وادیِ کالام میں ’مسٹر خوگین‘ کے ساتھ ایک نشست

ایچ ایم کالامی  پير 20 مارچ 2017
 پاکستان اور بالخصوص سوات میں جو امن و امان اور خلوص اور مہمان نوازی دیکھنے کو ملی اس کی مثال دنیا میں کہی نہیں ملتی۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور بالخصوص سوات میں جو امن و امان اور خلوص اور مہمان نوازی دیکھنے کو ملی اس کی مثال دنیا میں کہی نہیں ملتی۔ فوٹو: فائل

حسب معمول دوستوں کے ہمراہ وادیِ کالام بازار میں مٹرگشت پر تھے کہ ایک شخص پر نظر پڑی جس کے ساتھ ایک مسلح پولیس اہلکار بھی موجود تھا۔ صورت سے تو وہ شخص مقامی ہی لگ رہا تھا، شلوار قمیص کے ساتھ سواتی شڑئی اور پکول زیب تن کی ہوئی تھی۔ پٹھان کو مسلح سیکیورٹی اہلکار کے ساتھ دیکھ کر سوچا کوئی سیاسی یا بیوروکریٹ پٹھان ہوگا۔ دل میں پیدا ہونے والی شکوک و شبہات کو مٹانے کے لئے قریب پہنچے تو اُس کے منہ سے نکلنے والی آواز کانوں سے ٹکرائی وہ انگریزی میں پولیس اہلکار کے ساتھ محوِ گفتگو تھے۔

انگریزی سُن کر تجسس انتہا کو پہنچ گیا اور معلوم یہ ہوا کہ شڑئی پکول میں ملبوس شخص پختون نہیں تھا بلکہ انگریز تھا۔ انگریز کو دیکھ کر میرے ذہن پر سوات کی وہ تصویر گردش کرنے لگی، جب یہاں پر امن و امان کا بول بالا تھا، جب یہ وادی پوری دنیا کے لئے امن و سکون کا مسکن تھی، ایسے غیر ملکی درجنوں کی تعداد میں بازاروں، جنگلات اور پہاڑیوں پر تن تنہا گھوما کرتے تھے، اور ہم بغرض انگریزی سیکھنے اُن کے ساتھ گپیں ہانکنے کی کوشش کرتے تھے۔ غیر ملکی سیاح کو دیکھ کرانہتائی خوشی محسوس ہوئی، برسوں بعد وادیِ کالام میں کسی غیر ملکی سیاح کے ساتھ خوش گپیوں کا موقع ہاتھ آیا تھا۔ ہم نے یادِ ماضی تازہ کرنے کے لئے ہیلو ہائے شروع کی۔ یہ مسٹر خوگین تھے جو جنوبی امریکہ کے ایک ملک چلی سے براستہ چائنہ پاکستان آئے تھے۔ اُن کے ساتھ مختصر نشست اور ایک عدد سیلفی کے بعد طے یہ ہوا کہ اگلے دن ٹھیک پانچ بجے تفصیلی ملاقات ہوگی جس ملاقات میں اُن سے وادیِ سوات کے بارے میں تاثرات بھی جانیں گے۔

اگلے دن اپنے صحافی دوستوں کے ہمراہ پُر فضاء مقام تحصیل کی چوٹی پر نشست جمائی۔ جب ہم نے مسٹر خوگین سے جاننا چاہا کہ سوات کی وادیِ کالام میں ایسا کیا ہے جو آپ کو سات سمندر پار سے کھیچ لایا، تو انہوں نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ پر سوات کے بارے میں پڑھا تھا کہ اِس کو مشرق کا سویٹزرلینڈ کہا جاتا ہے۔ جب میں نے انٹرنیٹ پر سوات کی تصاویر ٹٹولنا شروع کیں اور جب وادیِ کالام اور اِس طرح کے دیگر قدرتی حسن سے مالامال علاقوں کی تصاویر نظروں سے گزریں تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اپنا رختِ سفر باندھ لیا اور دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ چین سے ہوکر پاکستان آیا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سوات پہنچتے ہی اُن پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی، میں مختلف ممالک سے گزر کر آیا ہوں مگر جتنے خوبصورت اور دلفریب مناظر یہاں دیکھنے کو ملے وہ کسی بھی ملک میں دیکھنے کو نہیں ملی، بات صرف خوبصورتی کی نہیں ہے بلکہ یہاں کے لوگوں کا خلوص، سادگی اور مہمان نوازی بھی سب سے بہتر پائی۔

میں نے جب شڑئی پکول کے بارے دریافت کیا تو ایک ہلکا سا تبسم لب پر پھیرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ پکول جو میں نے سر پر چڑھائی ہے، اِس کی تلاش وہ گزشتہ 5 سال کررہے تھے مگر انہیں یہ کہیں بھی نہیں ملی، مگر جب پشاور پہنچے تو دکانوں پر دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ میں نے ایک عدد پکول ایک عدد شڑئے اور شلوار قمیص خریدی۔ مجھے اِس لباس میں محبت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے اور ایک آزاد شخص ہونے کا احساس ملتا ہے، اور میں بھی ایک مہمان نواز، پرخلوص اور پیار و محبت بانٹنے والے پختون کی صورت اختیار کرنا چاہتا ہوں۔ اِس کے علاوہ مجھے اِس لباس میں محسوس ہورہا ہے کہ یہ ایک اصلی اور منفرد ثقافت ہے جو یہاں کے لوگوں کو مغربی ثقافت کے ساتھ گڈمڈ نہیں کرنا چاہیئے۔

جب پاکستان کی ایک بڑی صنعت سیاحت کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے کے لئے اُن سے تجاویز مانگی تو مسٹر خوگین کچھ یوں بتاتے ہیں۔

’سب سے پہلے پاکستانی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر جو پاکستان کی غلط تصویر پیش کی جارہی ہے، وہ درست کرنی چاہیئے، کیوںکہ جنوبی امریکہ سمیت میرے اپنے ملک چلی کے لوگوں میں بھی یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے، اور جو کوئی یہاں سیاحت کیلئے آنا چاہتے ہیں اُن کے خاندان والے انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہاں پاکستان اور بالخصوص سوات میں جو امن و امان اور خلوص اور مہمان نوازی دیکھنے کو ملی اُس کی مثال دنیا میں کہی نہیں ملتی، جو میں نے عملی طور پر یہاں دیکھا اور محسوس کیا پاکستانی حکومت کو یہ سب کچھ ٹھیک اِسی طرح عالمی سطح پر پیش کرنا چائیے۔ دوسری اہم بات یہ کہ پاکستانی پالیسی کے مطابق اگر آپ کو قونصل خانے سے ویزا وصول کرنا ہے تو حکومت کو چاہیئے کہ تمام ممالک میں پاکستانی قونصل خانے موجود ہوں۔ مجھے خود پاکستان آنے کے لئے ایک ہفتہ پڑوسی ملک ارجنٹینا میں ویزے کی وصولی کے لئے گزارنا پڑا۔

خوگین نے  مزید کہا کہ

’چلی میں اِس وقت موسم گرما ہے، اور یہاں پر موسمِ سرما اور کالام کی برف باری کا مزہ لوٹنے کے لئے مجھے پاکستانی موسمِ سرما میں آنا پڑا لیکن جب یہاں میں نے لوگوں سے سنا کہ جون جولائی میں یہاں موسم ِگرما ہوتا ہے اور ہر طرف ہریالی اور قدرتی حُسن جوبن پر ہوتا ہے تو میرا دل کررہا ہے کہ میں اپنے ویزے کو مزید توسیع دوں اور موسمِ گرما کا لطف بھی اٹھا سکوں اور اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرسکوں، اُمید کرتا ہوں کہ پاکستانی حکومت میرے ویزے میں توسیع دے گی تاکہ میرے من کی مراد پوری ہوجائے۔‘

قارئین کرام! آپ میری تمام ٹوٹی پھوٹی تحریروں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہر تحریر میں سیاحت اور تعلیم  کو کسی نہ کسی صورت نوک قلم پر لاتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے غنیمت سمجھ کر اُن سے سوال کیا کہ آخر آپ کی حکومت نے ایسا کیا حربہ استعمال کیا ہے کہ آپ لوگوں کے ہاں تعلیمی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے؟

تو مسٹر خوگین اپنا فامولا کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ،

’چلی سمیت تمام جنوبی امریکہ کے ممالک کی آئین میں چار سال سے لے کر اٹھارہ سال تک بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے، اور اِس پر من و عن عمل اِس طرح کیا جاتا ہے کہ جب والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے تو قانون کے مطابق پولیس اُن کے پاس پہنچ جاتی ہے اور اُن سے جواب طلب کرتی ہے۔ جو رکاوٹ والدین کو اپنے بچے اسکول نہ بھیجنے پر مجبور کردیتی ہے وہ فوراً رپورٹ ہوتی ہے اور اُس کا حل نکال کر بچے کو اسکول بھیج دیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جنوبی امریکہ کے تمام ممالک میں مادری زبان اسپینش ہے، اور ہماری پالیسی کے مطابق یونیورسٹی لیول تک ذریعہ تعلیم اسپینش زبان یعنی (مادری زبان) میں ہی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری تعلیم کا معیار اچھا ہوتا ہے۔ بچہ پلے گروپ سے لے کر یونیورسٹی تک اپنی مادری زبان میں ہی سیکھنے کا عمل جاری رکھتا ہے اِس لئے جو نصاب میں پڑھایا جاتا ہے وہ اُسے باآسانی ذہن نشین کرسکتا ہے۔‘

قارئین کرام! یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے کوئی بھی روگردانی نہیں کرسکتا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی اور مسائل کے خاتمے کے لئے تعلیم ہی پہلا جزو ہوتا ہے، لیکن وطنِ عزیز جن مسائل میں جکڑا ہوا ہے اور مختلف قسم کے نت نئے مسائل یہاں سر اُٹھاتے ہیں، اب کون ہمارے حکمرانوں کے ضمیر کو جنھجھوڑیں کہ آئین کی شق نمبر 25A میں جو وعدہ آپ نے عوام سے کیا ہے اگر صرف اُسی شق پر من و عن عمل کیا جائے تو ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔

راقم اپنی اِس تحریر کے ذریعے ایک بار پھر حکومتِ وقت سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہے کہ اگر سیاسی کھینچاتانی سے تھوڑی فرصت ملے تو آئین کے شق نمبر 25A پر بھی ہلکی سی نظر دوڑائیں اور اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں کہ ہم نے وطن عزیز کی ترقی کا کونسا دھاگا ڈھیلا چھوڑا ہے جس کے باعث ہماری ترقی کا پہیہ جام ہوچکا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
ایچ ایم کالامی

ایچ ایم کالامی

ایچ ایم کالامی،خیبر پختونخوا, سوات کوہستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی ہیں اور مختلف اخبارات کے لئے کالم لکھتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...