اگلی مردم شماری سے بچنے کے لیے نادرا کا استعمال کیجیے!

رمضان رفیق  ہفتہ 18 مارچ 2017
جب ہر شخص بچپن سے ہی رجسٹریشن سسٹم کا حصہ ہوگا تو اُس کو گننے کی یا لوگوں کو اُس کے دروازے تک بھیجنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

جب ہر شخص بچپن سے ہی رجسٹریشن سسٹم کا حصہ ہوگا تو اُس کو گننے کی یا لوگوں کو اُس کے دروازے تک بھیجنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

آج کل سوشل میڈیا پر بحث چل رہی ہے، لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا مردم شماری میں عورتوں کو بھی گنا جائے گا؟ یا یہ مردوں کی شماری ہے، اور کیا جن کے مرنے کو تسلیم نہیں کیا گیا وہ بھی زندوں میں گنے جائیں گے؟ اگر یہ انسانوں کی ہی گنتی ہے تو ٹائلٹ کیونکر گنے جائیں گے؟ وغیرہ۔

اِن سارے سوالوں کی روشنی میں عرض یہ ہے کہ پاکستان میں جو ہورہا ہے اِس کو مردم شماری اور خانہ شماری کی اصطلاح کے تحت سمجھا جاسکتا ہے، یعنی لوگوں کے علاوہ لوگوں کی سہولیات کا بھی جائزہ لینا۔ سکینڈے نیویا میں مردم شماری باقاعدہ کسی مہم کی طرح سر انجام نہیں پاتی بلکہ اِس کے لئے سینٹرل سسٹم پر ہی انحصار کیا جاتا ہے، اور خانہ شماری کے لئے سروے کئے جاتے ہیں۔ سروے فارم لوگوں کو ارسال کر دئیے جاتے ہیں اور جو لوگ جواب نہیں دیتے اُن سے بذریعہ فون رابطہ کرلیا جاتا ہے۔ آبادی کی گنتی اور شناخت کا سکینڈے نیوین نظام مجھے کافی حد تک مثالی لگتا ہے اور ہمارے ملک میں اِس نظام سے کسی حد تک فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

ڈنمارک کا سارا نظام ایک سینٹرل رجسٹریشن سسٹم کے تحت چلتا ہے، جس میں ہر شہری مرد و عورت، بچہ بوڑھا اپنی پیدائش سے لیکر موت تک ایک رجسٹریشن سسٹم کا حصہ رہتا ہے، جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اُس کا اندراج مقامی بلدیہ میں کروادیا جاتا ہے، اور اُسے پیلے رنگ کا ایک کارڈ جاری کردیا جاتا ہے۔ اِس کارڈ کو سی پی آر کارڈ یا بیماری کی انشورنش کا کارڈ کہا جاتا ہے۔ اِس کارڈ پر آپ کا نام، آپ کا شناختی نمبر، آپ کے ڈاکٹر کا نام، اور آپ کے گھر کا پتہ درج ہوتا ہے، کیونکہ یہاں ہر شخص کا ایک طے شدہ ڈاکٹر ہوتا ہے اور اُس کو اپنے کسی بھی مسئلے کے لئے سوائے ایمرجنسی کے اپنے ہی ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہوتا ہے اور یہ ڈاکٹر کسی خصوصی مسئلے کے پیشِ نظر آپ کو کسی اور اسپیشلسٹ کے پاس بھیج سکتا ہے۔

عمومی طور پر آپ کا ذاتی ڈاکٹر ایک فزیشن ہوتا ہے جو معمولی نوعیت کے سبھی مسائل کو خود ہی حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، خیر اِس ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے آپ ڈاکٹر سے جڑے ہوتے ہیں اور اِس کارڈ کو ڈنمارک میں ایک شناختی کارڈ کی سی اہمیت حاصل ہے۔ آپ نے اپنی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھانا ہے اور داخلہ لینا ہے، بینک میں اکاؤنٹ کھلوانا ہے، نوکری کے لئے اپنی شناخت پیش کرنی ہے، پولیس سے تصدیق کروانی ہے، غرض کہ کسی بھی قسم کا کوئی بھی کام ہو یہ کارڈ آپ کی شناخت یا پہچان ہے۔ اکثر جگہوں پر آپ سے آپ کا شناختی نمبر پوچھا جاتا ہے اور بس باقی کی معلومات سسٹم میں خودبخود ظاہر ہوجاتی ہیں، اور یہی سینٹرل رجسٹریشن سسٹم آپ کے پاسپورٹ اور کار کی نمبر پلیٹ سے بھی جڑا ہوتا ہے، کسی بھی معاملے میں اِس نمبر کے ذریعے باآسانی آپ تک پہنچا جاسکتا ہے۔

جیسے کسی شخص نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، اگر وہ شخص گاڑی میں ہے تو اُس کی نمبر پلیٹ کے ذریعے اُس تک پہنچ سکتے ہے، لیکن اگر وہ شخص سائیکل سوار ہے یا پیدل چلنے والا ہے، یا ایسا نوجوان ہے جس کی عمر ابھی 18 سال نہیں ہوئی تو ایسے کسی بھی شخص کو اُس کے شناختی نمبر پر جرمانہ ارسال کردیا جائے گا، اب کیونکہ یہ کارڈ اور نمبر ایک ڈیجیٹل سسٹم کا حصہ ہے اِس لئے خودبخود ایسی کوئی بھی سزا حقدار کے دروازے تک چلی جاتی ہے۔

جب ہر شخص بچپن سے ہی اِس رجسٹریشن سسٹم کا حصہ ہوگا تو اُس کو گننے کی یا لوگوں کو اُس کے دروازے تک بھیجنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی، کیونکہ آپ کے سسٹم میں ہر بچے کا ریکارڈ موجود ہے۔ اِس رجسٹریشن سسٹم کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں جو شناختی کارڈ اٹھارہ سال بعد بنایا جاتا ہے، وہ شناختی کارڈ بچپن میں ہی بنا دیا جائے، ہر پیدا ہونے والے بچے کا ایک شناختی کارڈ ہو، اور اُس کارڈ کو ڈیجیٹل بنایا جائے، اور اُس کارڈ کو زندگی کے ہر مرحلے پر سرکاری دفاتر یا اسکول کی کارروائی میں ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت حاصل ہو، یعنی  ہر فرد کو اول روز سے ہی رجسٹریشن سسٹم کا حصہ بنایا جائے تو یہ کام جو انیس سالوں بعد ایک بڑا کام بن چکا ہے وہ ساتھ ساتھ نبٹایا جاسکے گا۔

ہمارے ہاں نادرا کا ایک فعال ادارہ موجود ہے، اگر اسی ادارے کے ذمے یہ کام لگا دیا جائے اور ہر نومولود کا چند ماہ کے اندر رجسٹر کروانا لازم قرار دے دیا جائے تو ہمارا روازنہ کا کام روزانہ ہونے کی ایک سبیل پیدا کی جاسکتی ہے، کیونکہ یہ سسٹم ایک ڈیجیٹل سسٹم ہے اور بچے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کی ایک پروفائل بنتی چلی جاتی ہے، جیسے ڈینمارک میں صحت کے سینٹرل سسٹم میں آپ اپنے شناختی کارڈ میں اپنی مکمل رپورٹس دیکھ سکتے ہیں۔ اِن دوائیوں اور ٹریٹمنٹ کی فہرست دیکھ سکتے ہیں جو آپ نے پچھلے سالوں میں استعمال کی ہیں، اور پھر یہی سسٹم ٹیکس کے سسٹم کے ساتھ بھی منسلک ہے۔ آپ نے پچھلے سالوں میں کس طرح کمایا؟ اُس پر کتنا ٹیکس دیا؟ کون سی مراعات لیں؟ عزیز و اقارب سے کون سے قیمتی تحفے وصول کئے؟ سب سسٹم کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں۔

غرض کہ یہ سینٹرل رجسٹریشن سسٹم یہاں پر نظام حکومت کی بنیاد ہے، کوئی شخص اِس سسٹم میں آئے بغیر ملک کے حکومتی نظام سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ صحت، تعلیم، روزگار، ہر شے اِسی نظام سے منسلک ہونے کی وجہ سے ریاست کا شہریوں کے معاملات کو حل کرنا آسان ہوتا چلا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں ابھی تک حکومتیں لوگوں کی گنتی کرنے میں مصروف ہیں اور گھروں کے دروازوں پر دستک دے رہی ہیں کہ کتنے آدمی ہیں؟

کیا آپ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر نادرا فعال ہو تو مردم شماری کی ضرورت نہیں پڑے؟

Loading ... Loading ...
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
رمضان رفیق

رمضان رفیق

رمضان رفیق کوپن ہیگن میں رہتے ہیں، اور ایگری ہنٹ نامی ویب سائٹ چلاتے ہیں۔ آپ ان کے بلاگ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ www.ramzanrafique.com



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔