اردو کی معیشت اور ’’سیک‘‘ سیمینار

اقبال خورشید  پير 6 مارچ 2017

انسان کچھ کرنے کی ٹھان لے، ارادہ باندھ لے، تو رکاوٹیں ڈھنے لگتی ہیں، مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔

ہفتے کو کراچی کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں ’’سیک سیمینار‘‘ کے تحت جو کہکشاں سجی، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جذبہ ہو، انسان چاہے، دو قدم اٹھائے، تو منزل خود سامنے آجاتی ہے۔ اس روز سوشل میڈیا اور صحافت سے جڑے کتنے ہی ستارے آنگن میں تھے۔ دیگر فیسٹیولز اور کانفرنسوں کے برعکس لوگ ہزار روپے کا ٹکٹ خرید کر انھیں سننے آئے۔ الگ الگ شہروں سے تھے، الگ الگ نظریات کی نمایندگی کرتے تھے، مگر اس روز دوپہر سے رات گئے تک چلنے والے اس سیمینارمیںموجود رہے، سب کوتوجہ سے سنا، داد دی، سوالات اٹھائے، اور سیلفیاں لیں۔

’’سیک‘‘ ایک نوجوان ثاقب ملک کے ارادے، لگن اور محنت کا ثمر ہے۔ لاہور سے تعلق، مزاح پر ان کی خوب گرفت۔ معروف کالم نگاروں کی باکمال پیروڈی لکھتے ہیں۔ کچھ برس قبل فیصلہ کیا کہ سوشل میڈیا پر سرگرم شخصیات کو، جو مختلف افکار کی حامل، جنھیں پڑھنے والوں کی بڑی تعداد موجود، ایک چھت تلے اکٹھا کیا جائے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے ملیں، مکالمہ ہوا۔ یعنی ایک ایسا پلیٹ فورم بنانے کا ارادے رکھتے تھے، جہاں لبرل اور اسلامسٹ، سب مل بیٹھیں۔ ایک کامیاب سیمینار اسلام آباد میں کیا، ایک لاہور میں۔ اب روشنیوں کے شہر کی سمت متوجہ ہوئے۔

ادھر ٹکٹ خرید کر سیمینار میں شرکت کا رواج نہیں، مگر ان کی کوششوں سے یہ مرحلہ بھی طے ہوا۔ دوست ان کے کام آئے۔ اور یوں ایک خوبصورت شام سجی۔ سامعین نے دھیان لگا کر شکیل عادل زادہ، اعجاز منگی، عامر ہاشم خاکوانی، مبشر علی زیدی، محمد طاہر، جمیل خان، رعایت اللہ فاروقی، فیض اللہ خان، ڈاکٹر اسحاق عالم، خرم سہیل، رانا محمد آصف اور عاطف حسین کو سنا۔ تالیاں بجائیں، اختلاف کیا۔

ہم نے اردو کی معیشت اور ادیبوں کے المیہ پر بات کی۔ یہ غیرمقبول موقف اختیار کیا کہ فی الحال اردو کو دفتری زبان کے طور پر نافذکرنا ممکن نہیں، یہ ضد چھوڑ دی جائے۔ عالمگیریت کے بعد اردو سے جڑے یافت کے امکانات دن بہ دن گھٹ رہے ہیں۔ یہ علوم کی زبان نہیں۔ کاروبار، ٹیکنالوجی، اسپورٹس، انٹرٹینمنٹ، ہر جگہ اس کی اہمیت گھٹ رہی ہے۔

صحافت جیسے پیشے میں بھی انگریزی کو فوقیت حاصل۔ تو بہتر ہے، انگریزی سے دور ہونے، لڑنے جھگڑنے کے بجائے اس کی عالمی حیثیت تسلیم کریں، اپنے بچوں کو انگریزی کی طرف راغب کریں۔۔۔ یہ بات بھی ہوئی کہ اردو کیوں بے حیثیت ہوئی؟ کیوں اس خطے کے باسیوں میں احساس کمتری کا جنم ہوا؟ اور مسئلے کا حل کیا ہے؟ ہم نے یہی تجویز دی کہ اردو اور انگریزی؛ دونوں زبانوں کو بوسیدہ نصابی کتابوں سے نکل کر، جدید تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے عملی انداز میں پڑھایا جائے۔ باقاعدہ پریکٹیکل ہوں۔ اساتذہ اور طلبا کو سماج میں اہمیت دی جائے۔ اشرافیہ کی فکر تبدیل ہو۔ والدین کے رویے بدلیں۔

اسی سے یہ سوال جڑا تھا کہ کیوں ہمارا ادیب حقیقی شہ پارہ تخلیق نہیں کرسکا؟ کیا اس میں صلاحیت کی کمی ہے؟ اب یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ عالمی منظر میں اردو ادب حاشیہ پر بھی نہیں کہ ہمارے ادیبوں کے فن پارے عالمی ادبی فہرستوں میں جگہ نہیں پاسکے۔ البتہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان میں صلاحیت اور لگن کی کمی ہے۔ اگر ایسا ہوتا، تو کیا نامساعد حالات، بے قیمتی اور گرانی میں ادب تخلیق کرپاتے؟ انھوں نے جم کر وکٹر ہیوگو، ڈکنز، مارک ٹوئن، ٹالسٹائی، دوستوفسکی، جین آسٹن اور او ہنری کو پڑھا۔ ان کے اسلوب کو سمجھا، حالات زیست اور افکار سے واقفیت حاصل کی، اور ان کا ترجمہ کرکے ان زمینوں تک رسائی حاصل کرلی، جہاں عظیم فن پاروں کے بیج گرے تھے۔ خود بھی نابغہ روزگار تھے، انھیں جنگ، غلامی، سیاسی تحاریک، ہجرت اور غربت سمیت ادب کے تمام اہم موضوعات میسر تھے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ منٹو، بیدی، احمد ندیم قاسمی، قرۃ العین حیدر، انتظار حسین، انور سجاد، عبداللہ حسین، اسد محمد خاں، نیر مسعود، حسن منظر، مستنصر حسین تارڑ حقیقی فن پارہ تخلیق نہ کرسکے ہوں؟

بے شک انھوں نے اچھا ادب تخلیق کیا، مگر اردو کی کمزور معیشت آڑے آگئی۔ ناخواندگی اور غربت سے جو جھتے عوام، اشرافیہ کی اردو سے دوری، حکومتی غفلت۔۔۔ ان عوامل کی وجہ سے ادیب کبھی رائے عامہ کے نمایندے نہیں بن سکے۔ پھر ایک المیہ اور رہا۔ ہمارے ادیبوں کی تخلیقات کا عالمی زبان، یعنی انگریزی میں ترجمہ نہیں ہوا۔ ہوا بھی، تو شاید وہ اتنا معیاری نہیں تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری تخلیقات کا بھی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو، تاکہ ہم اپنی حیثیت کا تعین کرسکیں۔یقینی طور پر ہم ’’جنگ اور امن‘‘، ’’اے ٹیل آف ٹو سٹیز‘‘، ’’موبی ڈک‘‘ اور ’’تنہائی کے سو سال‘‘ کی عظمت سے کوسوں دور ہیں، مگر اتنے بودا نہیں کہ یکسر نظرانداز کر دیے جائیں۔

اردو ادب میں وہ عنصر ہے، جو انگریزی میں ڈھلنے کے بعد قارئین کو متوجہ کرسکتا ہے۔ اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی کہ بپسی سدھوا، محسن حامد، محمد حنیف، کاملہ شمسی اور فاطمہ بھٹو نے اسی خطے کی کہانیاں انگریزی میں بیان کرکے عالمی شہرت اور متعدد اعزازت حاصل کیے۔ جن صاحبان نے پاکستانی ادیبوں کا انگریزی ادب پڑھا ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ ان میں سے بیش تر کہانیاں اگر اردو میں بیان کی جاتیں، تو شایدہی کوئی ان کی سمت متوجہ ہوتا۔ الغرض اردو ادیبوں میں صلاحیت تھی، مگر اردو کی کمزور معیشت اور معروضی حالات نے ان کا کینوس محدود کردیا۔

شکیل عادل زادہ نے بھی اپنی گفتگو میں اردو کی کمزور معیشت کا ذکر کیا، انگریزی کے بڑھتے اثرات پر بات کی، اور یہ خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں شاید یہ فقط بولی رہ جائے۔ یہ بھی کہا کہ اردو میں ستر فیصد الفاظ ہندی سے آئے ہیں، گرامر ہندی کی ہے، مگر آج جب کوئی آشیرواد یا ترنت کا لفظ بولتا ہے، تو یار لوگ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔ وہاں ان سے ’’سب رنگ‘‘ کی تجدید اور ’’بازی گر‘‘ کی تکمیل سے متعلق بھی بات ہوئی۔

یوں تو سب ہی نے بھرپور گفتگو کی، مگر مسیحی برادری کی پاکستانی سماج سے بیگانگی ختم کرنے کے لیے کوشاں سماجی کارکن اعظم معراج کی تقریر نے گہرا اثر چھوڑا کہ وہ دل سے نکلی تھی، اور دلوں میں اتر گئی۔ ’’سبز و سفید ہلالی پرچم‘‘، ’’دھرتی جائے کیوں پرائے‘‘ اور ’’شناخت نامہ‘‘ جیسی کتابوںکے اس مصنف کا دل خلوص سے بھرا ہے۔

عمار یاسر زیدی کے سیشن کا تذکرہ ازحد ضروری، جنھوں نے ایم کیو ایم کے ماضی حال اور مستقبل پر ایک بھرپور مضمون پڑھا۔ ان کے سامنے کاٹ دار سوالات کی قطار لگی تھی، جنھیں عمار زیدی نے خوب سنبھالا۔ یہ سیشن سیمینار کا حاصل رہا۔ بعد میں جب ’’کیا کراچی بدل رہا ہے‘‘ کے موضوع پر پینل ڈسکشن ہوئی، تب بھی ایم کیو ایم غالب رہی۔ اور یہ حیرت انگیز نہیں۔ ایم کیو ایم کے بغیر کراچی کا تذکرہ ادھورا ہے۔ اگر فیصلہ سازوں اور ایم کیو ایم نے اپنے مفادکے بجائے عوام کے مفادات پیش نظر رکھے ہوتے، تو آج کراچی اس خطے کے ماتھے کا جھومر ہوتا۔

ڈنر کے بعد سیمینار سے لوٹا، تو دن بھر کی بھاگ دوڑ کے باوجود تھکن کا شائبہ بھی نہ تھا۔ ایک بھرپور دن تمام ہوا، سیک سے جڑی کتنی ہی حسین یادیں چھوڑ گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔