کرکٹ جان کیوں لے لیتی ہے؟

علی احمد ڈھلوں  بدھ 1 مارچ 2017
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

دنیا کے 105ممالک آئی سی سی کے ممبرز ہیں ، ان میں سے 10فل ، 39ایسوسی ایٹ اور 56الحاق (Affiliate) ممبرز ہیں، ماسوائے پاکستان کے ان تمام ممالک میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی بھی جا رہی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی ) کے قوانین کے مطابق ہر ٹیم دوسرے ملک کی ٹیم کو اپنے ہاں مدعو کرنے کی پابند ہے۔ ان ممالک میں ایشیا کی ٹیمیں سب سے زیادہ ’ایکٹو‘ ہیں جن کی تعداد 21ہے، اور دس فل ممبرز میں سے چار مستقل ٹیموں (پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش اور سری لنکا )کا تعلق ایشیا ہی سے ہے۔

ان ممالک میں کرکٹ جنوںکا درجہ حاصل کر چکی ہے، یہاں کے کھلاڑی بسا اوقات اس قدر نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ بات خود کشی تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ کرکٹ کا شائقین سے لگاؤ اور حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ معروف انگلش رائٹر ڈیوڈ فرتھ اپنی کتاب ’’سائلنس آف دی ہارٹ‘‘ میں کرکٹ کھلاڑیوں کی خودکشیوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اب تک اس کھیل کی وجہ سے 151کھلاڑیوں نے خودکشی کی ہے یعنی عوام جس کھلاڑی کو ہیرو کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اگلے ہی لمحے وہ زیرو سے بھی نیچے آچکا ہوتا ہے،اور اسی دباؤ کی وجہ سے وہ بعض اوقات خود کشی تک پہنچ جاتا ہے۔

پاکستان میںبھی کرکٹ ایک جنون ہے لیکن  اسے دہشت گردی اور انا کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ ہمارے حکمران پی ایس ایل ٹوکے فائنل کے لاہور میں انعقاد پر خوشی سے نہال ہو رہے ہیں اور عوام بھی عجیب کشمکش میں مبتلا ہوچکے ہیں ، کیونکہ کئی سالوں کی بدخبریوں ، خود کش حملوں کے پھیلائے ہوئے خوف و ہر اس کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔اگر پی ایس ایل ’فائنل‘ کا انعقاد اچھا ہو گیا تو ٹھیک ورنہ ہم دنیا کے سامنے ایک بار پھر شرمندہ ہوں گے۔

آج عمران خان، جاوید میاں داد اور دیگر کے نزدیک پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا فائنل لاہور میں کرانے کا خیال بے مقصد ہے۔ اور شاید ان کے پاس ایسا سوچنے کے لیے کئی وجوہات بھی ہیں یعنی ایک کرکٹ میچ پر تمام تر توانائیاں کیوں صرف کی جائیں جب کہ پورا ملک لہو لہان ہو چکا ہے۔ دشمن ہم پر بندوق تانے کھڑا ہے۔ یہ درست ہے کہ ان احساسات کا کئی طرح سے دفاع کیا جا سکتا ہے،اور کئی چینلز جو میڈیا پارٹنر بھی ہیں وہ عوام کے خون کو گرمانے کی جاب کو اچھے انداز میں سرانجام دے رہے ہیں مگر فائنل لاہور میں کرانے کے سوال کو کہیں زیادہ اور وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف مناسب اور مؤثر ردِعمل آخریہی ہے۔

میں پی ایس ایل پر تنقید نہیں کر رہا، جو ہمارے ملک کے ثقافتی منظرنامے میں ایک بہترین اضافہ ہے، اور نہ ہی مشکل حالات کا تفریح کے ذریعے مقابلے کے خیال پر تنقید کر رہا ہوں۔ میں اس حوالے سے حکمرانوں اور بورڈ منتظمین سے صرف چند سوال کرنا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے تو اس چیز کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ریاستی سیکیورٹی انتظامات فول پروف رہیں گے۔

میچ دیکھنے کے لیے 20ہزار سے زائد لوگ آئیں گے اور زیادہ تر لوگ پیدل ہوں گے۔ اسٹیڈیم کی جانب آنے والے لوگ جب تک کہ سیکیورٹی حصار تک نہ پہنچ جائیں غیر محفوظ ہی رہیں گے۔ ریاست میچ دیکھنے کے لیے آنے والے ہر شخص کی حفاظت یقینی نہیں بنا سکتی اور اگر ریاست کہتی ہے کہ ایسا نہیں ہے تو یہ جھوٹ ہے۔ میچ کی حفاظت کے ذمے داران بھلے ہی پرُخلوص ہوں مگر ان کا ریکارڈ ان کی اہلیت کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ خطرہ موجود ہے، اس لیے میچ مکمل طور پر قلعہ بند صورتحال میں ہوگا۔جس کا پاکستان میں کرکٹ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بین الاقوامی ٹیمیں ایک میچ کے کامیاب انعقاد پر فوراً پاکستان کا رخ نہیں کر لیں گی، جیسا انھوں نے تب بھی نہیں کیا تھا جب پی سی بی نے 2015 میں زمبابوے کی میزبانی کی تھی۔

دوسری بات یہ کہ اتنے بڑے ایونٹ کی حفاظت کے لیے بے پناہ مالی اور افرادی وسائل لگانے ہوں گے۔  10سے 12ہزار سیکیورٹی اہلکار میچ کی نگرانی پر مامور ہوں گے۔ اورحکمرانوں کو شاید یہ یاد نہیں کہ 2015ء کے دورہ زمبابوے کے وقت ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہونے والے عبدالمجید شہید سے حکمرانوں اور بورڈ کے افسران کی کنارہ کشی کی وجہ سے پولیس کا مورال ڈاؤن ہے (میں گزشتہ ماہ عبدالمجید شہید بطور قومی ہیرو ، کالم بھی لکھ چکا ہوں) اور وہ اس زبردستی کی ڈیوٹی میں اپنے آپ کودل سے پی ایس ایل فائنل کا حصہ نہیں سمجھیں گے۔

عبدالمجید شہید قومی ہیرو تھا جس نے جان پر کھیل کر درجنوں افراد کی جان بچائی، بجائے اس کے کہ پولیس کو اس کاکریڈٹ دیا جاتا… اُلٹا بورڈ کے عہدیداروں میں سے کسی نے اُس کے گھر جا کر شہید کے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنے کی توفیق بھی نہیں ہوئی نہ ان کے بچوں کو کہیں نوکری دی گئی ہے اور یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کریڈٹ تو نجم سیٹھی اور شہریار صاحب لیں، کروڑوں روپے کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے حصے میں آئیں جب کہ جنہوں نے قربانیاں دیں، وہ احساس محرومی کا شکار رہیں۔

قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ سری لنکن ٹیم پر حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کے ساتھ کیا ہوا؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اُس شہداء کے نام پرسٹیڈیم کا کوئی گیٹ ہی مختص کر دیا جاتا یا کوئی یادگار ہی تعمیر کروا دی جاتی جس سے پولیس کے اندر احساس محرومی نہ پیدا ہوتا لیکن کیا فائدہ ان چیزوں کا جب حکمران عوام کو بسنت جیسے عوامی تہوار سے تو محروم رکھتے ہیں مگر ایک شام کو حسین بنانے کے لیے میچ کی اجازت دے دی جاتی ہے تاکہ دشمن کسی طرف سے بھی وار کردے اور اگر خدانخواستہ لاہور میں کہیں بھی دھماکا ہوا تو پی ایس ایل کا بھی دھماکا ہوجائے گا … بقول شاعر

ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا

میرے خیال میں جہاں ہم نے کئی سال صبر کیا ہے، چند سال اور صحیح ۔ کہیں سے امن و امان کی تھوڑی سے جھلک بھی نظر آئے تو کرکٹ ضرور ہونی چاہیے۔ آسٹریلیا کو بھی آناچاہیے اور بھارت کو بھی بلا نا چاہیے اور سری لنکا کا بھی بھرپور طریقے سے استقبال کیا جانا چاہیے۔ یہ بات دنیا بھی جانتی ہے کہ ہم کن حالات میں فائنل کرا رہے ہیں اور دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ ایک میچ کے انعقاد کے لیے حکومت کیا کیا کر رہی ہے؟ کیا اس ایک میچ میں جتنی سیکیورٹی دی جارہی ہے اُتنی کسی ایک ملک کے ساتھ سریز میں دی جا سکتی ہے،  ابھی تو قذافی اسٹیڈیم کے گردو نواح میں ہفتہ کی تعطیل دے دی گئی ہے اور جس ٹیم نے 2ماہ کا دورہ کرنا ہو تو اس کے لیے کیا ملک 6ماہ کی چھٹی پر بھیج دیا جائے گا؟

یہاں ایسی کئی برادریاں ہیں جہاں تقربیاً ہر گھرانے نے اپنے کسی فرد کو دہشتگردی میں گنوایا ہے۔ لاہور میں ایک بکتربند قلعے کی طرح میچ کا انعقاد شاید احساسِ محرومی اور غم و غصے کو جنم دے، جس سے فی الوقت بچا جا سکتا ہے اور میرا سوال یہ بھی ہے کہ پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد کے بعد کیا ہوگا؟ کیا ہم خوشی کے اس احساس کے واقعی متحمل ہو سکتے ہیں جو اس ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے بعد ہمارے پاس آئے گا؟

میرا بورڈ منتظمین اور پانامی حکومت سے آخری سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک شام لاہور کو محفوظ بنانے سے ہمارے لوگوں میں تحفظ کا احساس آ جائے گا؟ یا پھر یہ صرف تھوڑی دیر کے لیے ہماری توجہ ہٹائی جائے گی ، اور اس کے کامیاب انعقاد کے بعد ہمارے ذمے داران خود کو شاباشی دے کر بے فکر ہوجائیں گے؟ یہ مشکل سوالات ہیں جن کا جواب غور و فکر کے بعد دیا جانا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان جوابات کا فریم ورک ایک دن کے سیکیورٹی دکھاوے یا عزم و جرات کے مصنوعی اظہار سے کہیں آگے ہونا چاہیے کیونکہ اس کرکٹ سے قوم کا دل و جان کا رشتہ بن چکا ہے، اسی لیے تو یہ جان لے لیتی ہے… !!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔