر اعظم نے کتنے اجلاسوں کی صدارت کی اور ان میں تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو کتنا آن بورڈ لیا گیا؟ نیکٹا کے حوالے سے سب سے زیادہ زور دیا گیا کہ اسے فعال بنانا ہے، اسے ابھی تک فعال کیوں نہیں کیا گیا؟ نیشنل ایکشن پلان میں اس بات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی کہ پولیس کے نظام میں اصلاحات لائی جائیں لیکن پولیس میں اتنی سیاسی مداخلت ہے کہ ابھی تک اس پر بھی کام نہیں ہوسکا۔

افسوس ہے کہ مدارس ریفارمز پر بھی کام نہیں کیا گیا، تمام مسائل اپنی جگہ موجود ہیں جن کی وجہ سے ہم دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ کرپشن کا پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہوتا ہے، جنرل(ر) راحیل شریف نے اس حوالے سے مضبوط موقف اپنایا لیکن اب سیاسی جماعتوں نے اسے رد کردیا ہے۔ جنرل(ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے دہشت گرد خاموش بیٹھے تھے لیکن اب دہشت گردی کے واقعات نے دوبارہ شدت اختیار کی ہے۔یہ خلاء وفاقی و صوبائی حکومتوں نے چھوڑا ہے جس سے دہشت گرد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سول ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیوں میں تعاون کا فقدان نظر آتا ہے، حکومت ملٹری ایجنسیوں کی انٹیلی جنس رپورٹس کے باوجود مصلحتوں کا شکار ہے اور شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کررہی۔ گڈ اور بیڈ دہشت گردوں کی اصطلاح کو جنرل (ر)راحیل شریف نے ختم کیا، اب اسے دوبارہ فروغ دیا جارہا ہے جو افسوسناک ہے، دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے بلاتفریق کارروائی کرنا ہو گی۔ جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ دشمن فورسز علاقے کا امن خراب کرنے سے باز آجائیں۔

وزارت خارجہ نے بھی کہا کہ افغانستان جماعت الاحرار کو روکے کیونکہ وہاں ساری منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ یہ باتیں تو ہم پہلے بھی سنتے رہے ہیں سوال یہ ہے کہ ہم نے اس حوالے سے کیا اقدامات اٹھائے؟ بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان میں عالمی کرکٹ بحال ہو، پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہونا بھارت کو قبول نہیں ہے، بھارتی میڈیا بھی اس حوالے سے پراپیگنڈہ کررہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے۔ اس پر آرمی چیف کو کہنا پڑا کہ فائنل میچ لاہور میں کروائیں ہر ممکن تعاون کریں گے۔ بھارت اور افغانستان کا نیکسس دہشت گردی کی جڑ ہے اور ہمارے ہاں دہشت گردی کے واقعات میں ’’را‘‘ کی مداخلت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

سوال یہ ہے کہ یہ سب جانتے ہوئے ہم ٹھوس اقدامات کیوں نہیں اٹھا رہے؟افغان بارڈر کو محفوظ کیوں نہیں بنایا جارہا؟ بھارتی مداخلت کا معاملہ پرزور طریقے سے کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟ الٹا ہم نے تو بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دے دی ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے فوجی عدالتوںکا مذاق بنایا جارہا ہے۔ ہم جمہوریت کے حامی ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہماری عدلیہ دہشت گردی کے معاملات کو آگے لیکر بڑھ رہی ہے؟ میرے نزدیک فوجی عدالتوں کے معاملے کو لٹکانے سے دہشت گردوں کو تقویت ملے گی۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اب ہمارے پاس واپسی کا راستہ نہیں ہے، اگر خدانخواستہ ہم اس جنگ میں ناکام ہوگئے تو ملک میں صرف دہشت گردی ہی رہ جائے گی۔

ملیحہ سمیع (تجزیہ نگار)

سال کے آغازمیں ہی دہشت گردی کی صورتحال سنگین ہے اوردہشت گردی کے حالیہ واقعات میں اب تک سینکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جہاں امن قائم ہوتا ہے وہاں ڈویلپمنٹ ہوتی ہے۔ جب بھی سول ملٹری قیادت ملتی ہے تو کوشش یہی ہوتی ہے کہ لوگوں کو سکون دیا جائے۔ دہشت گردوں کا یہ حملہ پاکستان کی ترقی پر ہے کیونکہ اب یہاں بیرونی سرمایہ کاری آنا شروع ہوگئی ہے جس سے دشمن کی بے چینی بڑھ گئی ہے کہ یہاں ترقی کیوں ہو رہی ہے، لوگ آگے کیسے بڑھ رہے ہیں، یہاں تعلیم، صحت اور روزگار میں بہتری کیوں ہورہی ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کیوں آرہی ہے۔

جنوری اور فروری میںفاٹا، کوئٹہ، کراچی، پشاور، لاہور، سیہون شریف و دیگر مقامات کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایاجن میں سینکڑوں لوگ شہید ہوچکے ہیں۔ ان کی جانب سے پولیس اور فوج کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ میرے نزدیک پاکستان کا مسئلہ صرف دہشت گردی نہیں ہے بلکہ لائن آف کنٹرول کا مسئلہ بھی ہے۔ بھارت کا رویہ جارحانہ ہے اور وہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

اقبال پارک دھماکے کے پیچھے بھی اسی طرح کے محرکات تھے۔ بھارت نہیں چاہتا ہے کہ ہمارا ملک محفوظ ہو۔ ہماری افواج کامیاب آپریشن کر رہی ہیں، دہشت گردی کی ا س جنگ میں 3ہزار بہادر سپوت شہید ہوچکے ہیں۔ عام آدمی جب ان دھماکوں میں شہید ہوتا ہے تو اسے اس چیز سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے طالبان ہیں یا کوئی دوسری جماعت۔ اسے تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، صرف مالی امداد سے ان کے غم کو کم نہیں کیا جاسکتا۔

عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردوں کے 20نیٹ ورک فعال ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار و دیگر شامل ہیں اور بھارت ان کی فنڈنگ کررہا ہے۔جب بھارت کی بات آتی ہے تو ہم یہی کہتے ہیں کہ وہ تو ہمارا ازلی دشمن ہے لیکن معاملہ صرف یہ کہنے سے حل نہیں ہوتا۔ ہمیںا س حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر پر دیکھنا یہ ہے ہم دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کیا کررہے ہیں۔میرے نزدیک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پنجاب میں وسیع ’’کومبنگ آپریشن‘‘ کیا جائے، دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا جائے اور ان کے سہولت کاروں کو فوجی آپریشن کے ذریعے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

حکومت نے نیکٹا کو فعال بنانے کی کوشش کی لیکن ابھی تک نیکٹا کا کردار واضح طور پر سامنے نہیں آسکا۔ وزیراعلیٰ پنجاب صوبے کی ترقی کیلئے کام کررہے ہیں، وہ ترقیاتی کاموں کے لیے بے حد کوشش کررہے ہیں،ان کی یہ کوشش رائیگاں نہیں جانی چاہیے لہٰذا ترقی کیلئے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ حالیہ دہشت گردی کے محرکات میں ’’پی سی ایل‘‘ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، آرمی چیف کی جانب سے فائنل میچ لاہور میں کروانے کا عزم خوش آئند ہے، اس اقدام سے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔