دودھ 80 روپے سے زائد فروخت کرنے والے دکانداروں کی فہرست تیار

اسٹاف رپورٹر  بدھ 1 مارچ 2017
کمشنرنے غیرقانونی اضافہ مستردکردیا،ریٹیلرزاورزبردستی اضافہ لاگوکرنیوالے ڈیری فارمرزکیخلاف کارروائی ہوگی۔ فوٹو: فائل

کمشنرنے غیرقانونی اضافہ مستردکردیا،ریٹیلرزاورزبردستی اضافہ لاگوکرنیوالے ڈیری فارمرزکیخلاف کارروائی ہوگی۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  کمشنر کراچی اعجاز احمد خان کی ہدایت پر دودھ کے نرخ میں اضافے کے ذمے دار ڈیری فارمرز اور دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔

کمشنر کراچی اعجاز احمد خان کے زیرصدارت پیر کو دودھ کے نرخ پر نظرثانی کے اجلاس میں کمشنر نے دوٹوک انداز میں دودھ کے نرخ میں غیرقانونی اضافے کو مسترد کرتے ہوئے من مانے نرخ پر دودھ فروخت کرنے والے ریٹیلرز اور زبردستی اضافہ لاگو کرنے والے ڈیری فارمرز کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

کمشنر نے واضح کیا ہے کہ دودھ کے سرکاری نرخ میں ازخود اضافہ واپس لے کر شہر میں دودھ کی80 روپے فی لیٹر سرکاری نرخ پر فروخت کو یقینی بنانے میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا جائے، بصورت دیگر دودھ کے نرخ پر نظرثانی کے لیے مزید کوئی اجلاس نہیں بلایا جائے گا اور نرخ میں اضافہ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

دودھ کے نرخ میں حالیہ 6 روپے فی لیٹر اضافے کا سب سے زیادہ فائدہ ہول سیلرز کو پہنچ رہا ہے سابقہ نرخ میں ہول سیلرز کا منافع 4.35 روپے فی لیٹر تھا جو نئے نرخ میں بڑھ کر6.10 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے ہول سیلرز کے ایما پر ڈیری فارمرز نے فارم کی سطح پر دودھ کے نرخ میں 4.30 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جس میں ہول سیلرز نے مزید ایک روپے 40 پیسے کا اضافہ کرتے ہوئے دکانداروں کو دودھ کی ترسیل 5.70 روپے فی لیٹر زائد قیمت پر شروع کردی۔ جس کے بعد شہر بھر میں دودھ کی قیمت80 سے بڑھا کر86 روپے لیٹر کردی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ڈیری فامرز کے 4 میں 3 دھڑے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے اور غیرقانونی اضافہ واپس لینے پر آمادہ ہیں لیکن ہول سیلرزکی پشت پناہی پر ایک طاقتور دھڑا بدستور من مانی پر تلا ہے ذرائع نے بتایا کہ خوردہ فروشوں کی انجمن نے شہر بھر میں80 روپے فی لیٹر سے زائد نرخ پر دودھ فروخت کرنے والے دکانداروں کی فہرست مرتب کرلی ہے جو آئندہ 24 گھنٹوں میں کمشنر ہائوس کو ارسال کردی جائے گی اس فہرست کی روشنی میں دودھ مہنگا فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔