فیصلہ کن مرحلہ

عثمان دموہی  اتوار 26 فروری 2017
usmandamohi@yahoo.com

[email protected]

لاہور میں 13 فروری کو ہونے والے خودکش دھماکے کی ذمے داری جماعت الاحرار نے دھماکے کے فوراً بعد ہی قبول کرلی تھی۔ اس کے ردعمل میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے افغان حکومت کو اپنے ملک میں قائم اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر افغان حکومت مکمل خاموش رہی تھی۔ 16 فروری کو سیہون شریف میں خودکش دھماکا ہوا تو اس کی ذمے داری داعش نے قبول کی۔

یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان میں ہونے والے کسی خودکش حملے کی ذمے داری داعش نے قبول کی۔ اس پر سب کو ہی حیرت ہوئی تھی کیونکہ پاکستان میں ابھی تک داعش کے پیر جمانے کی کوئی شہادت سامنے نہیں آئی ہے۔ البتہ پہلے سے موجود مقامی دہشت گرد تنظیمیں مصلحتاً داعش سے اپنا تعلق جوڑتی رہتی ہیں مگر حقیقتاً داعش پاکستان میں کہیں نظر نہیں آتی تھی۔ اس چیزکو دیکھتے ہوئے سیہون کے دھماکے کی ذمے داری داعش کی جانب سے قبول کرنا جماعت الاحرار سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔

چونکہ لاہور دھماکے میں جماعت الاحرار کی دہشت گردی کے ثبوت پاکستان کو مل چکے تھے چنانچہ جماعت الاحرار سے توجہ ہٹانے کے لیے سیہون کے دھماکے کی ذمے داری جان بوجھ کر داعش کے گلے میں ڈال دی گئی تاکہ جماعت الاحرار پر شک مضبوط نہ ہوسکے۔ افغان حکومت کی اس حکمت عملی سے اس دہشت گرد تنظیم پر اس کا کنٹرول ثابت ہوجاتا ہے۔ ایک جماعت الاحرار ہی کیا، کئی طالبان دھڑے افغان اور بھارتی حکومت کے زیر سایہ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جن کے ثبوت پاکستان افغان حکومت کے علاوہ امریکا کو بھی دکھا چکا ہے۔

افغان حکمرانوں کی جانب سے پاکستان کو عالمی کانفرنسوں میں جس انداز سے معتوب کیا جا رہا ہے اس سے ان کی پاکستان سے گہری دشمنی کا اظہار ہوتا ہے۔ طالبان کی افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا پاکستان پر الزام لگانا دراصل سراسر پاکستان دشمنی کا غماز ہے۔ طالبان افغانستان کی پیداوار ہیں اور وہاں قابضین کے خلاف چھاپہ مار جنگ کررہے ہیں تو اس کا الزام پاکستان پر عائد کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ بعض مغربی ممالک کو پاکستان کے اسلامی تشخص کی وجہ سے پرخاش ہے، پھر بھارت تو ہے ہی پاکستان کا دائمی دشمن، چنانچہ افغانستان میں پاکستان مخالف کھیل دراصل مغربی ممالک اور بھارت کی ملی بھگت کا آئینہ دار ہے۔

مغربی ممالک نے بھارت کو افغانستان میں جگہ دے کر پاکستان کے لیے مصیبت کھڑی کردی ہے، تاہم بھارت کو یہاں کی خانہ جنگی سے پاکستان کو عدم استحکام کا شکارکرنے کا سنہری موقع ہاتھ آگیا، وہ یہاں سے کشمیرکا بدلہ پاکستان سے خوب خوب چکا رہا ہے۔بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی معذرت خواہانہ انداز سے چلائی جارہی ہے اور مشرف کے دور میں بھی اسی انداز سے چلائی جا رہی تھی، جب ہی ہم افغانستان کی خونیں دلدل میں پھنس چکے ہیں۔

کاش کہ مشرف صدر بش کی دھمکی سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنی بھی کچھ شرائط منوا لیتے، کچھ نہیں تو کم سے کم یہ شرط تو ضرور منواتے کہ بھارت کو افغانستان میں داخل نہ کیا جائے کیونکہ وہ وہاں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہوکر نہ صرف افغان مسئلے کو پیچیدہ بناسکتا ہے بلکہ وہ یقیناً اسے کبھی نہ حل ہونے والا مسئلہ بنانے کی کوشش کرے گا تاکہ پاکستان کو مسلسل عدم استحکام کا شکار کرتا رہے۔اس وقت واقعی بھارت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر وہاں اس کی ضرورت کیا ہے؟ وہ تو افغان مسئلے کے حل کا جائز فریق بھی نہیں ہے۔ روسی حکومت نے افغان مسئلے کے حل کے سلسلے میں اپنے ہاں منعقد کی گئی پہلی میٹنگ میں اسے مدعو نہیں کیا تھا، البتہ حالیہ میٹنگ میں مغربی ممالک کے دباؤ کی وجہ سے اسے شامل کیا گیا ہے۔ دراصل بھارت نے افغان تعمیر نو میں حصہ لینے کے بہانے وہاں پکا ڈیرہ ڈال لیا ہے، آخر وہاں اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور فوج کا کیا کام ہے؟ اس نے تو امریکی آشیرباد سے وہاں پاکستان کی سرحد کے ساتھ اپنے پالتو دہشت گردوں کو تخریب کاری کی تربیت دینے کے کئی مراکز قائم کرلیے ہیں جو سراسر قابل اعتراض فعل ہے اور پاکستان سے کھلی دشمنی کے مترادف ہے۔

افسوس کہ ہماری حکومت آج تک انھیں بند نہیں کراسکی۔ اس سے ہماری سابقہ اور موجودہ حکومتوں کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان کے خلاف جو بھی دہشت گردی ہو رہی ہے ، اس میں انھی تربیت گاہوں کے تربیت یافتہ دہشت گرد استعمال ہو رہے ہیں۔ ہماری حکومت کی خاموشی کی وجہ سے ہی ہمارے خلاف افغان حکومت اور بھارت کے درمیان گٹھ جوڑ جاری ہے۔ پہلے کرزئی کو بھارت نے اپنی نوازشات کے ذریعے اپنا آلہ کار بنالیا تھا اب اشرف غنی بھی بھارتی زبان بول رہے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ تو پہلے سے ہی بھارت کے نمک خوار ہیں وہ پاکستان کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

دراصل ہماری حکومت نے افغان حکومت کی طالبان سے مصالحت کرانے کی مغربی سازش کو قبول کرکے اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ افغان حکومت کی طالبان سے مصالحت کرانے کا مطلب ہے کہ پاکستان کو طالبان سے تعلق قائم رکھنا ہوگا جبھی تو طالبان پاکستان کی بات مانیں گے مگر دوسری طرف پاکستان کے اس عمل کو دوغلے پن سے تعبیر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان طالبان سے ملا ہوا ہے اور وہ ان کو اکسا کر افغانستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے جب کہ طالبان سے رشتہ رکھنا اس کی مجبوری ہے کیونکہ یہ ذمے داری اسے مغربی ممالک نے سونپی ہے۔

اس طرح پاکستان کو بری طرح سازشی جال میں پھانس دیا گیا ہے اور ہماری وزارت خارجہ کو اس مصیبت سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ مغربی ممالک کے اس سازشی جال کی وجہ سے طالبان کی تمام دہشت گردی کا بوجھ پاکستان پر لادا جا رہا ہے اور اسے کھلم کھلا دہشت گرد ملک قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان پر لگی اس تہمت کا بھارت پورا پورا فائدہ اٹھا کر بی جے پی کے پالے ہوئے دہشت گردوں کے ذریعے اپنے شہروں میں دہشت گردی کی وارداتیں کراکے ان کا الزام پاکستان کے سر تھوپ رہا ہے۔ ان بھارتی ڈراموں کا مقصد کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو پاکستان کی دہشت گردی قرار دے کر اس سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔

ممبئی سے لے کر اڑی تک اپنے سارے ڈراموں کی ذمے داری کشمیریوں سے ہمدردی رکھنے والے حافظ سعید اور اظہر مسعود پر ڈال کر ان پر دہشت گردی کا ٹیکہ لگا چکا ہے اور ہماری غفلت کی وجہ سے انھیں عالمی دہشت گرد قرار دلوانے میں کامیاب ہوگیا ہے، اب انھیں اس مشکل سے صرف چین ہی بچا سکتا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی قطعی ناکام ہوچکی ہے۔ اب ہم چین کے رحم و کرم پرآگئے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی دراصل موجودہ حکومت کی ناکامی ہے۔

امید ہے وہ حالات کا ادراک کرتے ہوئے جلد ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی تعیناتی کا اعلان کرے گی۔ جہاں تک افغانستان کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کا معاملہ ہے۔اس سلسلے میں بھارتی اشارے پر چلنے والی کٹھ پتلی افغان حکومت سے رابطہ کرنے کی روایت کو ختم کرکے براہ راست امریکی حکومت سے بات کی جائے اور اگر امریکی حکومت بھی بے اعتنائی برتے تو پھر افغان سرحد پر باڑھ لگاکر خود کو افغان مسئلے سے لاتعلق کرلیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔