سوئٹزر لینڈ لوٹی گئی دولت کی معلومات دینے پر رضامند

ایڈیٹوریل  جمعرات 9 مارچ 2017
۔ فوٹو: فائل

۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدھ کو ایوان زیریں اور اس کے بعد ایوان بالا میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ پاکستان سے لوٹی گئی دولت کے بارے میں ہماری شرائط پر معلومات دینے پر رضا مند ہو گیا ہے‘ اس حوالے سے کوشش ہے کہ 21مارچ ہی کو معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستانی وفد سوئٹزرلینڈ جائے جس سے جنوری 2018ء سے سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی رقومات کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ شروع ہو جائے گا۔

سوئٹزرلینڈ کا پاکستان سے لوٹی گئی دولت کے بارے میں معلومات فراہم کرنا یقیناً خوش آیند ہو گا، اس سے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ کن پاکستانیوں نے کب  اورکتنی رقوم ان بینکوں میں جمع کرائی۔ وزیر خزانہ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں اس وقت پاکستانیوں کے 80سے 200 ارب ڈالرز موجود ہیں۔ یقیناً یہ پاکستان سے لوٹا گیا خطیر سرمایہ ہے جسے ملک میں واپس لایا جانا ضروری ہے‘جن پاکستانیوں نے غیر قانونی طور پر یہ رقوم بیرون ملک منتقل کی ہیں ان کا بھی احتساب کیا جانا چاہیے۔

ابھی تو دونوں ملکوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہو گا اس کے بعد رقوم کی واپسی کے لیے کیا معاملات طے پاتے ہیں اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہاں جا سکتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف حلقوں کی جانب سے یہ مسلسل آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ غیرقانونی طور پر کثیر سرمایہ بیرون ملک جا رہا اور اس سلسلے میں کوئی روک ٹوک بھی نہیں ہے۔ اقتدار میں شامل افراد‘ سیاستدان‘ بیوروکریٹ اور جاگیردار ملک سے لوٹی گئی رقم چھپانے کے لیے انھیں بیرون ملک منتقل کر رہے جس کے لیے مختلف غیرقانونی ہتھکنڈے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہر حکومت نے کرپشن اور ملکی سرمائے کی غیرقانونی طور پر بیرون ملک منتقلی روکنے کی یقین دہانی کرائی مگر بات اس سے آگے نہ بڑھ سکی۔

بعض افراد اپنا پیسہ ہنڈی کے ذریعے بھی بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں جس کا کوئی حساب کتاب منظر عام پر نہیں آتا‘ ہنڈی کے اس کاروبار میں بااثر افراد ملوث ہوتے ہیں جو اپنے اثرورسوخ کے باعث قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔ پاناما لیکس کے اسکینڈل  سے بھی جو حیران کن انکشافات سامنے آئے اس کے مطابق دنیا بھر کے حکمرانوں نے ملک سے لوٹی گئی اپنی رقوم چھپانے کے لیے بیرون ملک مختلف کمپنیوں اور بینکوں کا سہارا لے رکھا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کے کرپٹ افراد اپنی رقوم چھپانے کے لیے ان کے بینکوں کا رخ کرتے ہیں مگر اس کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

سوئٹزرلینڈ کو دنیا بھر کے لوگ اپنے اپنے ممالک سے کرپشن‘ ٹیکس چوری اور دیگر ناجائز ذرایع سے حاصل ہونے والی آمدن چھپانے کے لیے پسند کرتے اور وہاں کے بینک اس حوالے سے عالمگیر شہرت رکھتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کو ادراک ہے کہ اگر کرپشن کی رقم روکنے کے لیے اس کے خلاف قانون سازی کی گئی تو اتنے کثیر پیمانے پر رقوم کی آمد رک جائے گی جس سے ان کی معیشت کو نقصان پہنچے گا لہٰذا کرپشن کی اس دولت کو چھپانے میں ترقی یافتہ ممالک کے پالیسی سازوں کے ہاتھ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان 14ستمبر2016ء کو آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے ساتھ ٹیکس معاملات کے حوالے سے ایک ملٹی لیٹرل کنونشن پر بھی دستخط کر چکا ہے جو اگلے برس فعال ہو گا‘ پاکستان او ای سی ڈی کا 104واں رکن ہو گا‘ اس کنونشن کے فعال ہونے کے بعد رکن ممالک میں ٹیکس چوری کے پیسے رکھنا نا ممکن ہو جائے گا‘ او ای سی ڈی ملٹی لیٹرل کنونشن سوئس معاہدے سے زیادہ بہتر ہو گا اور معلومات کے تبادلے سے پاکستان پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

ٹیکس چوری کے پیسے بیرون ملک منتقل کرنا یقیناً جرم ہے لیکن اس حوالے سے بھی معاہدہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ بیرون ملک بینکوں میں اپنا پیسہ بھیج رہے ہیں اس سے ان بینکوں کی جانب سے ان افراد کے متعلقہ ممالک کو بھی آگاہ کیا جائے اس طرح  کرپٹ افراد کے لیے اپنی رقوم بیرون ملک منتقل کرنا مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان اپنے اخراجات پورا کرنے کے لیے بیرون ملک سے قرضے حاصل کرتا ہے اگر ملک سے لوٹ کر بیرون ملک منتقل کی گئی رقوم وطن واپس لائی جائیں تو اس سے یقیناً پاکستان کو قرضوں سے نجات مل جائے گی اور ان رقوم سے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔ کرپشن کی رقم بیرون ملک منتقل کرنا مالیاتی دہشت گردی سے کسی صورت کم نہیں اس کے انسداد کے لیے بھی ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ معاہدہ ہونا چاہیے ورنہ ترقی پذیر ممالک سرمائے کی کمی کے باعث مستقل مسائل اور استحصال کا شکار رہیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔