سی پیک اور بلوچستان کی معدنیات (دوسرا حصہ)

ببرک کارمل جمالی  جمعرات 2 مارچ 2017
افسوس ناک پہلو یہ کہ بلوچستان کی 50 فیصد آبادی گیس سے محروم ہے، اور بلوچستان کے جن علاقوں میں گیس موجود ہے اُس کی قیمت چاروں صوبوں سے زیادہ ہے۔

افسوس ناک پہلو یہ کہ بلوچستان کی 50 فیصد آبادی گیس سے محروم ہے، اور بلوچستان کے جن علاقوں میں گیس موجود ہے اُس کی قیمت چاروں صوبوں سے زیادہ ہے۔

گزشتہ سے پیوستہ

بلوچستان میں وسائل کی لوٹ مار کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے بلوچ قوم کو سی پیک پر اعتبار نہیں رہا۔ بلوچستان میں 86 فیصدعوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ 72 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ 72 سالوں سے بلوچستان سیاسی، معاشی، انتظامی، معاشرتی اور عسکری لحاظ سے مشکلات سے دوچار ہے لیکن اِن مشکلات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان قومی ترقی، تعلیم، صحت، روزگار کے شعبہ میں 70 سال پیچھے ہے۔ بلوچستان میں غربت کی شرح 86 فیصد ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ سی پیک سے بلوچستان میں ہمہ گیر تبدیلی آئے گی، اور گوادر میں نئے انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تعمیر تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ سی پیک 46 ملین ڈالر کا منصوبہ ہے جو بادی النظر میں مالی فائدہ کے لئے بنایا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو بلوچستان، پاکستان کا 64 فیصد رقبہ ہے، اگر حکمران بلوچستان میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو بلوچستان کو 64 فیصد حصہ دیا جائے۔ بلوچستان کی 70 فیصد آبادی تعلیم سے محروم ہے۔ سی پیک کا چرچہ ہے مگر سی پیک سے متعلق بلوچ عوام کے خدشات کو دور نہیں کیا جارہا ہے۔

معاملہ بلوچستان اور اس کی معدنیات کا ( پہلا حصہ) 

بلوچستان کی معدنیات ہی سی پیک کا اہم جُز ہے، اِن معدنیات میں تانبہ کا خزانہ بھی شامل ہے۔ ہر سال بلوچستان سے اربوں روپے کا تانبہ چاغی سے نکالا جاتا ہے، مگر اِس صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا۔ دھاتی معدنیات میں چاندی بھی بلوچستان کے کئی مقامات سے نکالی جاتی ہے، ہر سال بلوچستان سے چاندی کے اربوں مالیت کے ذخائر نکالے جاتے ہیں، جو دنیا کے مختلف ممالک میں برآمد کئے جاتے ہیں۔ لوہا بھی بلوچستان کی قیمتی دھات ہے، لوہا فولاد سازی اور گھروں کی تعمیر میں استعمال ہوتا ہے۔ لوہے کے ذخائر بلوچستان کے مختلف حصوں میں ملتے ہیں جبکہ دالبندین کے مقام پر لوہے کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، جبکہ منگھوپیر میں 31 کروڑ ٹن کے ذخائر ملے ہیں، چاغی میں بھی لوہے کے ذخائر ملے ہیں۔

اِس سے بھی افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بلوچستان کے جن علاقوں میں گیس موجود ہے اُس کی قیمت چاروں صوبوں سے زیادہ ہے، جبکہ بلوچستان سے نکلنے والی گیس سے بننے والی بجلی بھی بلوچستان کو نہیں دی جارہی ہے۔ حتیٰ کہ اوچ پاور پلانٹ بناتے وقت یہ کہا گیا تھا کہ بلوچستان کے دو اضلاع میں یہ بجلی دی جائے گی مگر یہ بجلی آج تک ان اضلاع کو نہ دی گئی۔

بلوچستان کے قدرتی وسائل پاکستان کی 90 فیصد معدنیات کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں، بلوچستان سے نکلنے والی معدنیات دنیا کی اہم معدنیات مانی جاتی ہیں، جو دنیا کے مختلف ممالک میں جاتی ہیں۔ اِن ممالک میں چین، عرب امارات، کوریا، اسپین، ہندوستان، آسٹریلیا، شامل ہیں۔ اِن کے علاوہ بھی کئی اور ممالک میں بلوچستان کی معدنیات بھیجی جاتی ہیں، صرف ضلع خضدار سے کراچی ہر سال 40 ہزار ملین ٹن مختلف قسم کے پتھر روانہ کئے جاتے ہیں، جو انتہائی کم قیمت میں فروخت کئے جاتے ہیں اور اُن پر ڈیزائن بنا کر مہنگے داموں بیچا جاتا ہے۔

آج بھی بلوچستان سے معدنیات کو فرسودہ طریقوں سے نکالا جاتا ہے، جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں، اگر بلوچستان میں جدید کارخانے بنائے جائیں تو انسانی زندگیاں ضائع ہونے سے بچ جائیں گیں اور معدنیات کی عالمی مارکیٹ تک رسائی آسان ہوسکتی ہے۔ جبکہ بلوچستان میں کارخانے یا تو بند ہوگئے یا بند ہونے کے قریب ہیں۔ سرکاری عدم توجہی کی بدولت کئی ملیں بند ہوچکی ہیں۔

پورا بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے، اگر کسی چیز کی کمی ہے تو اُس دولت کی درست جگہ استعمال کی، اگر بلوچستان میں معدنیات کے حوالے کارخانوں کا قیام سرکاری ترجیحات میں شامل ہوجائے تو بلوچستان کے لاکھوں لوگ روزگار سے وابسطہ ہوجائیں گے اور بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ بلوچستان کی ترقی سی پیک سے نہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی اُن معدنیات سے ہے، جو خدا کی طرف سے بلوچستان کی عطا کی گئی ہیں، یہی معدنیات بلوچستان کی پسماندگی دور کرسکتی ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
ببرک کارمل جمالی

ببرک کارمل جمالی

بلاگر بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کرچکے ہیں جبکہ بلوچستان کے مسائل پر دس سال سے باقاعدہ لکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف اخبارات میں آپ کے کالم اور بلاگ شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔