لال میری پت رکھیو بھلا

انیس باقر  جمعـء 24 فروری 2017
anisbaqar@hotmail.com

[email protected]

مذہبی موضوعات پر میرا قلم کم ہی اٹھتا ہے کیونکہ اس میں نہایت ناپ تول کے نکتے بھی لگانے ہوتے ہیں درستگی موضوعات کے علاوہ یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ بقول میر انیس کے ’’ہوتا ہے آبگینے سے نازک بشر کا دل‘‘ لہٰذا کہیں دل شکنی کسی بشر کی نہ ہوجائے البتہ اگر کسی کے ذہن میں کوئی تاریخی سقم ہو اور اصلاح ہوسکتی ہو تو بہتر ہے تاریخی اعتبار سے حضرت لال شہباز عثمان مروندی 538 میں مروند شہر میں پیدا ہوئے آپ کا شجرہ نسب حضرت امام جعفر صادقؓ سے ملتا ہے۔

آپ کے والد گرامی کا نام ابراہیم تھا جو ایک مرتبہ  روضہ امام حسینؓ  کی زیارت کے لیے کربلائے معلیٰ تشریف لے گئے تو آپ شادی شدہ نہ تھے۔ آپ کو بشارت ہوئی کہ شادی کرو اور شہباز کے پدر کہلاؤ۔ سو آپ نے شادی کی اور ایک اولاد پیدا ہوئی ، آپ کے والد بزرگوار آپ کو شہباز کے نام سے پکارا کرتے تھے جب آپ 7 برس کے ہوئے تو قرآن شریف حفظ کرچکے تھے (الشہباز)

عمر ذرا بڑھی تو دھمال کا شوق دل میں پیدا ہوا آپ جنگل کا رخ کرتے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ یاد الٰہی میں غرق ہوجاتے ۔آپ نہایت حسین وجمیل اوصاف اور جسم کے مالک تھے۔ روایت ہے کہ آپ ایک روز اپنے گھر کی چھت پر رقص الٰہی میں مصروف تھے تو ایک امیرزادی آپ پر فریفتہ ہوگئی اور شادی کے لیے اپنے گھر والوں سے اصرار کیا ، جب بات سمجھانے سے نہ بنی تو آپ بر دکھاوے کے لیے آمادہ ہوگئے، بال منڈوا لیے، داڑھی مونچھ یہاں تک کہ ابرو بھی کٹوا لی۔ جسم پر راکھ پوت لی اور پھر اپنا جلوہ دکھایا، اس پر لڑکی نے انکار کیا، پھر آپ نے فرمایا یہ سب مادی دنیا کے طلبگار ہیں اور آپ یاد الٰہی میں غرق ہوتے گئے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو کرامات سے نوازا تھا اگر میں کتابوں سے کرامات کے قصائص جمع کروں تو کتابیں بھر جائیں۔ سیہون شریف کے بزرگوں میں نسل در نسل جو روایات چلی آرہی ہیں ان میں صرف الٹا قلعہ اور بودلیے بہار کی باتیں نہیں بلکہ وہ مقام بھی سیہون شریف میں موجود ہیں جس پر سیہون شریف کے ساکنان چار مینار کی پہاڑی کے متعلق بتاتے ہیں اگر آپ چند میل کے فاصلے پر اس مقام کی پہاڑی پر جائیں تو وہاں سے ایک بڑا غار ہے جہاں آپ اکثر جاتے تھے۔

سیہون دادو اور اردگرد کے گاؤں دیہات میں ہر مذہب کے عقیدت مند آپ کے شیدائی ہیں۔ آپ کی تعلیمات میں انسان دوستی اور قرب خداوندی بنیادی عنصر ہے، اس غار جہاں سے حضرت لال شہباز عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتے تھے، اب مشرق میں اس پہاڑی اور غار کے علاقے میں ایک گنبد ہے جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یہ تاریخی ورثہ ہے اگر اس کی مرمت کی جائے تو زائرین اور ٹورسٹ کی آمد میں دگنا اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ سیہون شریف میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک مزار ہے جو لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

سیہون کے علاقے میں قلندر نے جہاں وہ چلہ کاٹتے تھے وہاں ایک باغ بھی لگایا تھا۔ حضرت لعل شہباز قلندر کا ایک قافلہ تھا جس میں نہایت جلیل القدر بزرگ آپ کے ہمراہ ہوتے تھے ہر ایک بزرگ نے اپنی اپنی جگہ عبادت خداوندی کا علاقہ طے کیا۔

حضرت جلال بخاری سرخ پوش، بابا فرید شکر گنج اور بہاؤالدین ذکریا اور حضرت لعل شہباز اکثر ایک ساتھ کبھی الگ الگ تبلیغ دین کے لیے سفر کرتے تھے ان بزرگوں نے آج سے سات سو برس قبل دین اسلام کا چراغ اس حصے میں منور کیا اور اپنے شعار، کردار، عمل، اقوال اور کرامات کے ذریعے کلام ربانی کو متعارف کرایا۔ کیونکہ دین اسلام قبروں کو مسمار کرنے یا خودکش دھماکوں سے نہیں پھیلا، بعض شرپسندوں نے اس راستے کو اپنا کر دین اسلام کی بیخ کنی کا راستہ اختیار کیا، سلامتی اور رحمت کی آواز کو موت کا پیغام بناکر دنیا کے سامنے پیش کیا، اسی لیے ٹرمپ جیسے حاکموں کو یہ موقع ملا کہ وہ مسلمانوں کو دہشت گردوں کا مذہب قرار دے رہے ہیں اور ان لوگوں کی پذیرائی میں مصروف ہیں جو دین اسلام کے بزرگوں اور اسلاف کی قبروں کے نشان مٹانے میں سرگرداں ہیں.

عراق اور شام میں ایسی قوتوں کی حمایت جاری رکھی جو اولیائے کرام اور انبیا کی یادگاروں کو مٹانے میں مصروف تھے یہ تو کہیے کہ اب داعش کا موصل میں بھی انجام قریب ہے اور جو کچھ سیہون شریف میں 16 فروری کو ہوا وہ نہ کسی فرنگی دور میں ہوا اور نہ ہی کسی ہندو کی حکومت میں البتہ حضرت لال شہباز قلندر کے دور میں ان کے ایک طالب کے ساتھ اس دور کے راجہ نے ظلم کیا جس کا بدلہ لال شہباز نے قلعہ کو الٹ کردے دیا جو آج بھی ایک داستان ہے (مورخ جلیل سیوہانی) ایسا ہی عمل کا نتیجہ سیہون سے پی کے (P.K) کے سرحدی علاقوں سے بھی موصول ہو رہی ہے۔

فوج نے بہ حکم خدا اس ظلم کے خلاف اعلان جنگ کردیا اور خود اسی رات جب یہ دھماکا ہوا تو صرف چند گھنٹوں بعد اسی شہر کے غمگین لوگوں نے نوبت بجا کر 800 سال قبل سے بجنے والی نوبت اور ڈھول کی آواز کو بند ہونے سے بچالیا یہ تھا کمال اس بزرگ کی تحریک کا جس کا کسی فرقے گروہ سے رابطہ نہیں بلکہ خالق کی خوشنودی مقصود ہے، بعض حلقے دھمال میں عورتوں کی آمد پر اعتراض کر رہے ہیں۔

یہ کوئی وحشی ناچ نہیں بلکہ سیہون کے بم دھماکے نے دنیا بھر کی آنکھوں کو اشکبار کردیا جس پر روسی اور چینی قیادت نے زبردست ردعمل کا اظہار کیا اور کیتھولک پوپ فرانسس نے بھی آواز اٹھائی جس سے محسوس ہو رہا ہے کہ لال شہباز قلندر کے روضے کا دھماکا ایک تاریخی موڑ ہے فوج آپریشن تو کر رہی ہے مگر یہ سمجھ سے بالاتر ہے جو لوگ فکری محاذ پر ان دھماکوں پر منفی سوچ نہیں رکھتے ان کے ایک قسم کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں، ان کی آواز کو کیوں کر نہیں دبایا جا رہا ہے، دوسرے کے عقیدے پر تنقید یہ دین اسلام کی راہ ہرگز نہیں خصوصیت سے ایسے حالات میں جب کہ مشرق اوسط میں تباہ کن کشت و خون سے گزرا شام، عراق، لیبیا سے لاکھوں لوگوں کو گزرنا پڑا مگر کسی مسلم ملک نے ان کو پناہ نہ دی، ہزاروں بحری سفر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے ۔شہر کے شہر اجڑ گئے عقیدوں اور مسالک کے اختلاف نے ان جنگوں کا آغاز کیا۔

پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات بڑے نازک دور کا پتا دے رہے ہیں کیونکہ پاکستان اب سی پیک کی راہ پر گامزن ہے اور ہر قسم کی بدنظمی ایک عالمی بحران کی طرف پاکستان کو دھکیل رہے ہیں، ظاہر ہے یہ ملک کی بقا کا مسئلہ ہے ملک کے نادان دوست اپنی تحریروں اور تقریروں میں ہم خیالوں کی تعداد بڑھانے میں مصروف ہیں ، ظاہر ہے یہ عمل ابتدائی بدامنی کی چابی ہے کیونکہ اختلاف رائے اتفاق رائے کا ذریعہ ہے مگر اختلاف رائے میں اگر عقائد کو داخل کردیا جائے تو یہ بدامنی کی پہلی سیڑھی ہے یہی وہ سیڑھیاں تھیں جن پر چل کر شام تاراج ہوا اور جنگ کرنے والے یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ قبروں، مزاروں اور قدیم مقبروں کو ڈھا کر اسلام کی خدمت کر رہے ہیں.

درحقیقت یہ خیالات پاکستان میں بھی پروان چڑھے مگر قبل اس کے کہ کالعدم تنظیمیں اپنا وار کرتیں ضرب عضب نے ان کا عمل بے اثر کردیا ، پاکستان نے سوویت یونین کی افغانستان سے بے دخلی میں امریکا کا ساتھ دیا مگر آج وہ سی پیک میں ہمارا کسٹمر ہے، سیاسی صورتحال یکسر بدل چکی ہے اور رفتہ رفتہ ملک کے مکینوں کو بھی اپنے خیال میں اعتدال پیدا کرنا ہوگا دوسروں کے عقائد کو کچلنے کی ہر تدبیر ملک و ملت کے لیے ضرر رساں ہوگی۔

پاکستان کو ترقی پسند اور اعتدال پسند ملک کی حیثیت سے ابھرنے کے راستے کو چننا ضروری ہے اولیائے کرام کے مزارات نہ صرف عقائد کی گہما گہمی کا مظہر ہیں بلکہ مقامی ٹورازم اور کاروبار کی موجودگی اور مسکین لوگوں کے لیے خوراک کا ذریعہ اور حکومت کو بھی وقف کے لیے زرکثیر کا ذریعہ سیہون شریف کی درگاہ لوگوں کو روحانی اور مادی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور پورے شہر اور آس پاس کے گاؤں کی ضروریات درگاہ کے زائرین سے ہی پوری ہوتی ہیں، ریسٹ ہاؤس، گیسٹ ہاؤس، سرائے ہوٹل اسی درگاہ کا تحفہ ہے اور غریب و بے سہارا لوگوں کو لنگر فیض یاب کرتا ہے۔

درگاہ ہر وقت قصیدہ خواں، نعت خواں، نوحہ خواں حضرات سے پر رہتا ہے، ہر عقیدے کے لوگ مرادیں ماننے اس در پر آتے ہیں جن میں ہندو مسلم، سکھ عیسائی بلاتفریق لال کے عقیدت مند ہیں جو بتدریج اسلامی شعار سے متاثر ہوجاتے ہیں مگر خودکش دھماکے نے سیہون شریف کی فضا بدل ڈالی دھمال پر پابندی اور دھمال کا صحن خون میں ڈوب گیا مگر عقیدت مندوں نے چند گھنٹوں بعد ہی دوبارہ دھمال شروع کردیا مگر اب جو لوگ آئے وہ ردعمل کے طور پر اور خوف کو توڑنے آئے دھمال کرنے والے نوبت بجانے والے گھنٹے کی آواز کے ساتھ صرف ایک آواز جو ٹی وی سے آرہی تھی یا حسین اور یا امام زمانہ سوگ کا یہ منظر قابل دید تھا اور دوسرے روز کراچی کے شاعر و ادیب بھی اس دھمال میں شامل ہوئے اور شیما کرمانی جو بھارتی ناٹیم کی رقاصہ ہیں انھوں نے بھی دھمال کیا۔ زائرین کا ایک بار پھر تانتا بندھا رہا اور لوگ اپنی اپنی مرادیں لے کر آتے رہے اور یہ صدا بلند ہوتی رہی ’’لال میری پت رکھیو بھلا۔۔۔۔!‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔