سول بیوروکریسی کیوں محروم ہے!

جاوید چوہدری  منگل 21 مارچ 2017
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

عامر احمد علی پیشے کے لحاظ سے بیورو کریٹ ہیں‘ یہ بحیثیت انسان بہت شاندار‘ نفیس اور وضع دار ہیں‘ میں انھیں 15 سال سے جانتا ہوں‘ میں نے اس عرصے میں انھیں ہمیشہ حلیم‘ سادہ اور مہربان پایا‘ یہ 2017ء کے سلیکشن بورڈ میں گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں پروموٹ ہو رہے تھے‘ سلیکشن بورڈ نے انھیں ترقی کے لیے اہل قرار دے دیا تھا لیکن پھر اچانک انھیں کسی خفیہ ہاتھ نے ترقی کی دوڑ سے باہر دھکیل دیا‘ یہ ان 97 افسروں کی فہرست میں جا گرے جنھیں وزیراعظم ہاؤس نے ترقی دینے سے انکارکر دیا۔

یہ خبر میرے لیے سنسنی خیز تھی‘ کیوں؟ کیونکہ عامر احمد علی ماضی کے نامور بیورو کریٹ سعید مہدی کے صاحبزادے بھی ہیں‘ میاں نوازشریف کے پسندیدہ بھی ہیں اور یہ اہلیت میں بھی کسی سے کم نہیں لہٰذا ان کا نام ڈراپ ہونا یقیناً اچنبھے کی بات تھی‘ میری چند دن قبل راہ چلتے ہوئے عامر احمد علی سے ملاقات ہو گئی‘ میں نے افسوس کا اظہار کیا‘ وہ مسکرائے‘ اوپر دیکھا اور کہا ’’اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہمیشہ ٹھیک ہوتے ہیں لیکن آپ میری طرف سے مبارک باد قبول کریں‘‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا ’’کس چیز کی مبارکباد‘‘ وہ بولے ’’آپ کے دوست توقیر شاہ پروموٹ ہو گئے‘‘ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور عرض کیا ’’شاہ صاحب ڈیزرو کرتے ہیں‘ ان کے ساتھ مسلسل زیادتی ہو رہی تھی‘‘ عامر احمد علی نے میرے ساتھ اتفاق کیا۔

ان کا کہنا تھا ’’شاہ صاحب بحیثیت انسان‘ سول سرونٹ اور دوست بہت اچھے ہیں‘ یہ ملک سے باہر ہیں‘ ہمارے کولیگس کو ان کی ترقی پر اعتراض ہے لیکن میں بہت خوش ہوں‘ ہمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلے خوش دلی سے قبول کرنے چاہئیں‘اس سے حوصلہ اور ہمت پیدا ہوتی ہے‘‘ ۔

عامر احمد علی یہ کہہ کر چلے گئے لیکن مجھے محسوس ہوا ان کے ساتھ زیادتی ہوئی اور حکومت کو اس زیادتی کا ازالہ کرنا چاہیے لیکن کیا یہ زیادتی صرف عامر احمد علی کے ساتھ ہوئی؟ جی نہیں‘ اس فہرست میں 97 افسر شامل ہیں‘ یہ تمام لوگ اپنے سینئرز سے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں اور کوئی ان کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں‘ یہ عین ممکن ہے یہ لوگ نااہل اور کرپٹ ہوں لیکن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ابھی تک ان کی کرپشن اور نااہلی کی چارج شیٹ نہیں دی‘ انھیں پروموٹ نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی‘ کیوں؟

ملک میں کسی شخص کے پاس جواب نہیں‘ ہمارے ملک کے سرکاری نظام کے مطابق بیوروکریٹس 17 سال کی ملازمت کے بعد گریڈ 20 کے لیے اہل ہو جاتے ہیں‘ پروموشن کا فیصلہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کرتا ہے‘ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین بورڈ کے سربراہ ہوتے ہیں اور 15سینئر ترین بیوروکریٹ بورڈ کے ممبر ہوتے ہیں‘ 2016ء میں 884 افسروں کے نام بورڈ کے سامنے پیش ہوئے‘ بورڈ نے طویل سکروٹنی کے بعد 325 افسروں کے نام روک لیے اور 500 افسروں کے نام پروموشن کے لیے وزیراعظم ہاؤس بھجوا دیے۔

بورڈ نے جن 325 افسروں کے نام روکے ان میں سے 92 افسروں پر کرپشن‘ نااہلی اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات تھے جب کہ باقی 233 تکنیکی وجوہات کے باعث ترقی کے لیے اہل ثابت نہیں ہوئے‘ 65 افسر سپر سیڈ ہو گئے‘ بورڈ نے باقی 500 افسروں کے نام وزیراعظم ہاؤس بھجوا دیے‘ یہ ایک کاغذی کارروائی ہوتی ہے‘ وزیراعظم عموماً بورڈ کی سفارشات کے مطابق نوٹی فکیشن جاری کر دیتے ہیں لیکن اس بار معاملہ مختلف ثابت ہوا‘ افسروں کی ترقی کی فائل وزیراعظم ہاؤس میں رک گئی اور وزیراعظم نے تمام لوگوں کی سکروٹنی کے لیے خفیہ کمیٹی بنا دی۔

کمیٹی نے نظام سے بالاتر ایک نیا نظام بنایا اور نیب اور انٹیلی جنس بیورو کو اس عمل میں شامل کر لیا‘ سلیکشن بورڈ وزیراعظم کو نام بھجوانے سے پہلے تمام محکموں کے ویجلنس ونگز اور آئی بی سے افسروں کے بارے میں فیڈ بیک لے چکا تھا لیکن وزیراعظم کی خفیہ کمیٹی نے آئی بی کو دوبارہ انوالو کر لیا‘ یہ 500 نام نیب کو بھجوا کر پوچھا گیا یہ لوگ سزا یافتہ تو نہیں ہیں‘ ماضی میں ان کے خلاف کوئی انکوائری تو نہیں ہوئی اور ان کے خلاف انکوائری تو نہیں چل رہی؟

وزیراعظم کی خفیہ کمیٹی نے اس عمل کے دوران 500 افسروں کی فہرست سے97 لوگ الگ کیے‘ 403 لوگوں کو پروموشن دی اور باقی لوگوں کے نام سلیکشن بورڈ کو واپس بھجوا دیے‘ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن‘ وزیراعظم کی خفیہ کمیٹی اور سلیکشن بورڈ نے ابھی تک ان 97 مرحومین کو ان کا جرم نہیں بتایا‘ یہ لوگ اس وقت خجالت اور شرمندگی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ہم فرض کر لیتے ہیں یہ 97 لوگ کرپٹ اور نااہل ہیں لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ان کے محکموں کو 17 برس تک ان کی نااہلی اور کرپشن کی خبر نہیں ہوئی‘ دو‘ سلیکشن بورڈ میں ملک کے 15 سینئر ترین افسر شامل تھے‘ ان افسروں نے اے سی آرز‘ پروفائل‘ اہلیت‘ انٹیلی جنس رپورٹس اور ویجلنس ونگز کے فیڈ بیک کی بنیاد پر فیصلہ کیا‘ بورڈ کو جن 325 افسروں میں خرابی نظر آئی بورڈ نے انھیں پروموٹ کرنے سے انکار کر دیا۔

وزیراعظم کے اسٹاف میں کون سے ایسے سقراط اور بقراط بیٹھے تھے جنہوں نے سلیکشن بورڈ کے سینئر ترین افسروں کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا‘ قوم کو ان سقراطوں اور بقراطوں کے نام معلوم ہونے چاہئیں‘ تین وزیراعظم کی خفیہ ٹیم نے درجن سے زائد ایسے افسروں کو پروموٹ کر دیا جو نہ صرف پورے ملک میں بدنام ہیں بلکہ محکمے کا بچہ بچہ ان کی کرپشن‘ بدعنوانی اور نااہلی کا گواہ ہے مثلاً آپ اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی عشرت مسعود کی مثال لے لیں‘ یہ پمز اسپتال میں معذور بچی کے ساتھ زیادتی کے کیس میں معطل تھیں۔

یہ معطلی کے باوجود گریڈ 19 سے 20 میں پروموٹ ہو گئیں‘ پولیس افسر اقبال دارا ایف سی کے بدنام زمانہ اسلحہ اسکینڈل میں ملوث تھے‘ یہ بھی پروموٹ ہو گئے اور وزیراعظم ہاؤس نے مبارک علی کو 21 ویں گریڈ میں پروموٹ کیا اور تین دن بعد انھیں کرپشن کے الزام میں معطل کر دیا‘ فہرست میں اس نوعیت کے درجنوں لوگ شامل ہیں لہٰذا اگرڈراپ ہونے والے 97 لوگ کرپٹ اور نااہل تھے تو یہ افسر کیسے پروموٹ ہو گئے‘ میں یہاں لاہور میں تعینات کسٹم کی ایک خاتون کی مثال بھی دوں گا۔

یہ خاتون ایک سابق آئی جی کی صاحبزادی ہیں‘ کسٹم کا پورا محکمہ ان کی کرپشن کی کہانیوں سے واقف ہے لیکن یہ اس کے باوجود پروموٹ ہو گئیں‘ کیوں اور کیسے؟ اگریہ لوگ پروموٹ ہو سکتے ہیں تو باقی 97 افسروں نے کیا جرم کیا تھا‘ ان لوگوں کو جرم بتائے بغیر ترقی کے عمل سے کیوں باہر کر دیا گیا‘ کیوں؟ آخر کیوں؟ اس کیوں کا جواب کون دے گا!۔

حکومت افسروں کی ترقی کے معاملے میں بھی اسکینڈل کا شکار ہوتی جارہی ہے‘ حکومت نے 2015ء کے سلیکشن بورڈ سے بھی 105 افسروں کو ڈراپ کر دیا تھا‘ سلیکشن بورڈ نے 584 لوگوں کی پروموشن کا کیس وزیراعظم ہاؤس بھجوایا تھا‘ حکومت نے 479 افسروں کر پروموٹ کر دیا اور 105 کی ترقی روک دی‘ ان میں سے کچھ لوگ اسلام آباد ہائی کورٹ چلے گئے‘ ہائی کورٹ نے وزیراعظم ہاؤس کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا‘ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی۔

سپریم کورٹ نے 13 مارچ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی اپیل مسترد کر دی‘غلطیوں کی یہ تاریخ ایف بی آر میں بھی دوہرائی گئی‘حکومت نے یکم اگست 2016ء کو 22ویں گریڈ میں ترقیاں کیں‘ یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا‘ جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ بنا اور اس بینچ نے 15 مارچ 2017ء کویہ ترقیاں  کالعدم قرار دے کر ازسرنو جائزے کا حکم دے دیا‘ سپریم کورٹ نے ایف بی آر کے وکیل سے پوچھا تھا’’ سلیکشن کے عمل کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور خواجہ ظہیر احمد بورڈ میں کیوں بیٹھے تھے‘ یہ قانون کی خلاف ورزی ہے‘ کیا یہ نہیں جانتے تھے؟‘‘

حکومت کی یہ غلطیاں وزیراعظم کو بیورو کریسی میں بھی غیر مقبول بناتی چلی جا رہی ہیں اور افسر اب ببانگ دہل یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں ہمارے مقدر کا فیصلہ اگر وزیراعظم نے خود کرنا ہے تو پھر حکومت سلیکشن بورڈ کا بکھیڑا کیوں پالتی ہے؟ وزیراعظم ہر سال افسروں کی فہرست سامنے رکھا کریں‘ منظور نظر لوگوں کے ناموں کے سامنے ٹک کر دیا کریں اور ’’دشمنوں‘‘ کے سامنے کراس کا نشان لگا دیا کریں اور بات ختم‘ قوم کا وقت بھی بچے گا‘ سرمایہ بھی اور افسروں کو بھی یہ معلوم ہو جائے گا ہم ریاست کے بجائے وزیراعظم کے ملازم ہیں۔

ملک میں جس کی حکومت ہو گی ہم نے اس کی چاکری کرنی ہے‘ ہم نے صرف اسے خوش رکھنا ہے‘ وزیراعظم اگر بیورو کریسی کو اپنا ذاتی ملازم بنانا چاہتے ہیں تو پھر یہ وزیراعظم ہاؤس میں خفیہ کمیٹیاں بناتے رہیں اور کامران علی افضل جیسے لوگوں کو سینئر بیورو کریٹس کے مقدر کے فیصلے کا اختیار دیتے رہیں اور یہ اگر ملک کو چلتا اور ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر انھیں بیوروکریٹس کی سلیکشن اور ترقی کے عمل کو شفاف اور خود مختار بنانا ہوگا۔

یہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے فیصلوں پر اعتبار کریں اور یہ ایک ایسا سسٹم بنا دیں جس کی چھلنی سے گزر کر کرپٹ اور نااہل لوگ فارغ ہوتے جائیں اور اہل اور ایماندار لوگ خودکار عمل کے ذریعے آگے بڑھتے چلے جائیں‘ افسر کسی کی نگاہ التفات کا انتظار کریں اور نہ ہی کسی مہربان کی طرف دیکھیں‘ فیصلہ خود بخود ہوتا چلا جائے ‘ یہ اگر فوج اور عدلیہ میں ممکن ہے تو پھر یہ سول بیوروکریسی میں کیوں نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم اگر بریگیڈیئرز اور ہائی کورٹ کے ججوں کی پروموشن کا فیصلہ نہیں کرتے تو یہ ڈپٹی سیکریٹریوں اور ایڈیشنل سیکریٹریوں کے مقدر کا فیصلہ کیوں کرتے ہیں‘ یہ سول بیوروکریسی کو خودکار نظام کیوں نہیں دیتے! وزیراعظم کو آج یا کل ٹھنڈے دل ودماغ سے یہ سوچنا ہوگاورنہ ملک بھر کے بیوروکریٹس بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔