پی ایس ایل فائنل، گھاٹے کا سودا نہیں

اکرام سہگل  ہفتہ 4 مارچ 2017

فرانسیسی نیوی کے ٹیکنیشنز کو نشانہ بنانے کے لیے، مئی 2002ء میں کراچی کے ایک بڑے ہوٹل کے سامنے بس کو نشانہ بنایا گیا تو اس وقت نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم ایک دوسرے بڑے ہوٹل میں قیام پذیر تھی، اس واقعے کے بعد کیویز اپنا دورہ منسوخ کرکے وطن روانہ ہوگئے۔ پانج برس بعد، بے نظیر بھٹو کے قتل کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تو 2008ء میں آسٹریلیا نے اپنا دورۂ پاکستان منسوخ کردیا اور چیمپئنز ٹرافی کا ٹورنامنٹ جنوبی افریقا منتقل ہوگیا۔ 2008ء ہی میں ممبئی حملوں کے بعد بھارت کو کرکٹ کے حوالے سے ہماری تنہائی بڑھانے کا ایک اور موقع ہاتھ آیا اور بھارتی ٹیم کا 2009ء میں طے شدہ دورہ منسوخ کردیا گیا۔

یہ خلا  پُر کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ بھارت کی جانب سے انتقامی کارروائیاں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ 3 مارچ 2009ء کی صبح، لاہور کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے لیے جب سری لنکا کی ٹیم میدان کی جانب رواں دواں تھی تو درجن بھر حملہ آوروں نے لبرٹی چوک کے نزدیک اس پر گھات لگا کر وار کیا۔ حملے کی منصوبہ بندی نہایت باریک بینی سے کی گئی تھی، حملہ آوروں کا پہلا نشانہ گاڑیوں کے ٹائر تھے اور اس کے بعد کھڑکیوں پر گولیاں برسانا شروع کیں۔

حملہ آوروں نے کھلاڑیوں پر اس انداز میں فائرنگ کی کہ صرف چھ سری لنکن کھلاڑی زخمی ہوئے جن میں سے زیادہ تر کانچ کے ٹکڑوں اور اچٹ کر آنے والی گولیوں کی زد میں آئے۔ چاق چوبند بس ڈرائیور محمد خلیل وحشت زدہ نہیں ہوا اور اس نے اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے تیزی سے بس کو حملہ آوروں کی زد سے نکال لیا اور پولیس کی گاڑی نے جوابی فائرنگ کردی۔ محمد  خلیل سری لنکا کا قومی ہیرو بن گیا۔ جس پہلی گاڑی پر حملہ کیا گیا اس میں سوار تمام پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے۔  سیکیورٹی اہلکار اور عام شہریوں سمیت آٹھ پاکستانی اس حملے کی بھینٹ چڑھے، ان میں ایمپائروں کی بس کا ڈرائیور بھی شامل تھا۔ سری لنکن ٹیم کو قذافی اسٹیڈیم سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کیا گیا اور خصوصی پرواز سے کولمبو روانہ کردیا گیا۔

حملہ آوروں کے پاس خوراک اور پانی کا خاصہ ذخیرہ تھا، فائرنگ کرتے ہوئے ہتھیاروں کا رُخ قدرے بلند رکھنے کا واضح مقصد یہ تھا کہ وہ کھلاڑیوں کو قتل کرنے کے بجائے یرغمال بنانے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن کیا وہ ایسا تاوان حاصل کرنے کے لیے کررہے تھے؟ تامل ٹائیگر (ایل ٹی ٹی ای) بھارتی خفیہ ایجینسی ’’را‘‘کی پروردہ اور ترتیب یافتہ تنظیم ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب سری لنکن فوج کلونچی میں ایل ٹی ٹی ای کے سربراہ پربھاکرن اور اس کے باقی ماندہ دہشتگرد گروہ کو پسپا کرچکی تھی۔ اس وقت کے بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکرجی، پربھاکرن کو بچانے کے لیے  ہفتوں سری لنکا کی حکومت سے رابطے کی سر توڑ کوششیں کرتے رہے۔ اس صورت حال میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والا یہ حملہ کیا محض ایک حیرت انگیز اتفاق تھا؟

مقامی دہشتگردوں کی مدد سے کیے جانے والے اس  ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ کے دوہرے مقاصد تھے۔ اول یہ کہ سری لنکن کرکٹرز کے تبادلے میں پربھاکرن کی رہائی اور دوسرا مقصد پاکستان کو کھیل کی دنیا میں تنہائی کا شکار کرنا۔ دہشتگردوں کی ’’خدمات‘‘ حاصل کرنا ’’را‘‘ کا پرانا حربہ بلکہ پہچان ہے۔ راقم کے ایسے تبصروں پر وہ حلقے بہت جزبز ہوئے جو آج تک اس پر بھی یقین کرنے کو تیار نہیں کہ ’’گنگا‘‘ طیارہ اغوا ’’را‘‘کی سازش تھی، مشرقی و مغربی پاکستان کے مابین فضائی رابطہ منقطع کرنا جس کا مقصد تھا۔ 4 مارچ 2009ء کو سری لنکا کے وزیر خارجہ روہتا بگولاگاما نے لاہور حملے میں ایل ٹی ٹی ای کے ملوث ہونے کو قرین  قیاس قرار دیا اور چند یورپی خفیہ ذرایع نے ان شکوک کو مزید پختہ کردیا۔

اکثر جنوبی ایشیائی اقوام کی طرح پاکستان میں بھی کرکٹ کا شوق دیوانگی کی حد تک پایا جاتا ہے۔ مدت سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے عوام بے چینی کا شکار ہیں۔ انڈین پریمیئر لیگ کا فراہم کیا گیا سامان تفریخ ہمارے شائقین کے شوق کی تسکین نہیں کرسکتا تھا کیونکہ ہمارے میدان ویران تھے۔آئی پی ایل کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کے بائیکاٹ نے صورتحال کو مزید پریشان کُن بنادیا۔ بھارت نے کامیابی سے پاکستان کو کرکٹ کی حد تک تنہائی کا شکار کردیا۔ متحدہ عرب امارات میں ہونے والی پاکستان سپر لیگ پاکستانی شایقین کرکٹ کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی۔ پاکستانی میدانوں میں رونق اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد (چاہے ان میں سے اکثر کھلاڑی ریٹائرڈ ہی کیوں نہ ہوں) کے خیال  نے پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کو توقع سے بڑھ کر پذیرائی بخشی۔  پی ایس ایل کے فائنل کا لاہور میں انعقاد دہشتگردی کے خدشات کا منہ توڑ جواب ہے۔ اگر یہ فیصلہ نہ کیا جاتا تو یہ دہشتگردوں کے مقابلے میں شکست تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ بالخصوص لاہور میں دہشتگردی کی تازہ لہر کے باعث بھاری بھرکم پیشکش کے باوجود کئی غیر ملکی کھلاڑیوں کی پاکستان آمد غیر یقینی ہوچکی ہے۔

5 مارچ کو لاہور میں ہونے والے فائنل کے تمام ٹکٹ فروخت ہوچکے، کرکٹ کے دلدادہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کا مقابلہ اپنے ملک میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ بعض غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد متوقع ہے جنھیں اس کے لیے غیر معمولی مالی فوائد کی پیش کش کی گئی ہے۔

لیکن شاید ہی کسی کو سنگا کارا اور جے وردھنا کی آمد کی توقع ہو، یہ دونوں کھلاڑی مارچ 2009ء کے حملے میں زخمی ہوئے اور اب بھی یہ واقعہ ان کی یادداشت میں کسی ڈراؤنے خواب کی طرح محفوظ ہوگا۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کی عدم شرکت کے  باوجود یہ ایک غیر معمولی موقع ہوگا۔ آرمی چیف جنرل باجوہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو سیکیورٹی اقدامات کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروا چکے ہیں۔ یہ دو دھاری تلوار پر چلنے جیسا ہے، امن و امان کا قیام صوبائی حکومت کی ذمے داری  ہے، سب کچھ بخیر وخوبی انجام پایا تو شہباز شریف کی پذیرائی ہوگی لیکن خدا نخواستہ کچھ بھی ہوا تو موردِ الزام کون ٹھہرے گا؟

پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ فول پروف سیکیورٹی کے لیے اقدامات کیے جائیں لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ ان کی تفصیلات عام نہ ہونے دی جائیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کے باجود تماشائیوں کی بائیو میٹرک شناخت کرنے کا عمل صبر آزما ہو گا، تماشائی اس عمل سے ہونے والی تاخیر کے باعث مشتعل بھی ہوسکتے ہیں لیکن یہ انتہائی اہم مرحلہ ہے اس لیے ہزاروں تماشائیوں کی ناراضگی کا خطرہ مول لینا پڑے گا۔

کڑی نگرانی کے لیے ریڈیو کمیونیکشن کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط سادہ لباس اہل کاروں کو، میدان کے اندر اور باہر، تماشائیوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ خفیہ کیمروں کی مدد سے نگرانی، اہم مقامات پر سنائپرز کی تعیناتی سمیت دیگر کئی اقدامات انتہائی خاموشی سے کیے جاسکتے ہیں، اور یہ بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے کہ ان اقدامات کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ لاہور میں اہلکاروں کی تعیناتی اگر بہت زیادہ ظاہر کی گئی تو اس کا مثبت پیغام نہیں جائے گا۔ تعینات اہلکاروں کو ٹی وی پر اس طرح نہ دکھایا جائے کہ لاہور فوجی کیمپ کا منظر پیش کررہا ہو۔

دہشتگرد جب اور جہاں چاہیں حملے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر چند کہ سیکیورٹی اقدامات نے ان کی مزموم عزائم کی راہ میں مضبوط و مستحکم رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں، لیکن بھارت مسلسل ہمیں نقصان پہنچانے کی فکر میں ہے۔ افغان خفیہ اداروں کے کارندوں کی مدد سے ’’را‘‘ کی اس حصار کو توڑنے کی ہرکوشش ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ پیغام ہی سب سے بڑی کام یابی ہو گا کہ پاکستان دہشتگردوں اور سرحد پار ان کے آقاؤں کے ہاتھوں یرغمال ہونے کے لیے تیار نہیں۔ پی ایس ایل فائنل کا پُرامن انعقاد پاکستان کی نفسیاتی برتری ثابت ہوگا اور ملک میں کرکٹ کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ اس کے برعکس کچھ بھی ہوا تو وہ ان عناصر کی کامیابی ہوگی۔ یہ فائنل پاکستانی عوام کی جانب سے واضح پیغام ہے کہ ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنے دشمن کا، چاہے وہ کوئی بھی ہو، مقابلہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ فائنل کی فاتح چاہے کوئی بھی ٹیم ہو لیکن حقیقی فتح پاکستان کے عوام کی ہوگی، اس لیے  ایسا رسک لینا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔