خیبر پختون خوا کے دلیر سپاہی!

امجد عزیز ملک  پير 27 فروری 2017

گذشتہ دنوں ضلع چارسدہ کے علاقہ تنگی میں خیبر پختون خوا پولیس کے اہل کاروں نے دلیری وبہادری کا ایسا مظاہرہ کیا کہ سارا ملک عش عش کر اٹھا، پولیس اہل کاروں نے جرات و حوصلہ مندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے عزم کودہراتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ وہ قربانیاں دیتے چلے آئے ہیں ،ان کے افسر اور جوان ملک و قوم کی بقا اور سالمیت پر اپنی جانیں وار رہے ہیں لیکن گھبرانے اور پیچھے ہٹ جانے کی بجائے وہ اپنی جانیں دیتے رہیں گے اور جس قدر ممکن ہو سکا اپنے عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔

تنگی کے مقام پر تین خود کش بمباروں نے حملہ کیا وہ بار روم میں جانا چاہتے تھے جہاں چالیس سے زیادہ وکلاء موجود تھے، اس دوران ایک پولیس اہل کار نے دہشت گرد پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہلاک ہو گیا،دوسرے بمبار نے بہت کوشش کی کہ وہ کسی طرح کچہری کے احاطہ میں داخل ہو جائے لیکن پولیس جوان اس کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے جس کے نتیجے میں دوسرے کو بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے اور تیسرے بمبار نے جب یہ صورت حال دیکھی تو اس نے خود کو باہر ہی اڑا دیا، یوں اگرچہ سات شہری اس سانحے میں شہید ہو گئے مگر زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس واقعہ میں چھ پولیس اہل کار زخمی بھی ہوئے اور جب انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی زخمی پولیس اہل کاروں کی عیادت کرنے اسپتال پہنچے تو حیران رہ گئے کہ شدید زخمی پولیس اہل کاروں کی خواہش تھی کہ وہ جلد اسپتال سے فارغ ہوں اور واپس اپنی ڈیوٹی سنبھالیں ۔یہ عزم و ولولہ ناقابل یقین حد تک ہے کہ 2002 سے دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ کے دوران خیبر پختون خوا پولیس کے افسر اور اہل کار سافٹ ٹارگٹ رہے ہیں انھیں مارنا آسان تھا کہ وہ ہر چوک اور چوراہے پر دہشت گردوں کو تلاش کر رہے تھے بلکہ آج بھی ناکوں پر ان کی آنکھیں ہر لمحے دہشت گردوں کا پیچھا کرتی نظر آتی ہیں۔

پندرہ سال پر محیط یہ عرصہ پولیس فورس کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں، اس دوران اس وقت کے انسپکٹر جنرل ملک نوید خان ،فیاض طورو، اکبر ہوتی اور احسان غنی نے پولیس فورس کو جو کسی بھی طور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لیے کسی قسم کی تیاری نہیں رکھتی تھی کو اس قابل بنایا کہ وہ عام جرائم پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ اس جنگ میں بھی سرخرو ہو، ان چار آئی جی صاحبان نے پولیس فورس کی بہتری کے لیے حتی الوسع کام کیا جس پر کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔

جب امن و امان کی صورت حال نسبتاً بہتر ہوئی تو موجودہ آئی جی پولیس ناصر خان درانی کو ذمے داریاں سونپی گئیں جنہوں نے ان تمام اقدامات کو جاری رکھا جن پر بوجوہ زیادہ کام نہیں ہوا تھا اور ساتھ میں پولیس فورس کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مزید مؤثر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔تین سال کے عرصے میں اب پولیس سیاسی عمل دخل سے بھی دور رہی اور اس دوران اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

پولیس ماڈل اسٹیشن بنے، مقدمات کی انکوائری مؤثر انداز میں کرنے کے لیے انویسٹی گیشن اسکول بنائے گئے،بارودی مواد ناکارہ بنانے کے لیے ادارے قائم کیے گئے۔ٹریننگ سینٹرز بنے اور اس قسم کے اقدامات نے پولیس کو بہتری کی جانب گامزن کیا۔انسداد دہشت گردی کے ادارے نے بھی سیکڑوں دہشت گردوں کو گرفتار کیا اور اس کے باوجود اگر حالات خراب ہوئے تو یہ ضرور پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ سیکڑوں کارروائیوں کو ناکام بھی بنایا گیا ہے۔

اگر ایک طرف اقدامات کا جائزہ لیا جائے اور دوسری طرف وسائل پر غور کیا جائے تو خیبر پختون خوا پولیس کے چیف اور ساری فورس بلاشبہ داد و تحسین کی مستحق قرار پاتی ہے کہ بے شمار رکاوٹوں کے باوجودہمت ہارنے کی بجائے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہی کام کیا گیا۔

خیبر پختون خوا پولیس اصلاحات ایکٹ بھی صوبائی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے اور اس ایکٹ کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ اس کے مستقبل میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔اس ایکٹ میں اگر تھوڑی بہت خامیاں رہ بھی گئی ہیں تو انھیں مستقبل میں بہتر کیا جا سکتا ہے لیکن کم از کم اب اس قانون کے بعد پولیس فورس ایک نئی طاقت کے ساتھ عوام کی خدمت کرتی دکھائی دے گی۔

مجھے یاد ہے جب ملک نوید خان آئی جی پولیس کے عہدے پر فائز تھے تو انھوں نے تھانے کی سطح پر مصالحتی کمیٹیاں بنا کر لوگوں کے مسائل موقع پر ہی حل کرنے کی تجویز پر کام کیا اور یہ سلسلہ شروع بھی ہو گیا تھا بعض لوگوں کا خیال تھا کہ مصالحتی کمیٹیاں عدالتوں کا کام نہیں کر سکتیں، اس لیے ان کے قیام کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس وقت اگر ان کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ ان مصالحتی کمیٹیوں نے بے شمار لوگوں کو عدالتوں میں جانے سے دور رکھا ہے اور بعض ایسے مسائل جو افہام و تفہیم سے حل ہو سکتے تھے انھیں حل کر دیا گیا۔

مصالحتی کمیٹیاں کسی بھی معاملے کو اپنی ذاتی پسند و ناپسند نہ بنا لیں اس بارے میں بھی مناسب حکمت عملی وضع کی گئی ہے چنانچہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مصالحتی کمیٹیوں کے فیصلوں سے جہاں لوگوں کو ان کی دہلیز پر انصاف ملا وہیں انھیں وقت اور پیسے کی بچت بھی ہوئی۔

مجھے نوشہرہ پولیس لائنز جانے کا اتفاق ہوا جہاں واحد محمود ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہیں اور انھوں نے عوام کا دل جیتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ اب کوئی بھی سائل اپنی شکایت لے کر بغیر کسی سفارش کے پولیس لائنز میں آ سکتا ہے اور اس کی داد رسی کرنے والے مہینوں کی بجائے چند گھنٹوں میں اپنا کام انجام دینے کی بھرپور صلاحیت سے مالا مال ہیں۔بہت سے سائل پولیس کی تعریف کرتے دکھائی دیے جو یقینی طور پر پولیس کے لیے بھی باعث اعزاز ہے۔

اس موقع پر جہاں پولیس کی تعریف ہو رہی ہے ایک بات خاصی اہمیت کی حامل ہے کہ پشاور شہر جو 18 سے20 لاکھ آبادی کے لیے وسائل رکھتا ہے میں اس وقت مالاکنڈ، سات قبائلی ایجنسیوں اور افغان مہاجرین سمیت آبادی60 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے لیکن شہر میں اس آبادی کی نسبت پولیس اسٹیشنز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، تھانوں میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وسائل کی عدم دستیابی کے باعث مزید پولیس اسٹیشن نہیں قائم کیے جا رہے، اس حوالے سے حکومت کو بھی چاہیے کہ پولیس کو وسائل فراہم کرے تاکہ تھانوں کی تعداد میں مناسب اضافہ ممکن ہو سکے۔

بات چارسدہ کے علاقے تنگی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ میں بہادر پولیس اہل کاروں کی دلیری سے شروع ہوئی تھی جو پولیس کی مجموعی کارکردگی تک پھیل گئی مگر نیشنل ایکشن پلان کے تحت خیبر پختون خوا پولیس نے اپنی ذمے داریاں جس احسن طور پر نبھائی ہیں اس کے پیش نظر اب خیبرپختون خوا پولیس فورس کو ملک کی بہترین فورس بھی قرار دیا جا رہا ہے ۔فورس کو مزید طاقت ور بنانے کے لیے ابھی بہت سے مزید اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔