خواتین کے ووٹ کا حق

ڈاکٹر توصیف احمد خان  ہفتہ 25 فروری 2017
tauceeph@gmail.com

[email protected]

سیاسی عمل میں خواتین کی شرکت کے بغیر سیاسی نظام مستحکم نہیں ہوسکتا۔ سیاسی نظام کے استحکام کے بغیر ریاست پر عوام کی بالادستی قائم نہیں ہو سکتی۔ عوام کی بالادستی قائم کیے بغیر فلاحی ریاست کا تصور عملی حیثیت اختیار نہیں کر سکتا۔ سیاسی عمل میں خواتین کی شرکت کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کی اکثریت اپنے ووٹ کا استعمال کرے۔

انتخابی اصلاحات میں خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت کو لازمی بنانے کے لیے یہ تجویز شامل کی گئی ہے کہ جس حلقہ انتخاب میں خواتین ووٹروں میں سے 10 فیصد ووٹ کا بنیادی حق استعمال نہ کرے تو الیکشن کمیشن اس حلقے کا انتخاب منسوخ کر دے گا۔ دائیں بازوکی سیاسی جماعتیں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام اس تجویزکے حق میں نہیں ہیں۔ ان جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 10 فیصد کی شرط زیادہ سخت ہے، اس کو نرم کرنا چاہیے۔

انتخابات میں خواتین کی شرکت کا معاملہ مذہبی جماعتوں کے لیے ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ یہ جماعتیں مختلف علاقوں کے اعتبار سے مختلف نوعیت کے مؤقف اختیارکرتی ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں خواتین زندگی کی دوڑ میں مردوں کے شانہ بشانہ شریک ہوتی ہیں۔ ان صوبوں کے دیہی اور شہری علاقوں میں خواتین قیامِ پاکستان سے سیاسی عمل میں شریک رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں خواتین عام نشستوں سے انتخابات میں بھی حصہ لیتی ہیں اور خواتین کی اکثریت اپنے ووٹ کا استعمال کرتی ہے۔

ان صوبوں میں جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی خواتین کو جلسہ جلوسوں میں شریک کرتی ہیں اور اپنی جماعتوں میں خواتین کے علیحدہ ونگ قائم کیے ہیں۔ جماعت اسلامی کے بانی سربراہ مولانا مودودی نے 1964ء کے صدارتی انتخابات میں بانیٔ پاکستان محمد علی جنا ح کی ہمشیرہ اور متحدہ اپوزیشن کی صدارتی امیدوار محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی۔ فاطمہ جناح کے مقابلے میں جنرل ایوب خان تھے۔ ایوب خان نے دھاندلی کے ذریعے یہ انتخابات جیتا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ پنجاب اور سندھ میں خاص طور پر کراچی میں محترمہ فاطمہ جناح کی بھرپورحمایت کی گئی تھی۔ اسی طرح 1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد جماعت اسلامی نے مخصوص نشستوں پر خواتین کو نامزد کیا تھا۔ جماعت اسلامی کی نامزد خواتین صوبائی اور قومی اسمبلی میں منتخب ہوئی تھیں۔ جب 1977ء میں وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد (P.N.A) نے تحریک منظم کی تھی تو کراچی اورلاہور میں خواتین کارکنوں نے جلوس نکالے تھے۔

اسی طرح 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات، 1988ء 1991ء اور 1993ء میں ہونے والے انتخابات میں جماعت اسلامی کی خواتین نے حصہ لیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے نچلی سطح کے بلدیاتی نظام میں بھی خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں مختص کی گئی تھیں تو جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام نے خواتین امیدوار نامزد کی تھیں۔

2002ء کے انتخابات میں ان جماعتوں کی خواتین امیدوار ہر سطح پر متحرک تھیں مگر پختون خوا اور بلوچستان میں ان جماعتوں کا دوسرا زاویہ ابھرکر سامنے آیا۔ ان جماعتوں نے کوشش کی کہ خواتین انتخابات میں ووٹنگ میں حصہ نہ لیں‘ یوں کے پی کے اور بلوچستان میں خواتین ووٹروں کی شرح بہت کم رہی۔ پھر کے پی کے اور قبائلی علاتوں میں نہ تو خواتین امیدوار سامنے آئیں نہ انتخابات میں انھیں ووٹ ڈالنے کی اجازت ملی۔

جب 2002ء کے قومی انتخابات میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد بڑھا دی گئی، تو ان جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے قریبی رشتے داروں کو ان نشستوں پر نامزدکر دیا۔ عام انتخابات میں خواتین کے حصہ لینے کی مخالفت کی گئی۔ بعض دفعہ تو ان جماعتوں کے علماء نے خواتین کے ووٹ ڈالنے کے خلاف پروپیگنڈا کیا تو پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اورتحریک انصاف کے مقامی نمایندوں نے مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ معاہدے کیے کہ ان کے حلقے کی خواتین ووٹ کا حق استعمال نہیں کریں گی۔ اس طرح خواتین کے سیاسی عمل میں شرکت کی راہ محدود ہو گئی۔

اس وقت سول سوسائٹی کی تنظیموں نے یہ مطالبہ شروع کیا کہ جن حلقوں میں خواتین ووٹ نہ ڈالیں، وہاں انتخابی نتائج منسوخ کیے جائیں۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد یہ نعرہ مقبول ہوا اور الیکشن کمیشن نے جب ایک حلقے کے انتخابی نتائج منسوخ کیے تو پشاور ہائی کورٹ نے تکنیکی وجوہات کی بناء پر الیکشن کمیشن کے اقدام کو منسوخ کر دیا۔

جب خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کی ذمے داری مذہبی جماعتوں پر عائد کرنے کا ذکر ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں ہوا تو ان جماعتوں نے خواتین کے ووٹ کے حق کی حمایت کی مگر 2015ء میں ضلع دیر میں ہونے والے ایک ضمنی انتخاب میں خواتین رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 50 ہزار تھی مگر انتخاب والے دن کوئی خاتون ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن نہیں گئی۔

جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق نے واضح کیا کہ ان کی جماعت خواتین کے ووٹ کے استعمال کے حق میں ہے۔ ایسا ہی اعلان مولانا فضل الرحمن نے بھی کیا مگر عملی طور پر منفی صورتحال ابھرکر سامنے آئی۔ خواتین اور مذہبی جماعتوں کے تعلقات پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقتاً مذہبی جماعتیں خواتین کی عملی زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ شرکت کے حق میں نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب بھی خواتین عملی زندگی میں کئی کارنامہ دکھائیں یہ جماعتیں مخالفت کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

اگر عالمی شہرت یافتہ شرمین عبید چنائے کی تیزاب سے متاثرہ خواتین کی ڈاکیومنٹری پر عالمی اعزاز ملتا ہے تو یہ جماعتیں شرمین کے خلاف مہم شروع کر دیتی ہیں۔ اسی طرح سوات کی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو خواتین کے تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد پر دنیا کا سب سے بڑا اعزاز نوبل ایوارڈ ملتا ہے تو وہ معتوب قرار دی جاتی ہے۔ کراچی کی ایتھلیٹ نسیم ایشیائی کھیلوں میں میڈل حاصل کرتی ہے۔ خواتین کی کرکٹ اور ہاکی کی ٹیمیں کامیابی حاصل کرتی ہیں تو یہ جماعتیں ان ٹیموں کی خواتین کی کارکردگی کو سراہنے کے بجائے انھیں نفرت کا نشانہ بناتی ہیں۔ خواتین کے معاملے میں اسلامی نظریاتی کونسل کا منفی کردار ابھرکر سامنے آتا ہے۔

کونسل کے سربراہ جمعیت علمائے اسلام کے رکن قومی اسمبلی مولانا شیرانی ہیں جو جدید قومی اسمبلی کے رکن ہیں، جو کاریں استعمال کرتے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں، اسمبلی لاج میں مقیم ہیں اور جدید اسپتالوں میں علاج کراتے ہیں مگر خواتین کی بہبود کے ہر قانون میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کم سن بچیوں کی شادی پر پابندی کا قانون ہو یا گھریلو تشدد کا معاملہ یا کام کی جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے تدارک کا قانون، مولانا شیرانی اورکونسل کے اراکین ان قوانین کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت کام کرنے والے کیمروں کے سامنے رجعت پسندانہ دلائل بھی دیتے ہیں۔

بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ رہنما جب کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تقاریرکرتے ہیں تو خواتین کے بارے میں منفی ریمارکس نہیں دیتے اور نہ گھر میں ٹیلی وژن دیکھنے کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں مگر جب یہ اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تو پھر ان کے خیالات مکمل طور پر تبدیل ہو جاتے ہیں۔

یہ حضرات دراصل طالبان کے مؤقف کی عکاسی کر رہے ہوتے ہیں مگر ان جماعتوں کا خواتین کے بارے میں رویہ کتنا ہی منفی کیوں نہ ہو پارلیمنٹ میں خواتین کی بہبود کے بارے میں قانون سازی کرنی چاہیے۔ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کی جدوجہد میں شامل سماجی کارکن قاضی خضر کا کہنا ہے کہ خواتین ووٹروں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کم ہے۔ انھیں ووٹ دینے کی اجازت نہ دے کر صرف حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جاتا بلکہ ترقی کی دوڑ سے علیحدہ بھی کر دیا جاتا ہے، یوں غربت کی سطح کم نہیں ہوتی۔

وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ خواتین کی زندگی کے ہر شعبے میں شرکت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ پارلیمنٹ کو یہ قانون منظور کرنا چاہیے کہ جس انتخابی حلقے میں خواتین کی 10 فیصد تعداد ووٹ کا استعمال نہیں کرے گی وہاں کے انتخابی نتائج منسوخ کر دیے جائیں گے اور ضمنی انتخابات ہونگے۔ یقیناً مذہبی اور دیگر جماعتیں خواتین کے ووٹ ڈالنے کے رجحان کی حمایت کریں گی،  خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت بڑھ جائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔