افغانستان اور ہم

علی احمد ڈھلوں  جمعـء 24 فروری 2017
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

عالمی طاقت ہونے کے ناتے امریکا کے ساتھ تعلقات ہمارے لیے اہم ہیں۔ روس کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ چین چونکہ پڑوسی اور ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے، اسٹرٹیجک پارٹنر ہونے کے ساتھ ساتھ اب وہ اہم اقتصادی پارٹنر بھی بن گیا ہے، اس لیے اس کی حیثیت اور اہمیت بھی غیرمعمولی ہے۔ حریف اور سائز میں کئی گنا بڑا پڑوسی ہونے کے ناتے ہندوستان کے معاملات بھی ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہونے چاہئیں۔

ایران بھی اہم ترین پڑوسی ہے لیکن افغانستان بہت چھوٹا پڑوسی ہونے کے باوجود بعض حوالوں سے ہمارے لیے ان سب سے اہم ہوجاتا ہے۔پہلی وجہ یہ ہے کہ مغربی دنیا ہمیں زیادہ تر افغانستان کے آئینے سے دیکھتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم گزشتہ برسوں میں سیاسی‘ سماجی اور تزویراتی حوالوں سے افغانستان کے ساتھ یوں نتھی ہوگئے ہیں کہ اس کے حالات سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے حالات اور تعلقات کا ہمارے اور امریکا کے تعلقات پر بھی اثرپڑتا ہے‘ ہمارے اور چین کے تعلقات پر بھی‘ ہمارے اور انڈیا کے تعلقات پر بھی‘ ہمارے اور روس کے تعلقات پر بھی اور ہمارے اور ایران کے تعلقات پر بھی۔ اسی طرح پاکستان نے کسی دوسرے ملک میں اپنے آپ کو اتنا ملوث نہیں کیا جتنا افغانستان میں کیا بلکہ اس کی وجہ سے اپنے سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کو بھی تباہ کیا۔ جتنی مالی‘ جانی اور سیاسی سرمایہ کاری پاکستان نے افغانستان میں کی ہے‘ نہ پاکستان نے کہیں اور کی ہے اور نہ کسی اور ملک نے افغانستان میں کی ہے۔لیکن اس کے باوجود افغانستان نے ہمیں کیا دیا؟ دھوکا، ذلت، رسوائی اور اقوام عالم میں تنہائی؟

1979ء کے اواخر میں سابق سوویت یونین کی سرخ افواج افغانستان پر قابض ہوئیں تو وہاں سے مجبوری کے عالم میں گھر بار چھوڑ کر چلے آنے والے چالیس لاکھ کے قریب مہاجرین کو پاکستان نے اپنی پناہ میں رکھا۔ تین دہائیاں گزر گئی ہیں ہمارا ملک مسلسل ان کا بوجھ برداشت کیے جا رہا ہے۔

افغان قوم نے روسی قبضے کے خلاف آزادی کی جو جنگ لڑی وہ پاکستان کے براہ راست تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ سولہ برس قبل نائن الیون کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر اپنی اور نیٹو کی افواج اتار لینے کی ٹھان لی تو پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے غیرمشروط تعاون میں ایک لمحہ دیر نہ کی۔ اس وقت وہ اگر امریکیوں سے ایک دو اہم شرائط بھی منوا لیتا تو ہمیں موجودہ حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

بہرکیف افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات محض روحانی اور سیاسی نہیں۔ اس سر زمین کے ساتھ ہمارے علاقے کا رابطہ صدیوں سے باہمی، نسلی، سماجی اور تجارتی بنیادوں پر چلا آ رہا ہے۔ آج  کے افغانستان کی سب سے زیادہ تجارت پاکستان کے ساتھ ہے۔ سمندری راستوں سے محروم اس ملک تک ضرورت کی تمام اشیاء ارض پاکستان سے ہو کر گزرتی ہوئی پہنچتی ہیں۔ دونوں ملکوں کی سالانہ تجارت کا حجم دو ارب ڈالر سے زائد ہے۔

پاکستان کی زرخیز زمینوں پر اگنے والی گندم، چاول اور بنیادی غذائی اجناس کی دوسری فصلیں صرف قدیم آریائی قوموں کے لیے باعث کشش نہ تھیں، موجودہ افغانستان کے باشندے بھی جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کی خاطر پاکستان سے قانونی اور غیر قانونی دونوں ذرایع سے درآمد شدہ اشیائے خورو نوش کے محتاج ہیں۔ وہاں سے بھی میٹھے رسیلے پھل اور میوہ جات ہمارے ملک کے اندر آتے ہیں لیکن پاکستان سے جانے والی اجناس کا حجم کہیں زیادہ ہے۔

لیکن آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے، افغانستان نے بھارت کی جانب اپنا جھکاؤ اس قدر کر لیا ہے کہ بھارتی حکومت مسلم ملک افغانستان کو اپنا چھوٹا بھائی سمجھتی ہے اور یہ دونوں ملک مل کر آج پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ افغانستان اور افغانوں نے پاکستان کے تمام احسانات کو بھلا دیا ہے۔

افغانستان بھارت تجارت کا حجم 10ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ساری تجارت پاکستان کے واہگہ بارڈر کے راستے سے کی جا رہی ہے۔ اور اگر پاکستان اس راستے کو کسی وجہ سے مستقل بند کرنے کا ارادہ بھی کرتا ہے تو پاکستان کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ پاکستانی قوم اس مخمصے میں پھنسی ہوئی ہے کہ افغانستان کا ہم نے کیا بگاڑا ہے کہ اُس کا مکمل جھکاؤ بھارت کی طرف ہو چکا ہے۔ اور ہمارے حکمران اس قدر بھارتی گرداب میں پھنس چکے ہیں کہ وہ کسی فورم پر بھی بھارت کو آنکھیں دکھانے سے ڈرتے ہیں۔

اب لاہور اور سیہون شریف پر حملوں کے بعد پاکستان کے سپہ سالار کی جانب سے اشرف غنی جمع عبداللہ عبداللہ کی کابل انتظامیہ کو 76 افراد اور ان کے خفیہ ٹھکانوں کی فہرست دی گئی ، جواب میں دوسری جانب سے ہمارے ہاتھوں میں بھی 85 کے ناموں اور مقامات کی فہرست تھما دی گئی ہے۔ اور یہ سب کچھ بھارتی ایماء پر کیا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر بھارت کا رسوخ وہاں بہت بڑھ گیا ہے تو یہ آج کی بات نہیں۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد وہاں ظاہر شاہ کی حکومت پنڈت نہرو کے ہاتھوں میں کھیلتی تھی۔ افغانستان واحد ملک تھا جس نے ہماری اقوام متحدہ کی رکنیت کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔لیکن پھر بھی پاکستان نے بڑے ہونے کا ثبوت دیا۔کیا افغان عوام کو یہ سب کچھ یاد نہیں؟

آج افغانستا ن کی جانب سے پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں کی جا رہی ہیں  تو افغانستان کے عوام کیوں خاموش ہیں، کیوں نہیں پاکستانی عوام کی مدد کرتے،  کیوں نہیں افغان عوام پاکستانی مسلمانوں کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑے  ہوتے؟ کہ جس عوام نے کل آپ کی مدد کی تھی آپ کی جانیں اور بچوں کی عزت بچا کر اپنی جانیں قربان کی تھیں، آج پاکستان پہ برا وقت آیا ہے اور آپ خاموش ہیں، ایک لفظ بھی آپ پاکستان کی مدد کے لیے نہیں بولتے۔ مجھے یاد ہے جب روس افغانستان پر قابض تھا اور افغانستان کی مدد کرنے کے لیے کوئی آگے نہیں آ رہا تھا تو ایسے وقت میں پاکستان نے اُس کا ساتھ دیا اور روس کو شکست ہوئی، بقول شاعر

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

چلیں یہ بھی مان لیا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین 2430 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور اس کی حفاظت ممکن نہیں۔ مگر جہاں تک ممکن ہو سکے وہاں تک تو دہشتگردوں کے ہاتھ روکے جا سکتے ہیں ناں۔ اس سرحد میں تجارت اور دونوں ممالک کے شہریوں کی آمدورفت کے لیے 64 سے زائد کراسنگ پوائنٹس ہیں۔ جن میں 16 کو قانونی حیثیت حاصل ہے  جہاں سے باقاعدہ تجارت اور لوگوں کی آمدروفت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں غیر روایتی راستے بھی ہیں جہاں سے آمدورفت کے لیے لوگ پیدل یا خچروں کا استعمال کرتے ہیں۔

یہ امر ذہن نشین رہے کہ پاکستان 2008ء سے بارڈر مینجمنٹ کا ایک تسلسل کے ساتھ افغان حکومت اور نیٹو حکام سے مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان میں ایک ہزار سے زائد چوکیاں قائم  ہیں جب کہ افغان حکومت نے سو سے بھی کم چوکیاں قائم کی ہیں۔ اصل مسئلہ سرحد سے دہشتگردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے فول پروف انتظامات کرنا ہے۔ اس کے لیے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ اگر الزام اور جوابی الزام کی موجودہ کشیدہ صورت حال جاری رہی تو دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی خلیج مزید عمیق ہوسکتی ہے۔

افغان حکام کو اس امر کا احساس ہونا چاہیے کہ حالتِ امن میں بھی پاکستانی تعاون کے بغیر اس کے شہریوں کی گزربسر ممکن نہیں۔ میرے خیال میں اس حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیں غلط سمت میں لے کر جا رہی ہے ۔ پانامہ کیس اور دیگر کرپشن کیسز میں اُلجھی ہوئی اس حکومت کو علم ہی نہیں ہے کہ اس کے گردو نواح میں کس قدر دشمن سرگرم ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے نیٹ ورک پاکستان میں پھیلا رہے ہیں۔ آج بھی لاہور جیسے شہر میں دو دھماکوں کی گونج سنائی دے رہی ہے مگر حکمران اپنی مستی میں ہیں۔نہ تو یہ افغانستان کے ساتھ تجارت ختم کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں شٹ اپ کال دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔

پاکستان اگر آج افغانستان کے ساتھ بھارتی ٹریڈنگ کے لیے راستہ فراہم کرنے سے انکار کر دے تو دونوں ممالک کو ہوش آجائے گا۔ مگر کیا کریں ہم اس قدر کمزور کر دیے گئے ہیں کہ اپنے حق کے لیے آواز اُٹھانا تودور کی بات اپنے ملک میں ہونے والی دہشتگردی پر عالمی فورم میں آواز بھی نہیں اُٹھا سکتے۔ اس لیے ہمیں افغانستان نومور کی آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کئی چیزیں کلئیر ہو سکیں۔ ورنہ ہم یونہی دوست نما دشمن پالتے رہیں گے۔ بقول شاعر

سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔