بیس کروڑ افراد کا قبرستان!

میاں عمران احمد  ہفتہ 4 مارچ 2017
خوف کے کچھ نشانات وقت کے ساتھ شاید مدھم پڑجاتے ہیں لیکن جو بھیانک منظر دھماکے میں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ اُس کے آثار رہتی دنیا تک فضاء کو خون کے رنگ سے ابر آلود رکھتے ہیں۔

خوف کے کچھ نشانات وقت کے ساتھ شاید مدھم پڑجاتے ہیں لیکن جو بھیانک منظر دھماکے میں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ اُس کے آثار رہتی دنیا تک فضاء کو خون کے رنگ سے ابر آلود رکھتے ہیں۔

میں ہال نُما کمرے کے اندر داخل ہوا، سلام کیا اور دائیں طرف دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ کمرہ ملتانی تہذیب کی عکاسی کررہا تھا، دیوار پر نیلی، سفید اور سُرخ ٹائیلوں سے نقش و نگار بنائے گئے تھے۔ کمرے کی چھت سفید سنگِ مرمر اور شیشے کے باریک کام سے سجی ہوئی تھیں۔ چھت سے ایک عدد فانوس لٹک رہا تھا۔ 

کمرے کے چاروں اطراف مخلتف کھڑکیاں تھیں۔ سورج کی آخری کرنیں کھڑکی کے شیشوں میں سے چھن کر دیوار سے ٹکرا رہی تھیں۔ دھیمی دھیمی گلاب کے عطر کی خوشبو ایک کونے سے اُٹھتی، دیواروں سے ٹکراتی اور پھر چھت سے ٹکرا کر، روشنی کی کرنیں لئے دوبارہ زمین پر نچھاور ہورہی تھی۔ روشنیوں اور خوشبو کا یہ ملاپ ماحول کو متبرک اور میری روح کو معطر کررہا تھا۔ مغرب کا وقت شروع ہوچکا تھا۔ سورج دنیا سے روٹھ کر آسمان کی آغوش میں سوگیا تھا اور آسمان اُس کی اداسی کے سرخ دھبوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ پرندے قطار بنا کر رقص کر رہے تھے، لیکن وہ ایک کونے میں خاموش بیٹھا تھا۔

کمرے کا شاندار ماحول اُس کی شخصیت پر بے اثر تھا، میں نے اُس کے ہونٹوں پر مُردوں جیسی خاموشی اور چہرے پر اداسی کی وجہ پوچھی۔ وہ کچھ دیر خاموش رہا، ویران آنکھوں کے ساتھ مجھے تکتا رہا اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گویا ہوا۔

کیا تم جانتے ہو کہ جب خودکش دھماکہ ہوتا ہے تو پھر کیا ہوتا ہے؟ میں نے نفی میں سر ہلِا دیا۔ اُس نے اپنے آنسو صاف کئے اور کہنے لگا کہ جب خودکش دھماکہ ہوتا ہے تو ہنستا کھیلتا انسان سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں زمین پر ٹکڑوں میں بِکھر جاتا ہے۔ کسی کی آنکھ ابل پڑتی ہے اور کسی کا بازو کٹ کر ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے۔ کوئی ٹانگیں گھسیٹنا چاہے تو ٹانگیں دھڑ سے جُدا ہوکر ٹکڑوں میں بِکھر جاتی ہیں۔ کسی کے پھیپھڑے سینے کو چیر کر جھولی میں گر جاتے ہیں، کسی کا سانس حلق سے نیچے نہیں جا پاتا، زمین پر گری تمام لاشیں خون سے رنگ جاتیں ہیں۔

وہ کچھ دیر کے لئے رُکا اور پھر گویا ہوا کہ دھماکہ ایک ایک اینٹ، سنگِ مرمر، شیشے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں، پنکھوں، کھڑکیوں اور دروازوں پر اپنے نہ ختم ہونے والے نقوش چھوڑ جاتا ہے اور خوف کے کچھ نشانات وقت کے ساتھ شاید مدھم پڑجاتے ہیں لیکن جو بھیانک منظر دھماکے میں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں دفن ہوجاتے ہیں، اُس کے آثار رہتی دنیا تک فضاء کو خون کے رنگ سے ابر آلود رکھتے ہیں۔

اُس نے کہا کہ خودکش دھماکوں میں مرنے والے اپنے ملک کے صاحبِ اقتدار لوگوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اُنہیں قتل کیوں کیا گیا؟ اُن کا قصور کیا تھا؟ اُن کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ مجھے یقین ہے کہ حکمرانوں کے پاس اِن سوالات کے جوابات نہیں ہوں گے، کیوں کہ جوابات دینے کیلئے اُن کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ اُنہیں دن رات اپنے ضمیر کو جھنجھوڑنا ہوگا۔ اُن کو اپنی صفوں میں غداروں کو تلاش کرنا ہوگا اور اُن کو ملک کے دوستوں اور دشمنوں میں فرق محسوس کرنا ہوگا۔

اگر اُنہوں نے ایسا نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب اُن کے اپنے پیارے بھی خود کش حملوں کا نشانہ بنیں گے اور اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا یہ ملک بیس کروڑ لوگوں کے قبرستان میں تبدیل ہوجائے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
میاں عمران احمد

میاں عمران احمد

بلاگر نے آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی لندن سے گریجویشن کر رکھا ہے۔ پیشے کے اعتبار سے کالمنسٹ ہیں، جبکہ ورلڈ کالمنسٹ کلب اور پاکستان فیڈریشن آف کالمنسٹ کے ممبر بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔