جدید علوم، بھینس کے آگے بین بجانا

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 23 فروری 2017
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ طلبا قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، انھیں جدید علوم پر توجہ دینا چاہیے۔انھیں چاہیے کہ وہ اپنے بہتر مستقبل کی تعمیر میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ اپنی ذہانت سے استفادہ کریں اورخود کو آگے لے جانے اور ملک و قوم کا مستقبل سنوارنے کے طریقوں سے با خبر رہیں۔

پچھلے دنوں صدر مملکت ممنون حسین نے بھی جدید علوم سے استفادے کی اہمیت اجاگرکرنے کی کوشش کی تھی ملک کے کئی مدبرین جدید علوم سے استفادہ کرنے کا مسلسل مشورہ دے رہے ہیں، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف مشورہ دے سکتے ہیں اور وہ بااختیار لوگ بھی شامل ہیں جو ان مشوروں کو عملی جامہ پہنانے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک ایٹمی سائنسدان ہیں اور سائنسدان خواہ اس کا کسی عقیدے سے تعلق ہو جدید علوم کی اہمیت اور ضرورت سے پوری طرح واقف ہوتا ہے۔ایٹمی سائنس اگرچہ مخصوص حالات میں قوم کی ضرورت بن جاتی ہے لیکن مجموعی طور پر ایٹمی سائنس کو انسانیت کی بقا کے لیے مہلک ہی سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسلسل کشیدگی اورہتھیاروں کی بے معنی دوڑکی وجہ سے ہمارے ملک میں ایٹمی سائنس کی اہمیت میں اضافہ ہوا اوراس شعبے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جو خدمات انجام دیں وہی ڈاکٹر صاحب کی شہرت کا حوالہ بن گئیں، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں ایٹمی سائنسدانوں کی مہارت سے جو ایٹمی ہتھیاربنائے جا رہے ہیں کیا وہ استعمال بھی ہوسکیں گے؟

یہ ایک بڑا اہم سوال ہے لیکن اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے شاطروں نے طاقت کے توازن کا جو سہ پہلو فلسفہ ایجاد کیا ہے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری بھی اسی فلسفے کا حصہ ہے۔ یہ بات ایٹمی سائنسدان سمیت ہر باشعور انسان سمجھتا ہے کہ ایٹمی ہتھیار بنانے اور ذخیرہ کرنے والے ملکوں کے لیے ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے سوچنا بھی کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے۔

جدید علوم میں صرف ایٹمی سائنس ہی شامل نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں جدید علوم کی ضرورت ہے اورجدید علوم کو تخریب کے علاوہ تعمیر میں بھی استعمال کیا جارہاہے مثلاً آئی ٹی کے شعبے کو لے لیں اس شعبے میں جدید علوم اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے اس شعبے کے ماہرین نے جس طرح دنیا کو ایک گاؤں میں بدل دیا ہے۔ اس کے فوائد سے تعلیمیافتہ طبقات ہی نہیں بلکہ ناخواندہ افراد بھی بھرپور استفادہ حاصل کررہے ہیں، ہمارے گھر جو نوکرانی اور کچرے والا آتا ہے اس کی جیب میں بھی موبائل فون ہوتا ہے اور وہ کام کے دوران ضرورت کے مطابق اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

غذا انسانی ضروریات کا ناگزیر حصہ ہے اس شعبے کے ماہرین غذائی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے خواص دریافت کرکے انسان کی مدد کر رہے ہیں اور انسانی صحت کے شعبے میں نئی نئی دریافتوں کے ذریعے انسان کی جس طرح خدمات انجام دے رہے ہیں یہ بھی جدید علوم ہی کا کارنامہ ہے۔بات جدید علوم کی آگئی ہے تو قدیم معلومات کے حوالے سے جدید علوم کے کردار پر بھی ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

قدیم علوم کے حوالے سے زمین ساکن اور سورج گردش کناں ہے لیکن جدید علوم کی مدد سے نہ صرف یہ معلوم ہوا کہ سورج ساکن ہے اور زمین اور چاند اس کے گرد گردش کررہے ہیں۔ اس سچائی کو ماضی میں نہ صرف جھٹلایا گیا بلکہ یہ انکشاف کرنیوالوں کو مذہب کے باغی قرار دے کر انھیں سزائے موت دی گئی۔ زمین کا جب ذکر آتا ہے تو فطری طور پر آسمان کا تصور بھی ذہن میں آتا ہے لیکن جب جدید علوم نے یہ ثابت کیا کہ آسمان نام کی کسی چیز کا سرے سے وجود ہی نہیں تو آسمان کے حوالے سے اور آسمان سے جڑے ہوئے سارے تصورات پانی کا بلبلا بن گئے۔

طبی سائنس کی حیرت انگیز بلکہ ناقابل یقین ترقی بھی جدید علوم کی مرہون منت ہے لیکن آج بھی کروڑوں نہیں اربوں لوگ آسمان کو سر پر اٹھائے پھر رہے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن بڑی بات یہ ہے کہ آسمان کے حوالے سے انسان ایک دوسرے کا دشمن بنا ہوا ہے۔جدید علوم نے انسانی زندگی کی شکل ہی بدل کر رکھ دی ہے اس حوالے سے افسوسناک بات یہ ہے کہ جدید علوم کو انسان تعمیرکے ساتھ ساتھ تخریب کے لیے بھی استعمال کر رہا ہے۔

جدید علوم کے ذریعے جدید ہتھیاروں بلکہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری بھی جدید علوم کے منفی استعمال کا ایک بدترین مظاہرہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ انسان جس کی پیشانی پر اشرف المخلوقات کا کتبہ کنندہ ہے کیا وہ اپنے رب کو واقعی اشرف المخلوقات ثابت کر رہا ہے؟ اگر انسان واقعی اشرف المخلوقات کے زمرے میں آتا ہے توکیا انسانوں اور ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات حل کرنے کے لیے پر امن بات چیت کا طریقہ اپنانے کے بجائے جدید خوفناک ہتھیاروں کے ذریعے اپنے تنازعات حل کرنے میں حق بجانب ہوتا؟

جدید علوم جدید دنیا کی ناگزیر ضرورت ہیں لیکن ہمارے ملک میں جدید علوم اب تک اچھوت کیوں بنے ہوئے ہیں؟ ہماری درسگاہیں اب تک جدید علوم سے خالی کیوں ہیں۔ ہمارے معاشرے کے بعض طبقات جدید علوم سے خوف زدہ کیوں رہتے ہیں اور بات صرف خوفزدہ رہنے تک ہی محدود نہیں بلکہ جدید علوم کی پوری قوت کے ساتھ مخالفت کیوں کی جارہی ہے۔

ڈاکٹر قدیر خان بجا طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ طلبا جدید علوم پر توجہ دیں اورملک وقوم کے بہتر مستقبل کے لیے جدید علوم سے استفادہ کریں، لیکن جس معاشرے کی 60 فی صد دیہی آبادی میں درس گاہوں کو مویشی خانوں کی طرح استعمال کیا جاتا ہو اور لگ بھگ 30 لاکھ طلبا ایسی درس گاہوں میں موجود ہوں جن میں جدید علوم کے داخلے کو گناہ کبیرہ سے تعبیرکیا جاتا ہو جہاں کے عوام چاند پر پہنچنے کے بجائے چاند دیکھنے پر دست وگریبان رہتے ہوں۔

جہاں کی سرکاری درس گاہوں میں طلبا صرف مصروفیت کے لیے آتے ہوں یا بھیجے جاتے ہوں جہاں کی درس گاہوں کے ’’باشعور‘‘ طلبا مختلف تنظیموں میں بٹ کر ایک دوسرے سے برسر پیکار رہتے ہوں ایسے ملک میں جدید علوم سے استفادہ کا مشورہ بھینس کے آگے بین بجانے کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔