پی ایس ایل فائنل کا حصہ نہ بننے والے غیرملکی کھلاڑیوں کا نیک خواہشات کا اظہار

ویب ڈیسک  اتوار 5 مارچ 2017
فائنل نہ کھیلنے پر معافی کا طلب گار ہوں اور اگلی بار سیکیورٹی خدشات نہیں ہوں گے اور میں لاہور ضرور جاؤں گا،لیوک رائٹ۔ فوٹو : فائل

فائنل نہ کھیلنے پر معافی کا طلب گار ہوں اور اگلی بار سیکیورٹی خدشات نہیں ہوں گے اور میں لاہور ضرور جاؤں گا،لیوک رائٹ۔ فوٹو : فائل

پاکستان سپر لیگ میں شامل غیر ملکی کھلاڑیوں کی جانب سے فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کا رنگا رنگ میلہ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں جاری ہے جہاں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز مد مقابل ہیں جب کہ دونوں ٹیموں میں ویسٹ انڈیز کے ڈیرن سیمی، مارلن سیمیولز اور بنگلہ دیش کے انعام الحق سمیت دیگر غیر ملکی کھلاڑی شامل ہیں تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث بہت سے غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان میں کھیلنے سے معذرت کرلی تھی تاہم اب انہوں نے فائنل میں پہنچنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کی ٹیموں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

سری لنکا سے تعلق رکھنے والے کراچی کنگز کے کپتان کمار سنگاکارا نے ٹوئٹر پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں زبردست مقابلہ ہوگا، امید ہے کہ مداح پی ایس ایل فائنل سے لطف اندوز ہوں گے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں شامل سری لنکا کے ایک اور کھلاڑی تھسارا پریرا نے بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے ٹوئٹر پر ویڈیو پیغام میں نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ کوئٹہ کی ٹیم پی ایس ایل فائنل جیت جائے گی۔

سیکیورٹی خدشات کے باعث لاہور نا آنے والے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم میں شامل انگلش ٹیم کے سابق کپتان کیون پیٹرسن نے بھی ٹوئٹ میں اپنی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں کوئٹہ کی ٹیم کے ساتھ ہوں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں ہی شامل انگلش آل راؤنڈر لیوک رائٹ نے بھی ٹوئٹ میں کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پی ایس ایل آپ لوگوں کے لیے کتنی اہم ہے لیکن فائنل نہ کھیلنے پر معافی کا طلب گار ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اگلی بار سیکیورٹی خدشات نہیں ہوں گے اور میں لاہور ضرور آؤں گا۔

کراچی کنگز میں شامل انگلش کھلاڑی روی بوپارہ نے بھی ٹوئٹر پر اپنی ٹیم کراچی کنگز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے لوگوں کی جانب سے سپورٹ پر ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔