کیا امریکا اور چین میں جنگ ہونے کو ہے؟

سید بابر علی / راجن مینن  اتوار 26 فروری 2017
چین اور امریکا کے درمیان ہونے والے فوجی تنازعے میں دونوں فریق بات کو بڑھاوا دینے چاہتے ہیں۔ فوٹو : فائل

چین اور امریکا کے درمیان ہونے والے فوجی تنازعے میں دونوں فریق بات کو بڑھاوا دینے چاہتے ہیں۔ فوٹو : فائل

راج مینن Anne and Bernard Spitzer چیئر رکھنے والے ممتاز امریکی پولیٹیکل سائنٹسٹ ہیں۔ وہ سٹی یونیورسٹی نیویارک کے Powell اسکول مں۔ بین الاقوامی تعلقات عامہ کے پروفیسر ہیں۔ راج مینن کولمبیا یونیورسٹی کے Saltzman انسٹی ٹیوٹ آف وار اینڈ پیس کے سنیئر ریسرچ فولص بھی ہیں۔

جنگ و امن اور بین الاقوامی تعلقات کے موضوع پر ان کی سات کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، جن میں ’ سوویت پاور اینڈ دی تھرڈ ورلڈ‘،’لیمٹس ٹو سوویت پاور‘،’Russia, the Caucasus, and Central Asia‘، ’انرجی اینڈ کونفلیکٹ ان سینٹرل ایشیا اینڈ دی کوکاسس‘،’دی اینڈ آف الائنسز‘، ’کونفلیکٹ ان یوکرائن؛ دی ان ونڈنگ آف دی پوسٹ کولڈ وار آرڈر‘،’دی کونسیٹ آف سی ہیومینٹرین انٹر وینشن‘ شامل ہیں۔ جنگ اور بین الاقوامی تعلقات پر ان کے مضامین اور تجزیے ممتاز اخبارات اور جرائد میں شایع ہوتے رہتے ہیں۔ زیرنظر مضمون میں انہوں نے امریکا اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگ کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

چین قائم کی تو قوم پرست نقشے پر ڈیموکریشن لائن کو برقرار رکھا، جس کے تحت چین جنوبی چینی سمندر کے اہم حصوں پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس موقف پر بیجنگ کی پالیسی پر نیوی گیشن (بحری جہازوں کے گزرنے) اور اوور فلائٹ (ہوائی حدود کے استعمال) کے حقوق پر دوسرے ممالک کے تحفظات ہیں کہ کیا چین اسی وجہ سے زیادہ سے زیادہ طاقت ور ہوتا جا رہا ہے؟ یہ تحفظات بھی ہیں کہ ہر سال5کھرب ڈالر مالیت کا سامان جنوبی چینی سمندر سے گزرتا ہے۔

چین اور دیگر 167 ریاستوں نے 1994میں اقوام متحدہ کے کنوینشن آن دی لا آف دی سی ( یو این سی ایل او ایس) کے تحت ہونے والے ایکسکلوزو اکنامک زون (ای زی زی) معاہدے پر دستخط کیے، تاہم اس معاہدے میں امریکا شامل نہیں تھا۔ اس معاہدے کی رو سے چین کو اپنے ساحل سے بارہ ناٹیکل میل کی حدود میں خود مختاری حاصل ہے۔ ای زی زی کے تحت چین کو ٹیریٹوریل (علاقائی) سمندر میں دو سو ناٹیکل میل تک ماہی گیری اور آبی وسائل استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، جب کہ وہ دیگر ریاستوں کو زمینی اور فضائی راستہ دینے کو یقینی بنانے کا پابند ہے۔

یو این سی ایل او ایس کے تحت ریاست کو ای زی زی کنٹرول زون میں مصنوعی جزائر، تنصیبات اور تعمیرات کرنے اور استعمال کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ یہ حق موجودہ صورت حال میں ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ ان سب کو زیادہ پیچیدہ جو بات بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ چینی جنوبی سمندروں میں زیادہ تر جزائر اور کھاڑیوں کو جو چین کو ای زی زی کی بنیاد پر فراہم کی گئی ان پر یو این سی ایل او ایس کے تحت دوسرے ممالک بھی دعویٰ کر رہے ہیں۔ اور اسی بات نے ان جزائر پر چین کی فوجی تعمیراتی پراجیکٹس کی قانونی حیثیت پر سوالات پیدا کردیے ہیں۔ اسی طرح توانائی کے وسائل، ماہی گیری کے حقوق اور زمینی ملکیت پر بھی دعویٰ کیے جارہے ہیں۔

اس پر بھی ہارڈ اور سافٹ دو نظریے ہیں۔ بیجنگ کا دعویٰ ہے اس نے جنوبی چینی سمندر میں بحری اور فضائی آمدورفت کو برقرار رکھا ہوا ہے، تاہم یہ حق جنگی بحری اور ہوائی جہازوں کو حاصل نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں جنگی جہازوں نے اس حدود کے قریب پروازیں کی ہیں اور امریکی جنگی جہاز بھی اس خطے میں چینی حدود کے باہر پروازیں کرتے ہیں۔ 2015 میں بھی چینی جنگی جہازوں نے اسپارٹلے جزائر کے سوبی ریف میں امریکی جہاز کو وارننگ دی تھی۔ اس جزیرے پر چین اور تائیوان دونوں ہی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں بھی چینی بحریہ نے ایک زیرآب ڈرون کو پکڑلیا تھا جسے فلپائن کے ساحل کے قریب موجود امریکی جنگی جہازBowditch سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ تاہم بعد میں اس جہاز کو چھوڑ دیا گیا۔

اسی نوعیت کے واقعات 2000 ,2001 ,2002 ,2009 ,2013اور 2014میں بھی ہوئے۔ 2001 میں ہنین جزیرے کی سات سو میل کی حدود میں چین کی جانب سے امریکی بحری جہاز کے جاسوسی پر مامور جہاز EP3کو چین میں زبردستی ایمرجینسی لینڈنگ کرائی گئی، جس پر عملے کے 24ارکان سوار تھے۔ اس واقعے نے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی پیدا کردی تھی۔ چین نے عملے کو گیارہ دن بعد اور جہاز EP3 کو کھول کر تین ماہ بعد ٹکڑوں میں واپس کیا تھا۔

جنوبی چینی سمندر میں چین کی اجارہ داری کچھ نئی نہیں ہے۔ چین کا موقف ان پانیوں میں اپنے کم زور پڑوسیوں کے لیے بہت سخت رہا ہے۔ 1974میں اس کی افواج نے پراسیل/زیشا جزائر سے جنوبی ویت نام کی فوج کو بے دخل کردیا تھا۔ بیجنگ ان جزائر پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ابھی تک وہاں کا کنٹرول نہیں سنبھالا ہے۔ چین فضائی، بحری گشت اور سخت موقف کے ساتھ اسپارٹلے/نینشا جزائر پر بھی ملکیت کا دعوے دار ہے، جسے تائیوان، ویت نام، اور خطے کے دیگر ممالک مسترد کرتے ہیں۔ 1988میں چین نے ویت نام کے زیرانتظام جانسن ریف پر بھی زبردستی قبضہ کرلیا تھا اور یہ اسپارٹلے جزائر میں اس کا ساتواں قبضہ تھا۔

جنوب مشرقی ممالک میں صرف ویت نام ہی چین کے برے رویے کا شکار ملک نہیں ہے۔ فلپائن اور چین دونوں ممالک فلپائن کے لوزون جزیرے سے124ناٹیکل میل فاصلے پر موجود Panatag (Scarborough) Shoal /Huangyang جزیرے کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ 2012 میں چین اس پر قابض ہوا، جب کہ 1995میں بھی چین نے فلپائن کے پیلاوان جزیرے سے 129ناٹیکل میل کے فاصلے پر موجودPanganiban (aka Mischief Reef)ریف سے فلپائن کو بے دخل کردیا تھا۔ 2016 میں جب ہیگ کی ایک بین الاقوامی ثالثی عدالت نے Mischief Reef اور Scarborough Shoal جزیرے پر فلپائن کی حیثیت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تو چین کی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا، جب کہ چینی وزیراعظم ژی جن پنگ نے وزارت خارجہ کے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی چینی سمندر زمانہ قدیم سے ہی چین کی ملکیت ہیں۔

چین ان جزائر پر فوجی تعمیرات میں مصروف ہے جس میں بڑے پیمانے پر مصنوعی جزائر، بندرگاہیں، فوجی ہوائی اڈے، گودام اور فوجی جہازوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہینگرز شامل ہیں، جب کہ چین نے ان میں سے کچھ جزائر پرراڈار سسٹمز، اینٹی ایئر کرافٹ میزائل اور اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹمٕ بھی نصب کررکھا ہے۔

اور یہی وہ پراجیکٹس ہیں جن کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ انہیں بند کردیں گے، لیکن چین کی جنوبی چینی سمندر میں ان سرگرمیوں کو جاری رکھنے یا مستقل کرنے کے حوالے سے چین کے ارادوں کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔ چینی قیادت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے بیانات اور دھمکیوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے واضح کرچکی ہے کہ ’جنوبی چینی سمندر کے تنازعے میں امریکا فریق نہیں ہے اور اسے چاہیے کہ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جنوبی چینی سمندر میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے۔‘

قوم پرست چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے ٹرمپ کے دعویٰ کا تمسخر اڑاتے ہوئے اسے نتائج بھگتنے کی دھمکی دیتے ہوئے لکھا ہے ’امریکا کے پاس جنوبی چینی سمندر پر غالب ہونے کی طاقت نہیں ہے۔ اگر ٹیلر ایک بڑی نیوکلیئر طاقت کو اس کے اپنے علاقے سے بے دخل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ پہلے نیوکلیئر اسٹریٹیجی کے بارے میں اچھی طرح پڑھ لیں اور کیا انتظامیہ کو فوجی کارروائی کے اس دھمکی آمیز بیان کو فالو کرنا چاہیے تھا۔‘

گلوبل ٹائمز مزید لکھتا ہے کہ ’دونوں طرف فوجی تصادم کی بھرپور تیاری ہے‘ اعلیٰ چینی قیادت یہ بات واضح کرچکی ہے کہ بیجنگ جنوبی چینی سمندر میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس تنازعے کا حل چین اور اس کے پڑوسی ممالک کو نکالنا ہے اور واشنگٹن کے بہتر یہی ہے وہ اس معاملے میں اپنی ٹانگ مت اڑائے۔ دیکھا جائے تو چین کا دفاعی بجٹ امریکا کے دفاعی بجٹ کا بہ مشکل ایک چوتھائی ہوگا جب کہ امریکا کی بحری اور فضائی افواج چین کی نسبت زیادہ جدید اور ہلاکت خیز آلات سے لیس ہیں۔ تاہم اس کے باوجود چین کی جنوبی چینی سمندر پر دعوے کی قانونی صحت اور تاریخی صداقت پر بحث واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں موجود تلخی کو مزید بڑھا رہی ہے۔

اس میں اسٹریٹیجکلی اہم نقطہ یہ ہے کہ یہ علاقے امریکا سے ہزاروں میل کی دوری پر ہیں۔ چین اب تک طاقت ور تاریخی اور قوم پرستی کی یادوں کے ساتھ اپنی قومی شناخت اور وقار قائم رکھے ہوئے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ مغرب کے ہاتھوں دو صدیوں تک رسوا ہونے والا چین اب دنیا مںں تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔

1990سے اب تک چین 30ارب ڈالر کا جدید روسی فوجی ساز و سامان خرید چکا ہے اور اپنے طور پر ایڈوانسڈ ویپنری (مختلف قسم کے ہتھیاروں کا مجموعہ) کی تعمیر اور ڈیولپمنٹ کی گنجائش رکھتا ہے۔ چین اپنی فوجی حکمت عملی سے جنوبی چینی سمندر میں ہونے والے کسی بھی تصادم میں امریکی بحریہ کو بڑا نقصان پہنچاسکتا ہے، کیوں کہ اس کا محل وقو ع بھی اس کے اتحادی کے طور پر کام کرتا ہے۔ آخر میں بیجنگ وہاں ہار سکتا ہے، لیکن امریکا کو اس فتح کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، اور یہ ’فتح‘ کس نوعیت کی ہوگی؟

اگر ایک بار جنگ شروع ہوگئی تو پھر دونوں ممالک کے صدور کا پیچھے ہٹنا بہت مشکل ہوگا۔ ژی جن پنگ خود کو ٹرمپ کی طرح ایک مضبوط شخص قرار دیتے ہیں اور وہ اندرون ملک اور بیرون ملک اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے اہل ہیں۔ اور جب چینی سرزمین اور اس کے وقار کے دفاع کی بات ہو تو وہ پیچھے نہ ہٹ کر انہیں اپنے اس تاثر کو برقرار رکھنا ضروری سمجھیں گے۔ ژی کو اسی طرح ایک اور مسئلے کا سامنا ہے۔

قوم پرستی ملک میں ماؤازم کو بہت پہلے ایک طرف کرچکی ہے۔ اگر جن پنگ اور ان کے ساتھی ٹرمپ کے چیلنجز کے سامنے پست ہمت ثابت ہوئے تو نہ صرف انہیں اپنی قانونی حیثیت کھونے کا خطرہ لاحق ہوگا، بل کہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کے امکانات بھی ہیں اور سوشل میڈیا کے دور میں ایسا بہت جلد ہوسکتا ہے۔ اور یہ چین جیسے سرکش ملک میں ایک ممنوع خیال ہے۔ یقیناً چین کی حکم راں جماعت اس خطرے کو بھی سمجھتی ہے کہ قابو سے باہر ہونے والی قوم پرستی سے اس کے اقتدار کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

چینی اخبار پیپلز ڈیلی نے حال ہی میں بین الاقوامی ثالثی عدالت کی جانب سے فلپائن کے حق میں ہونے والے فیصلے پر سوشل میڈیافورمز اور سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کی اس خلاف عقل حب الوطنی کی مذمت کی۔ خارجہ پالیسی کو پیلن بار عوامی ردعمل سے دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر 2005 میں ملک بھر میں ہونے والے جاپان مخالف مظاہروں میں جاپانی نصابی کتب کے خلاف اشتعال انگیزی پیدا کی گئی کہ جاپان نے ان کتب میں دوسری جنگ عظیم کے دوران چین پر کیے گیے جاپانی ظلم وستم کے ناخوش گوار حصے حذف کردیے۔ یہ مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے اور صرف شنگھائی ہی میں سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والے دس ہزار سے زاید مشتعل مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدا میں قیادت نے ان ریلیوں کی حمایت کی لیکن بعد میں وہ انہیں قابو کرنے میں ناکام رہے۔

٭ کیا ہم جنوبی چینی سمندر میں جنگ کرنے جا رہے ہیں؟
چین کے خلاف چڑھائی کی صورت میں صدر ٹرمپ خود اسی طرح کی صورت حال کا شکار ہوسکتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی خود کو بہت مضبوط قرار دیتے ہوئے امریکا کا کھویا ہوا وقار واپس لانے اور اسے دوبارہ عظیم بنانے کا وعدہ کرچکے ہیں۔ اُن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اُن کی خود پرستی اور جیت کا تصور ہے جو انہیں ٹوئٹر کے ذریعے اشتعال انگیز پیغامات بھیجنے سے روکنے میں بھی ناکام ہے۔ ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ کیسے ایک صدر اپنے قریبی اتحادی ملک آسٹریلیا کے وزیراعظم کو فون کال کرکے غیرمہذب انداز میں دھمکی آمیز رویہ اختیار کرے۔

چین اور امریکا کے درمیان ہونے والے فوجی تنازعے میں دونوں فریق بات کو بڑھاوا دینے چاہتے ہیں، جو کہ ایٹمی جنگ کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے چینی برآمدات پر 45 فی صد ٹیرف لاگو کردیا ہے اور وہ متواتر چین کی مذمت کرتے ہوئے اس پر کرنسی میں ہیر پھیر اور امریکیوں کی ملازمتیں چرانے جیسے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، ان بیانات نے بھی دنیا کے دو طاقت ور ترین ملکوں کے درمیان تناؤ کی فضا پیدا کردی ہے۔

دسمبر میں تائیوانی صدرTsai Ing-wen کے ساتھ ہونے والی ٹیلے فونک گفت گو نے صورت حال کو مزید خراب کردیا ہے، جس نے ان کی ’ون چائنا‘ پالیسی کے بارے میں کمٹمنٹ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں جس پر امریکا 1972سے قائم ہے۔ چینی حکام وائٹ ہاؤس پر یہ بات بالکل واضح کرچکے تھے کہ صدر ژی کو اس وقت تک پہلی فون کال بھی نہیں کی جانی چاہیے جب تک نئے صدر ون چائنا پالیسی کے ساتھ رہنے پر متفق نہیں ہوجاتے۔ نو فروری کو چینی صدر کے ساتھ ہونے والی طویل ٹیلے فونک گفت گو کے درمیان ٹرمپ نے ژی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم نئے امریکی صدر کی سیمابی فطرت سے واقف چینی حکام ان کے بیانات اور طرزعمل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

جلد یا بہ دیر اگر ٹرمپ نے چین کے ساتھ تنازعے کے معاملے پر اپنے جوش خطابت پر قابو نہیں پایا تو چین کے راہ نما بھی اس بات کو بڑھائیں گے جس سے صورت حال مزید سنگین ہوگی۔

اب تک تو انہوں نے ٹرمپ کو سمجھنے کے لے خود کو روک رکھا ہے جو کہ خود امریکیوں کے لیے بھی آسان کام نہیں ہے۔ ٹرمپ اور ان کے ساتھی اس بات پر بضد ہیں کہ چین وہی کرے جیسا وہ کہہ رہے ہیں۔ وہ اپنی ذات اور ملک کو ایسے پیچیدہ علاقائی مسئلے میں ملوث کررہے ہیں جو کہ امریکی ساحلوں سے بہت دور ہے۔ واشنگٹن اس گھمنڈ میں ہے کہ جیسے وہ ورلڈ آرڈر کا پاسبان ہو، لیکن مستقل اپنی خواہش کے مطابق قانون توڑ رہا ہے، چاہے وہ 2003 میں عراق پر چڑھائی ہو یا خفیہ قیدیوں کے گلوبل نیٹ ورک میں کھلے عام بدترین تشدد، اس تناظر میں امریکی طرزعمل غیرملکی طاقتوں کے سامنے عیاں ہے۔ اگرچہ یہ ٹرمپ ازم کا جز دکھائی دیتا ہے مگر اس کی جڑیں کافی پرانی ہیں۔

ٹرمپ کے جیتنے کے بعد واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ہونے والے تندوتیز بیانات کے تبادلے کو ہم نظرانداز نہیں کرسکتے۔ اسلحے کے بڑے ذخائر رکھنے والی دو حریف طاقتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی بہت معنی رکھتی ہے۔ ایک دوسرے پر عدم اعتماد غلط معلومات کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ٹرمپ کی بدگوئی، تند مزاجی سے مرتب ہونے والے اثرات پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ لیکن ملکی سیاست میں ادارے اور قانون، شہری آرگنائزیشز، پریس اور عوامی احتجاج تو اپنا کام کرسکتے ہیں۔

بین الاقوامی سیاست میں بحرانی صورت حال اچانک رونما ہوسکتی ہے۔ اور امریکی صدور کے تند اور جلد بازی کے رویے پر نظرثانی کا طریقہ ویسے بھی بہت کم زور ہے۔ وہ فوراً فوجی طاقت کے استعمال پر غور شروع کردیتے ہیں۔ وہ اپنی سیاسی طاقت اور معلومات کے بہاؤ سے رائے عامہ کو تبدیل کرسکتے ہیں (ذرا عراق جنگ کے بارے میں سوچیں)۔ اس صورت حال میں شہریوں کی تنقید اور بڑے احتجاج غداری یا بغاوت کو دعوت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی چینی سمندر میں تصادم اور دونوں اطراف بڑھتی ہوئی دشمنی کیوبن میزائل کرائسز طرز کی صورت حال پیدا کر سکتی ہے، جب کہ اس وقت امریکا کو جغرافیائی فائدہ بھی حاصل نہیں ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ چین اور امریکا میں جنگ ممکن نہیں ہوسکتی تو یہ پھر آپ پرانے وقتوں کی بات سوچ رہے ہیں، جب کہ ایسا نہیں ہے۔

Breitbart نیوز کے سابق ایگزیکٹیو چیئرمین اسٹیفن بینن اور اب ٹرمپ کے سیاسی چیف اسٹریٹیجسٹ (فوجی حکمت عملی کے ماہر ) پرشایع ہونے والی حالیہ خبریں دیکھیں۔ انہیں قومی سلامتی کونسل اور پرنسپل کمیٹی (روزانہ کی بنیاد پر قومی سلامتی کے معاملات پر مشاورت کے لیے قائم اعلیٰ ترین انٹر ایجنسی فورم) کے ہر اجلاس میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ان خفیہ اجلاسوں میں انہیں شرکت کی اجازت ٹرمپ کی خصوصی منظوری سے دی گئی ہے۔ ان اجلاسوں کی حساس نوعیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چیئرمین آف جوائنٹ اسٹاف اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر بھی اس وقت شرکت کرتے ہیں جب ان کی ذمے داریوں یا پیشہ ورانہ مہارت پر بات کی جارہی ہو۔

بینن نے گذشتہ مارچ میں ایک ریڈیو انٹرویو میں چین کے بارے میں کہا تھا،’ہم اگلے 5 سے دس سالوں میں جنوبی چینی سمندر میں جنگ کرنے جا رہے ہیں ناں؟ اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ وہ وہاں ایئر کرافٹ کیریئر بناکر ان پر میزائل نصب کر رہے ہیں۔ وہ یہاں امریکا میں ہمارے سامنے آرہے ہیں اور آپ کو سمجھنا چاہیے یہ بات کتنی اہم ہے۔‘ بینن کی اس مہلک پیش گوئی کے بارے میں سوچیں۔ پھر نئے صدر کی سیمابی فطرت اور ان کی دی گئی ہدایت پر غور کریں۔ پھر اس اہم پیغام کو دیکھیں: یہ پرانا وقت نہیں ہے۔ امریکیوں کی بڑی تعداد تو جانتی بھی نہیں ہے کہ جنوبی چینی سمندر کہاں ہے۔‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔