عقل اور وجدان کی تحدید اور عدم تحدید (آخری حصہ)

عمران شاہد بھنڈر  ہفتہ 4 مارچ 2017
ibhinder@yahoo.co.uk

[email protected]

منطقی گہرائی علم کی وسعت کا باعث بنتی ہے، نہ کہ اس کے الٹ، اس طریقہ کار سے دستبردار ہوکر ایک ایسی صلاحیت کے سپرد ہونے کو ترجیح دی جائے جو خود اپنے تفاعل کو بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ایک ایسا طریقہ کار جس کی صداقت کو پرکھنے کا کوئی بھی معیار قائم نہ کیا جاسکے، اس کی صداقت کو کبھی حتمی صداقت نہیں تسلیم کرنا چاہیے۔ لہٰذا یہاں اقبال کا ’’منطقی فہم‘‘ کو محض اس بنا پر ’نقص‘ کا حامل ٹھہرانا کہ اس میں کثرت کو وحدت میں ضم کرنے کی اہلیت نہیں ہے، درست نہیں ہے۔

دوسرا اہم نکتہ یہاں پر یہ ہے کہ ’منطقی فہم‘ کے بارے میں ان کا نکالا گیا نتیجہ بھی درست نہیں ہے، یہ پوسٹ کانٹین جرمن فلسفے سے نابلد ہونے کا نتیجہ ہے۔ کلاسیکی جرمن فلسفے میں خیال یا عقل فعال ہیں، جن کا مقصد ’مطلق‘ تک رسائی حاصل کرنا ہے ، جب کہ ’’مطلق‘‘ کا اختتام ایک کلی وحدت پر ہوتا ہے، ایک ایسی وحدت جس میں کثرت محفوظ ہوچکی ہوتی ہے۔

ہیگل نے حتمی طور پر یہ ثابت کردیا تھا کہ متناہی کبھی بھی لامتناہی سے باہر یا ماورا نہیں رہتا، وہ لامتناہی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر متناہی لامتناہی کا حصہ بن کر اس میں محفوظ نہ ہو تو ایک نیا متناہی سامنے آن کھڑا ہوتا ہے، اس طریقے سے جو لامتناہیت قائم ہوتی ہے، وہ حقیقی لامتناہیت نہیں ہوتی، کیونکہ اس لامتناہیت سے متناہی ماورا رہتا ہے کہ جس کے سامنے ایک اور متناہی آن موجود ہوتا ہے۔ اس فلسفے کی نوعیت ایسی ہے کہ یہ کبھی بھی متناہی کے لامتناہی ہونے کے عمل سے باہر نہیں نکلتا۔ اور جب تک لامتناہی خود کی نفی کرکے متناہی وجود اختیار نہیں کرتا، اس وقت تک لامتناہی کی متناہیت بھی بحال نہیں ہوسکتی۔ خیال کی اس حرکت کے درمیان تمام وہ تعینات یا اقبال کے الفاظ میں کثرت جو کہ حقیقت مطلق سے ماورا نہیں بلکہ اس کی تشکیل کے دوران میں اس کے اندر سرائیت کیے ہوئے ہوتے ہیں، وہ مطلق حقیقت کی شکل میںایک وحدت کے طور پر تشکیل پاتے ہے۔ تعینات کا وسیع سلسلہ حقیقت میں کثرت کا وحدت میں یکجا ہونے کا ہی عمل ہے۔

اقبال نے اس سارے عمل کا باریک اور منطقی، تعقلی تجزیہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے الٹ خیالات کو یکجا کرکے بعد ازاں جہاں چاہا ان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر دیا ہے۔ وہ منطقی طریقہ کار کہ جس کی تحقیر کی کوشش کی گئی ہے، کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ منطقی اصولوں کے علاوہ کسی اور اصول کا تابع ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر عقل کی خصوصیت کیا ہے؟ عقل کس طریقہ کار کو اختیار کرکے وجدان کے متماثل قرار پاتی ہے؟ یہ ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب منطقی، تعقلی طریقہ کار کے تحت ہی دیا جاسکتا ہے۔ عقل جونہی کسی ’’مطلق حقیقت‘‘ کا تجزیہ کرتی ہے تو سب سے پہلے اس کے تجریدی پن کو عیاں کرتی ہے، اس کے تجریدی پن، اس کی لامتناہیت کی نفی اس کثرت کی تشکیل کی طرف پہلا قدم ہے جس کو خود اس کل کے اندر تشکیل پانا ہے۔ عقلی تجزیہ کسی بھی جز کو کل سے باہر لاکر اس کا تجزیہ نہیں کرتا، اگر ایسا ہو تو ثنویت کا قضیہ دوبارہ جنم لے لیتا ہے۔ منطقی، تعقلی تجزیے میں لامتناہیت کی نفی کا واحد مقصد اس کے خصائص یعنی کل کو ان کے مقرون میں جاننا ہے۔

منطقی، تعقلی طریقہ کار کل کو اس کی کلیت میں مقرونی اجزا کی شکل میں جاننے کا نام ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت عقل کسی حسیاتی ادراک پر پہلے سے موجود جامد تصورات کا اطلاق نہیں کرتی، جیسا کہ بعد ازاں خود اقبال نے فکر کو ہیگل کی تقلید میں متحرک تسلیم کرتے ہوئے اقرار کیا تھا۔ اقبال کی فکر کا بنیادی نقص بہرحال یہ ہے کہ اس میں بیک وقت متضاد خیالات کی تبلیغ کا پہلو دکھائی دیتا ہے۔ اب اس اگلے اقتباس میں ملاحظہ کریں کہ جس میں وہ اپنے ہی پہلے خیال کی واضح نفی کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

’’اپنی گہری حرکت میں، بہرحال، فکر داخلی لامتناہیت تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے جس کی خود انکشاف حرکت میں مختلف متناہی تصورات فقط لمحے ہیں۔ اپنی اساسی فطرت میں ، فکر جامد نہیں ہے؛ متحرک ہے جو زمان میں اپنی داخلی لامتناہیت کو منکشف کرتی ہے۔‘‘

’’فکر، بہرحال، اپنے حرکی اظہار میں ایک کل ہے۔‘‘

ان اقتباسات میں کوئی ایسی شے نئی نہیں ہے جو اقبال کی بحیثیت ’مفکر‘ کوئی تخصیص قائم کرسکے۔ یہ محض ہیگلیائی نتیجے کو اپنے ہی نام سے پیش کرنے کی کوشش ہے۔ ’’منطق کی سائنس‘‘ کی بنیاد ہی حسیات سے نجات کے تصور پر ہے، جہاں عقل خود کفیل ہوتی ہے۔ وہ اپنا معروض خود وجود میں لاتی ہے۔ آخری نتیجہ بہرحال اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ اقبال نے منطقی فہم کی پہلے یہ وضاحت کی کہ یہ کثرت کو ایک وحدت میں ضم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی اور بعد ازاں خود ہی اپنے بنیادی خیال کی نفی کردی کہ فکر اپنے’’ حرکی اظہار میں ایک کل‘‘ ہے۔

یہاں ہیگل کی تقلید میں اقبال نے یہ تسلیم کیا ہے کہ فکر فعال ہے، متحرک ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا فکر کا کوئی غیر حرکی اظہار بھی ہے؟ اگر ایسا کوئی غیر حرکی اظہار ہے تو اس کے نتائج کو سامنے رکھ کر فکر کی تحقیر بھی نہیں کی جاسکتی ، وجہ یہ کہ فکر کا حرکی اظہار اس کے ’’غیر حرکی اظہار‘‘ سے زیادہ بہتر نتائج کی تشکیل کر سکتا ہے۔

اگر فکر اپنے حرکی اظہار میں ایک ’کل‘ ہے تو اس کے غیر حرکی اظہار کو محض اس لیے تصور کر لیا جائے کہ وہ کل تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی ، اس لیے قابل مذمت ہے؟ اور وجدان چونکہ ’کل‘ کا نظارہ کرتا ہے اس لیے وہ فکر کے غیر حرکی اظہار سے ’برتر‘ ہے؟ اس دلیل کی تو محض اپنی خواہش کی تسکین کے علاوہ اور کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ وجدان جن مابعد الطبیعاتی قضایا سے نبرد آزما ہوتا ہے، وہ اپنی سرشت میں غیر حرکی یا جامد ہیں۔ مابعد الطبیعات اپنی انتہا میں ایک جامد تصور پر قائم ہے۔ جب کہ حرکت مابعد الطبیعات کی نفی کرتی ہے، کیونکہ مابعدالطبیعات جمود پر قائم ہے۔ اگر جمود کو تسلیم نہ کیا جائے توکسی بھی طرح کے ’’مذہبی تجربے‘‘ کو تسلیم کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ لہٰذا فکر کی وہ خصوصیت جو کہ اس کی فعلیت کی تصدیق کراتی ہے، وہ اپنی سرشت میں ہر طرح کے جامد مابعد الطبیعاتی تصور کی نفی کرتی ہے۔

منطق کے طالب علم کے لیے اس نکتے کو سمجھنا قطعی طور پر مشکل نہیں ہے کہ تجزیے کے دوران اگر کچھ بھی فکر کی پہنچ سے ماورا رہ جاتا ہے تو اس دعویٰ کا خود ہی ابطال ہوجاتا ہے کہ عقل اور وجدان متماثل ہیں۔ متماثل ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وجدان و عقل کے مافیہا میں مکمل تطابق پایا جاتا ہے۔ یہ تطابق کسی ایک صلاحیت کو دوسری سے برتر قرار دینے سے برقرار نہیں رکھا جاسکتا اور اگر تطابق برقرار نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں کو ایک دوسرے کے مخالف کے طور پر پیش کر دیا گیا ہے۔

محض ’مذہبی تجربے‘ کی بغیر کسی بھی دلیل کے تصدیق کرانے کی خاطر اس قسم کے دلائل تراش لیے جاتے ہیں۔ نکتہ بہرحال یہاں سے یہ جنم لیتا ہے کہ کل، لامتناہی، تجریدی کی اس کے اجزا کے ذریعے تصدیق عقل ہی کے تجزیاتی طریقہ کار کی تابع ہے اور جس کے نتائج کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کل اپنی کوئی شناخت ہی نہیں رکھتا، اس کی وجدانی شناخت بھی تجریدی ہے، جو خصائص سے عاری ہے، اس کے خصائص کی شناخت اس کل ہی کی شناخت ہے، جس کے کہ وہ خصائص ہیں۔ یہاں جز کو کل کے متخالف کے طور پر نہیں اس کے متماثل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

وجدان کی معذوری بہرحال یہ ہے کہ وہ اس کل کے خصائص کی کبھی بھی شناخت نہیں کراسکتا کہ جن کی شناخت کیے بغیر ہمارے علم میں ایک انچ کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ وجدان محض وہ ابتدائی صلاحیت ہے جو کسی بھی شے، وجود وغیرہ کے ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ مغربی فلسفے میں وجدان کو ایک کمتر صلاحیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو ان تمام تعینات کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے، تفہیم کے عمل میں جن کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔