’’ہمارا خاندان اب مکمل طور پر ملائی ہے‘‘

مقتدا منصور  اتوار 13 جنوری 2013
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

مزنہ حمید کے شوہر شاہین مرزا حبیب کا شمار ملائیشیا کے چند بڑے بلڈرزاورڈیولپرز میں ہوتا ہے۔

ان کے ایرانی نقوش، سرخی مائل سفید رنگت اور لمبا تڑنگا جثہ انہیںمقامی لوگوں سے منفرد کرتے ہوئے ان کے پاکستانی ہونے کی چغلی کھاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی اور کام یابیوں کی کہانی یوں سناتے ہیں: میں 1952ء میں لاہور میں پیدا ہوا۔ میرے والد حبیب جان بیگ ریلوے میں ملازم تھے۔ ہمارا گھر نسبت روڈ پر دیا سنگھ کالج کے ہاسٹل کے سامنے والی گلی میں آج بھی موجود ہے، جس میں میرے والد مرحوم کے کزن کی فیملی رہتی ہے۔ ہمارے ملائیشیا آنے کی کہانی بالکل مختلف نوعیت کی ہے۔ میرے پرنانا مرزا مطیع احمد جو سرویئر تھے، انہیں انگریز حکومت نے 1910ء میں برٹش ملایا (اس وقت یہ ملک ملایا کہلاتا تھا) بھیجا، جہاں وہ زمینوں کی سروے کے کام کی نگرانی کرتے تھے۔ انہوں نے کوالالمپور سے60 کلومیٹر جنوب میں ایک قصبے سرمبن کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ ان کی دو بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔

بیٹیوں کی شادی انہوں نے اپنے خاندان میں کیں اور دامادوں کو ملایا میں گھر داماد رکھ لیا۔ میرے نانا مرزا عبدالرشید بیگ ان کے سب سے بڑے داماد اور میری دادی کے فرسٹ کزن تھے۔ جب میری والدہ دو برس کی تھیں تو وہ اپنے خاندان سے ملنے ہندوستان آئے۔ میری دادی نے ان کی بیٹی کو اپنے بیٹے کے لیے مانگ لیا۔ ان کے واپس جانے کے کچھ عرصہ بعد دوسری عالمی جنگ چھڑگئی اور دونوں خاندانوں کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ 1950ء میں جب رابطہ بحال ہوا تو میری دادی نے ایک بار پھر انہیں پرانی بات یاد دلائی۔ یوں 1950ء میں میرے والد شادی کی غرض سے ملائیشیا آئے اور شادی کے بعد واپس لاہور چلے گئے۔ یوں میری ولادت 1952ء میں لاہور میں ہوئی۔

شادی کے بعد میری والدہ رخصت ہوکر والد کے ساتھ لاہور چلی گئیں، مگر انہوں نے پاکستانی شہریت اختیار کرنے کے بجائے ملائی شہریت برقرار رکھی۔ 1960ء میں جب ہماری والدہ اپنے والدین سے ملنے ملائیشیا آئیں تو اس وقت تک ہم چاروں بہن بھائی پیدا ہوچکے تھے۔ ملائیشیا آنے کے بعد میری والدہ نے بہتر اچھی تعلیم اور مستقبل کی خاطر ہم تین بچوں کو نانا کے پاس چھوڑدیا، جب کہ سب سے چھوٹے بیٹے فہیم کو ساتھ لے کر لاہور چلی گئیں۔ یوں ہم نے اپنے نانا مرزا عبدالرشید اورنانی سرپرستی میں تربیت پائی اور ہماری خالہ نے ہماری نگہداشت کی۔ نانا کی مالی حالت کچھ زیادہ اچھی نہیں تھی۔

ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب میں یونیورسٹی میں داخلے کے لیے کوالالمپور آیا تو نانا کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ میری فیس ادا کرتے۔ لہٰذا میں شام کو ایک فرم میں جزوقتی کام کرنے لگا۔ یہ بہت کڑے دن تھے۔ میں ایک کمرے میں ایک دوست کی پارٹنر شپ میں رہتا۔ ایک مچھلی خریدتے اور چاول ابال کر دونوں دوست پیٹ کی آگ بجھاتے۔ اس طرح دو برس گزرگئے اور میں نے اکاوئنٹنگ کے ساتھ گریجویشن کرلیا۔ اب مجھے ایک فرم میں اچھے مشاہرے پر ملازمت مل گئی۔ یہ 1975ء کی بات ہے۔ اسی دوران میری ملاقات ایک ملائی خاتون سے ہوئی، جس کی پرورش میری ہی طرح اس کے نانا نے کی تھی۔ ہم دونوں میں دوستی ہوگئی، جو آگے چل کر محبت میں تبدیل ہوگئی۔ ہم دونوں نے بزرگوں کی رضامندی سے1979ء میں شادی کرلی۔

دو برس تک میں دن بھر ایک فرم میں کام کرنے کے بعد شام کو دوسری فرم میں جزوقتی کام کرتااور رات گئے گھر پہنچتا، جب کہ میری بیگم شام پانچ بجے گھر پہنچنے کے بعد کھانا تیار کرتیں اور اگلے روز کے لیے کپڑوں پر استری کرتیں۔ اس دوران ہم نے طے کیا کہ کچھ بھی ہو ہمیں خود اپنا کاروبار کرنا ہے۔ یوں ہم نے1981ء میں ایک ناکام سیکیوریٹی فرم قسطوں میں خریدی اور ان تھک محنت کرکے اسے ملائیشیا کی ایک کام یاب سیکیوریٹی فرم بنادیا۔ مجھے ایک تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے کا تجربہ تھا، اس لیے جب حالات قدرے بہتر ہونا شروع ہوئے تو میں نے اس جانب توجہ مبذول کرنا شروع کی اور ایک قطعۂ اراضی لے کر اس پر فلیٹ تعمیر کرکے فروخت کیے۔ یوں 1990ء کے عشرے میں دانو لومایان (Danau Lumayan)شروع کی اور تعمیراتی کام کا آغاز کیا۔ میں پوری توجہ اپنی تعمیراتی کمپنی دانو لومایان پر صرف کرنے علاوہ اپنی اہلیہ کی سیکیورٹی فرم کے حسابات کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔ ساتھ ہی ہماری کلیرنگ فارورڈنگ کی کمپنی بھی ہے، جس کی شاخیں ملائیشیا کے علاوہ سنگارپور، تھائی لینڈ، چین، جرمنی اور ترکی میں قائم ہیں، اس کے معاملات بھی دیکھنا ہوتے ہیں۔

میں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک تعمیراتی کمپنی میں ملازمت سے کیا تھا، جس کی وجہ سے مجھے اس کام کے نشیب وفراز سے خاصی آگہی ہوگئی تھی۔ لہٰذا جب میں نےDanau Lumayan شروع کی تو مجھے کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی۔

کراچی کی ایک مقامی کمپنی نے ملائیشیا کی طرز کے اپارٹمنٹس بنانے کے لیے تعاون اور پارٹنر شپ کی دعوت دی تھی، مگر پاکستان میںتعمیراتی کام میں جھنجھٹ بہت ہے،اس لیے میں نے اس کمپنی سے معذرت کرلی۔ ملائیشیا میں اس قسم کی کوئی جھنجھٹ نہیں ہوتی۔ ہمیں نقشہ تیار کراکے لوکل گورنمنٹ کے لینڈ اور بلڈنگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ سے منظوری کے بعد منصوبہ شروع کرنے کا NOCجاری ہوتا ہے، جس میں اپارٹمنٹ کی قیمت اور اس میں مہیا کی جانے والی سہولیات کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ ہم پر یہ پابندی بھی ہوتی ہے کہ ہر دس منزلہ عمارت میں دو منزلیں کار پارکنگ کے لیے مخصوص کرنا ہوں گی۔ اگر ایسا نہ کریں تو منصوبہ منظور نہیں ہوتا۔ ہم اکثر زیر زمین کارپارکنگ بھی تعمیر کرتے ہیں۔

شاہین مرزا اپنے گھر میں رابطے کے لیے بولی جانے والی زبان سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:

میرے نانا اردو بولتے تھے، اس لیے ہمیں اردو آتی ہے۔ حالاںکہ یہاں ملائی بولی جاتی ہے۔ میری بیگم ملائی ہیں اس لیے گھر میں ہم سب ملائی بولتے ہیں۔ میرے بچوں کو تھوڑی بہت اردو بھی آتی ہے، کیوںکہ پاکستان سے مہمان آتے رہتے ہیں۔ میرے نانا، نانی اور والدہ آزادی سے بہت پہلے ملائی نیشنل ہوچکے تھے۔ مجھے بھی ملائی نیشنلٹی نوعمری میں مل گئی تھی۔ دوسرے الفاظ میں ہمارا خاندان اب مکمل طور پر ملائی ہے اور ہم ملائی زبان ہی بولتے ہیں۔ ہم اب اسی معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں اور اپنی نسلوں کو دُہرے پن کا شکار نہیں کرنا چاہتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔