بچوں کی شرح تعلیم اور حقائق

ایڈیٹوریل  جمعرات 9 مارچ 2017
۔ فوٹو: فائل

۔ فوٹو: فائل

ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریباً دو کروڑ26 لاکھ بچے ابھی تک اسکول نہیں جاتے ہیں جن میں صوبہ بلوچستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جس کے بعد فاٹا کے بچوں کا نمبر آتا ہے جو اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کی نعمت سے محروم ہیں جب کہ ملک کے نامور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سرکاری رپورٹ میں بچوں کی اسکول سے باہر رہنے کی جو تعداد بتائی گئی ہے حقیقی طور پر ان بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے گو کہ سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دو سال میں اسکول جانے والے بچوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے باوجود یہ صورت حال اس قدر تشویشناک ہے جس کے لیے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق 5 سے 16 سال کے عمر کے44 فیصد بچے ابھی تک اسکولوں سے باہر ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں21 فیصد پرائمری اسکولوں کا انتظام صرف ایک ٹیچر چلا رہا ہے جب کہ 14 فیصد اسکول صرف ایک کمرے پر مشتمل ہیں۔ یہ تلخ انکشافات پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹ ٹس ٹکس 2015-16ء کے عنوان سے تیار کی جانے والی رپورٹ میں کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یکم کلاس سے دہم تک صرف  30 فیصد بچے اسکولوں میں رہتے ہیں جہاں تک اسکولوں کے انفراسٹرکچر کا تعلق ہے تو 40 فیصد سرکاری اسکولوں میں بجلی نہیں ہے۔

28 فیصد میں ٹوائلٹ نہیں جب کہ43 فیصد اسکولوں کی چار دیواری ہی نہیں ہے۔ بلوچستان میں70 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں جب کہ فاٹا میں 58 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔ موجودہ صورتحال افسوسناک ہی نہیں بلکہ اس میں دن بدن بہتری کے بجائے مزید ابتری پیدا ہو رہی ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کے بارے میں اپنی ترجیحات میں تبدیلی پیدا کرتے ہوئے اسے اولین درجہ میں رکھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔