لعل شہباز قلندر کا پیغامِ خدمت خلق…

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی  جمعرات 23 فروری 2017

گزشتہ دنوں سیہون شریف میں درگاہ لعل شہباز قلندر پر خود کش حملے نے جہاں تمام پاکستانیوں کو غمزدہ کیا وہیں ہندو کمیونٹی کو خون کے آنسو رلا دیا، سانحہ سیہون شریف کے موقع پر تین ہندو عقیدت مندوں نے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جب کہ پاکستان ہندو کونسل کی طرف سے ہنگامی طور پر زخمیوں کو خون کا عطیہ کرنے کی اپیل کے جواب میں لاتعداد ہندو باشندوں نے زخمی ہم وطنوں کی جان بچانے کے لیے امدادی اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔

سندھ کی دھرتی صوفیاء کرام، اولیا کرام، سادھوؤں، جوگیوں کی دھرتی کہلاتی ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی فلاح و بہبود اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کردی، خدا کے برگزیدہ بندوں نے جو محبت، انسانیت، مساوات، اخوت، رواداری اور وسیع النظّری سے لوگوں کے قلوب میں اپنی جگہ بنائی جسکی بدولت بعد از مرگ ان کے مزار مخلوقِ خدا کے لیے پیغامِ محبت جاری و ساری کرنے کا مرکز سمجھے جاتے ہیں لیکن نفرت کا پرچار کرنیوالوں نے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کے لیے محبت کے مراکز کو بھی نہیں بخشا۔

بدقسمتی سے گزشتہ عشرے میں رواج پانے والے خود کش حملوں نے یوں تو پورے ملک کے در و دیوار ہلا ڈالے لیکن ان کے خوفناک نشانے پر درگاہیں، خانقاہیں اور مزار بھی رہے، پیر رخیل شاہ، شاہ نورانی، سخی سرور، داتا دربار، بری امام، عبداللہ شاہ غازی، بابا فرید گنج شکر کے مزاروں پر حملے کے بعد تازہ نشانہ دہشت گردوں نے لعل شہباز قلندر جھولے لال کو بنایا جنکے عقیدت مندوں میں کسی خاص مذہب فرقے کے نہیں بلکہ تمام انسان شامل ہیں۔

شہباز لعل قلندر خدا کے ایسے بندے تھے جو فا تحِ زمانہ تھے لیکن انھوں نے محبت کو اپنا ہتھیار بنایا، آپ سندھ کے ان بزرگان دین میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی صوفی منش طبیعت لیکن قلندرانہ کیفیت کے باعث جلالی مزاج کے حامل سمجھے جاتے ہیں، آپ کے کشف و کرامات کے درجنوں واقعات مشہور ہیں جن پر ہندو مسلم سب کا اعتقاد ہے۔

میری نظر میں امن و آشتی کا پیغام عام کرنے میں صوفی کلچرنے برصغیر پاک و ہند پر مثبت ترین اثرات مرتب کیے، شہباز قلندر جیسے صوفیائے کرام نے بقائے باہمی کے ایسے عمرانی معاہدے متعارف کروائے جسکا مقصد اپنے مذہبی عقائد پر کاربند رہتے ہوئے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طور پر زندگی گزارنااور تعاون کرنا یقینی بنانا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وادی سندھ میں تصوف، صبر و تحمل، برداشت، رواداری جیسے اعلیٰ اوصاف نے انتہاپسندی کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے جب کہ عوام ناس نے شہباز قلندرکو بجا طور پر سندھ وادی کا عظیم صوفی قرار دیا، لعل قلندر کی شخصیت میں ایسی خاص کشش تھی کہ لوگ آپ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے۔ آپ اپنے تبلیغی دوروں میں جہاں بھی گئے،آپ کے گرد حاجت مندوں کا ہجوم جمع ہوجاتا، یہ زمانے بھر کے ستائے ہوئے، بیمار اور مفلس انسان ہوتے جنھیں قلندر کے تسکین آمیز کلمات جینے کا حوصلہ دیتے تھے،آپ دکھی لوگوں کے آنسو پونچھتے، غمخواری فرماتے۔

لعل قلندر کے عقید تمندوں میں ہندوؤں کی بھی کثیر تعداد شامل ہے، آج بھی سیہون شریف درگاہ کے سجادہ نشینوں میں دو ہندو خاندان شامل ہیں اور عرس کے موقع پر ہندو زائرین مہندی کی تقریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ وادی سندھ کی ثقافت و تمدن کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے اور سندھی لوگوں کو دریائے سندھ سے بے حد عقیدت ہے، پندرہ سو سے دو ہزار قبل مسیح کے زمانے میں جب مقدس وید لکھے گئے تھے اْن میں بھی سندھو دریا کا ذکر ہے اور دریائے سندھ کو مہران، انڈس، سندھو بادشاہ، خواجہ خضر، جھولے لعل، ماتا، پالنہار جیسے مختلف ناموں اور حوالوں سے مقامی ہندو مسلمان یاد کرتے ہیں، مختلف لوک روایات اور لوک شاعری میں خواجہ خضر اور اڈیرو لال کودو دریا کے پیر قرار دیا گیا ہے جنھیں ہندو اور مسلمان دونوں مانتے ہیں۔

دریائے سندھ پر جل پوجا ہوتی ہے اور ہندو اور مسلمانوں کے چھوٹے بچے میٹھی روٹیاں پکا کر دریا میں ڈالتے ہیں اور معصومانہ گیت گاتے ہیں کہ ہم سے ناراض نہ ہونا، ہمیں ڈبونا نہیں بس اسی طرح ہی بہتے رہنا۔جس طرح دریائے سندھ صدیوں سے شمالی علاقوں سے کسی شیر کی مانند دھاڑتا ہوا نکلتا ہے اور سندھ کی سرزمین کو سبزے سے ڈھک کر پیاسی سرزمین کو سیراب کرتا ہے اسی طرح لعل شہباز قلندرکی اعلیٰ شخصیت نے سندھ باسیوں کو روحانی طور پر سیراب کیا،آپ کی کرامت کی بدولت پانی کا ایک چشمہ سیہون شریف کے قریب پہاڑوں کے بیچ بہتا ہے جہاں دور دراز سے لوگ شفا پانے کی غرض سے آکر مذہبی ہم آہنگی کا بھرپور مظاہرہ پیش کرتے ہیں۔

عام طور پر درگاہ کے تصور سے مسلمان پیر فقیرکے مدفون ہونے کا خیال آتا ہے لیکن اڈیرولال میں جھولے لعل سے منسوب ایک ہندو درگاہ بھی موجود ہے جسکے دروازے ہندو مسلمان سب کے لیے کھلے ہیں۔روایتی طور پر جھولے لعل کی تصویر کشی دریائے سندھ کی مقامی مچھلی پر سوار یا گھوڑے پر بیٹھے ہوئے کی جاتی ہے اور یہ عقیدہ عام ہے کہ بزرگ کا مزار جنھیں مسلمان شیخ طاہر اور خواجہ خضر کہتے ہیں اس جگہ پر قائم ہے جہاں وہ اور ان کا گھوڑا ایک کنویں میں غائب ہو گئے تھے۔

اْڈیرو لال میں واقع یہ مزار ایک مندر اور ایک مسلم طرزتعمیر کے مقبرے پر مشتمل ہے جب کہ اس کے سجادہ نشینوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں، شام کے وقت ہندو یہاں پوجا کرتے ہیں اور آرتی اتارتے ہیں جب کہ مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔ کوہستان کے علاقے تھانہ احمد خان میں شہباز لعل قلندر کے ہندو عقید تمندوں نے سندھی طرز تعمیر کی شاہکار درگاہ سیہون شریف کی ہوبہو کاپی تعمیر کی ہوئی ہے جسکا مقصد لعل قلندر کے پیغام محبت کو خراجِ عقیدت پیش کرناہے، ہندو درگاہ میں اسلامی کیلی گرافی اور ہندو مذہبی نشانات اور کلمات کے ذریعے مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیا گیا ہے۔

دہشتگردوں نے اپنی طرف سے تو امن و آشتی کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ محبت فاتح عالم کو کسی صورت شکست نہیں دی جاسکتی، شہباز قلندر کاپیغام اب پوری دنیا میں گونج رہا ہے، امن و سکون کے متلاشی مغرب و مشرق کے باشندے جاننا چاہ رہے ہیں کہ دہشتگردی کا نشانہ بننے والی درگاہ میں ایسی کیا خاص بات تھی۔ میں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ درگاہ سیہون شریف تصوف امن، رواداری اور برداشت کا ہی دوسرا نام ہے صدیوں سے علاقے بھر کے فقیروں اور عقیدت مندوں کے درمیان سماجی روابط کا بڑا ذریعہ ہے۔

میرے خیال میں انسان کی انسان سے محبت ہی امن و سکون کا باعث ہے جس کی جدوجہد کرنا ہی انسان کی روحانی ترقی کی منزل ہے، دنیا کے تمام دین دھرم مذاہب کی اخلاقی اقدار آپس میں بہت  مشابہت رکھتی ہیں، کوئی مذہب اپنے ماننے والوں کو معصوموں کا خون بہانے کا درس نہیں دیتا، سب دھرم شراب نوشی جیسی سماجی برائیوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں، کمزور کی مدد اور ظالم کا ہاتھ روکنے کا حکم دیتے ہیں، انسانی جان کی حرمت یقینی بنانے کے لیے تمام مذاہب کا احترام ایمان کا حصہ ہے۔

آج کے مادیت پرست دور میں “کچھ دو اور کچھ لو “کی بنیادوں پر معاملات طے کیے جاتے ہیں، کوئی شخص کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ اسے بدلے میں کیا ملے گا ؟ اس وقت تک انسان کا دل نیکی کی طرف مائل نہیں ہوتااور نہ کسی اور کی تکلیف کا احساس کرتا ہے جب تک فوری فائدہ ملنے کی توقع نہ ہو، انھی عوامل کی بناء پر معاشرہ بے سکونی کا شکار ہے جب کہ خود غرضی اور اپنے نفس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شہباز قلندر جیسی روحانی شخصیات عوام الناس کو زندگی گزارنے کے سنہرے اصول سے روشناس کراتی ہیں، لعل قلندر کی تعلیمات کیمطابق خلقِ خدا کی خدمت سے بڑھ کر کوئی نیکی کا عمل نہیں اوراذیت پہنچانے سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں، مال و دولت اور سماجی اسٹیٹس کی کوئی حیثیت نہیں، درگاہ میں امیر غریب سب برابر ہوتے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں پنپتے ہوئے انتہاپسندانہ نظریات کا زور توڑنے کے لیے لعل شہباز قلندر کا پیغامِ خدمت خلق عام کیا جائے۔

(مضمون نگار رکن قومی اسمبلی ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔