فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع سے متعلق بل قومی اسمبلی میں پیش

ویب ڈیسک  پير 20 مارچ 2017
بل وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا جس کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے مخالفت کی

بل وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا جس کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے مخالفت کی

 اسلام آباد: قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں كی مدت میں توسیع سے متعلق 28 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایكٹ میں ترامیم پیش كردی گئیں۔

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے 28 ویں آئینی ترمیم كا بل ایوان میں پیش كیا۔ ترامیم كے تحت فوجی عدالتوں پر قانونی شہادت كا اطلاق ہوگا، تنقید اور ٹرائل كا طریقہ كار تبدیل ہو گا، باقاعدہ طور پر پیشگی اخراجات سے آگاہ كیا جائے گا۔ بل کے تحت ہائی كورٹ میں اپیل كا حق اور ملزمان كو مرضی كے وكیل كرنے كا اختیار ہو گا، فوجی عدالتوں اور داخلی قومی سلامتی كے معاملات کے لیے نگران پارلیمانی قومی سلامتی كمیٹی قائم ہو گی۔

بل پر بحث كا آغاز كرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی كے سربراہ محمود خان اچكزئی نے فوجی عدالتوں كی مدت میں توسیع كی آئینی ترمیم كی حمایت كو جمہوریت كے حق میں پانچ نكات پر مشتمل قرارداد كی منظوری سے مشروط كرتے ہوئے كہا كہ فوجی عدالتوں كی ترمیم تمام عدالتی نظام پر بداعتمادی ہے، صرف بلوچستان میں دہشت گردی كے واقعے كے حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بہادری كا مظاہرہ كرتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ مرتب كی، ملك كی تاریخ میں پہلی باركمیشن كا نتیجہ سامنے آیا ہے۔

آئینی ترمیم پر اظہار خیال كرتے ہوئے پاكستان پیپلزپارٹی كے رہنما سید نوید قمر نے فوجی عدالتوں كی مدت میں توسیع كی آئینی ترمیم كو پاكستان كے20 كروڑ عوام كے حقوق معطل كرنے كی ترمیم قرار دے دیا۔ پیپلزپارٹی نے واضح كیا كہ آج بھی اسی مقام پر كھڑے ہیں جہاں 2سال پہلے موجود تھے، 2 سال كے بعد بھی توسیع نہ مانگنے كی كوئی ضمانت نہیں ہے۔ نوید قمر نے مطالبہ كیا كہ آج آئینی ترمیم كی منظوری سے قبل پارلیمانی كمیٹی برائے قومی سلامتی كی تشكیل كی قرارداد لائی جائے ورنہ ہمارے لیے مشكل صورتحال ہوگی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔