حجاب کی ترغیب / سی پیک سیمینار

ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی  منگل 21 مارچ 2017

پنجاب کے وزیر ہائرایجوکیشن رضا علی گیلانی نے تعلیمی اداروں میں سرڈھانپنے والی طالبات کے لیے پانچ اضافی نمبروں کا اعلان کیا۔ان کا یہ اعلان ہماری اقداراور خطے کی دیرینہ سماجی روایات سے مطابقت رکھتا ہے۔ صرف پنجاب ہی نہیں ملک کے دیگر صوبوں کے کروڑوں والدین کو بھی پنجاب کے وزیرتعلیم کے اس بیان سے خوشی ہوئی لیکن پھر نہ معلوم وجوہ پر اس اعلان کو واپس لے لیا گیا۔

پاکستان کی کروڑوں خواتین لباس کے بارے میں مشرقی روایات کی پاس داری کرنا چاہتی ہیں۔ وہ عموماً اپنا سر ڈھانپ کر رکھنا چاہتی ہیں۔ ہماری خواتین کی اکثریت کا لباس شلوار قمیض ہے۔ خواتین شلوار قمیض پہنیں یا کوئی اور علاقائی لباس ساتھ میں دوپٹہ یا چادر بھی استعمال کرتی ہیں۔ گویا دوپٹہ یا چادر نسوانی پہناوے کا لازمی حصہ ہیں۔ لباس کے ساتھ دُپٹے یا چادرکی شمولیت سے لڑکیوں کو اسکول، کالج، یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے یا زندگی کے کسی بھی شعبے میں عملی شمولیت اختیار کرنے میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی۔

پاکستانی خواتین خطے میں صدیوں سے رائج مختلف ملبوسات کو خوشی اورفخرکے ساتھ اختیارکیے ہوئے ہیں۔ ناصرف پاکستان میں رہتے ہوئے بلکہ امریکا، یورپ، آسٹریلیا جیسے ممالک میں جا بسنے والی بے شمارخواتین نے وہاں رہتے ہوئے بھی اپنے روایتی لباس ترک نہیں کیے۔ حجاب ایک اسلامی شعاراور سماجی روایت ہے۔ اگر حکومت حجاب کے فروغ کے لیے طالبات کوکوئی ترغیب دینا چاہتی ہے تو اس میں حرج کیا ہے؟

پاکستان میں حجاب کے فروغ سے کسی مرد یا عورت یا کسی طبقے کے بنیادی حقوق پرکیا اثر پڑتا ہے؟ جو خواتین حجاب لینا چاہتی ہیں دوسروں کو ان پرطنزکرنے یا ان کا مذاق اڑانے کا حق کس نے دیا ہے؟ لباس کے معاملے میں پاکستانی خواتین کی اکثریت کے انتخاب کی تائید کرنا پورے معاشرے کے لیے بہتر ہے۔

آج کل پاکستان میں خانہ اورمردم شماری ہورہی ہے۔اس کے نتیجے میں ہمیں ملکی آبادی کے حوالے سے کچھ معلومات مل جائیں گی۔ تاہم سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی، طبی اور دیگر شعبوں کے بارے میں کئی مطلوبہ اعداد دستیاب نہیں ہوسکیں گے۔ مثال کے طور پر لباس کو ہی لے لیجیے، پاکستانی خواتین کی اکثریت کس لباس کو ترجیح دیتی ہے؟ پاکستان میں برقع پہننے والی خواتین کی تعداد کیا ہے؟ کتنی خواتین چادر اوڑھتی ہیں؟ دوپٹے کو لباس کا لازمی جزوسمجھنے والی خواتین کی تعداد کیا ہے؟

اعداد نہ مل پائیں بہرحال یہ واضح ہے کہ پاکستانی خواتین دوپٹہ لازمی استعمال کرتی ہیں۔ شہری علاقوں میں رہنے والی چند ہزارخواتین دوپٹے کو اپنے لباس کا حصہ نہیں بنانا چاہتی ہوں گی۔ لیکن کروڑوں پاکستانی خواتین دوپٹے یا چادر کو اپنے لباس کا لازمی حصہ سمجھتی ہیں۔

پاکستان میں تعلیم کی شرح کم ہے لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کی شرح لڑکوں سے بھی کم ہے۔ لڑکیوں کو اسکول نہ بھیجنے یا مڈل، میٹرک یا انٹر کے بعد اسکول یا کالج کی تعلیم منقطع کروا دینے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں ایک بڑی وجہ ماحول سے بعض والدین کا خوف بھی ہے۔ بعض والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اسکول اورکالج کے ماحول میں ہماری کئی روایات متاثر یا پامال ہو رہی ہیں۔ ان تصورات یا خدشات کی وجہ سے بعض والدین لڑکیوں کو اسکول یا کالج بھیجتے ہی نہیں۔

برصغیر میں اسکول، کالج ، یونیورسٹی سطح کی تعلیم تقریباً سوا سو سال پہلے انگریز حکمرانوں نے شروع کی تھی۔ اپنے مطلب کے نصاب کی تیاری، انگلش زبان کی لازمی تعلیم کے باوجود انگریزوں نے اس خطے کی کئی سماجی روایات کو نظر انداز نہیں کیا تھا۔ انگریزحکومت نے برصغیر میں   گورنمنٹ گرلز اسکو ل اورگورنمنٹ گرلزکالج قائم کیے تھے۔ کسی ملک کی سماجی روایات کی پاسداری اور ثقافتی خصوصیات کی شمولیت اس ملک میں شروع کیے جانے والے منصوبوں میں نا صرف معاون ہوتی ہے بلکہ سفر کی رفتار اورکامیابی کی شرح کو بھی بڑھادیتی ہے۔

برقع، چادر، دوپٹہ یا حجاب اس خطے کی صدیوں پرانی روایات کا حصہ ہیں۔ صرف مسلمان خواتین ہی نہیں برصغیر کی ہندو، جین، عیسائی اورسکھ خواتین بھی شلوار قمیض کے ساتھ دوپٹہ یا چادر استعمال کرتی ہیں۔ برصغیر میں پردہ صرف مسلم شعار نہیں، پردہ ہندوؤں اور دیگر مذاہب میں بھی ہے۔ ہندوؤں کی کئی برادریوں میں بہو اپنے سسر، جیٹھ اور سسرال کے دیگر کئی مرد رشتے داروں کے سامنے سر ڈھانپے بغیر نہیں جاتی۔

حجاب کی حوصلہ افزائی حصول تعلیم اورکئی معاشی وسماجی معاملات میں پاکستانی خواتین کی شمولیت کو بڑھائے گی۔ پنجاب کے وزیر تعلیم علی رضا گیلانی کے اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک صاحب بصیرت اور دوراندیش فرد ہیں۔ انہوں نے سماجی روایات سے مدد لینے کا فیصلہ کرکے پنجاب میں لڑکیوں میں تعلیم کے فروغ اور پاکستانی معاشرے کی خدمت کے لیے ایک بڑا قدم اٹھانے کی کوشش کی۔ ان کے اس اچھے قدم کی ستائش اور حوصلہ افزائی کے بجائے اس فیصلے کو ہی واپس لیا جانا کسی قسم کے خوف یا شدید احساس کمتری کی علامت معلوم ہوتا ہے۔

ہم آخر کس سے خوف زدہ  ہیں؟ ہمیں خود پر اعتماد اور انحصار کرنا سیکھنا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف پاکستان کو ایک معاشی طاقت بنانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان کے کئی اقدامات کے مثبت نتائج اب ظاہر بھی ہونے لگے ہیں۔ نواز شریف پاکستانی قوم کوکئی خرابیوں سے بھی بچانا چاہتے ہیں۔ ان کاموں کے لیے انہیں پوری قوم کا تعاون حاصل کرنا چاہیے۔ انہیں یہ تعاون آسانی سے مل جائے گا، جب وہ سماج کی اعلیٰ روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اور اعلیٰ اقدار کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔

انتہا پسندی پاکستانی معاشرے کو درپیش ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لیے مذہبی اور لبرل ہر طرح کی انتہا پسندی سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔ ہمیں ترقی کے میدان میں آگے بڑھنا ہے تو اپنے معاشرے کو فیوڈل ازم، غلامانہ ذہنیت، شدت پسندی، خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک جیسے منفی عوامل سے چھٹکارہ دلاناہوگا۔ ان عوامل کے تحت پھیلنے والی کئی فضول رسوم و روایات کو ترک کرنا ہوگا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر روایت کو ترک کردیا جائے۔ وہ روایات جو معاشرے کے لیے سود مند ہیں ہمیں ان کا تحفظ کرتے ہوئے ترقی کا سفر طے کرنا چاہیے۔

ماڈرن ایجوکیشن حاصل کرکے ترقی کرنے کا مطلب مغرب زدہ ہونا نہیں ہے۔مغرب سے مرعوبیت احساسِ کمتری اور خود پر اعتماد نہ کرنے کی علامت ہے۔ ہم مشرق کی کئی اعلیٰ روایات کے ساتھ ایک  اعلیٰ تعلیم یافتہ ماڈرن قوم اورماڈرن ریاست بن سکتے ہیں۔بیسویں اور اکیسویں صدی میں اس کی ایک بہت اچھی مثال جاپانی قوم ہے۔

سی پیک سیمینار

چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی اہمیت روز بروز واضح ہوتی جارہی ہے۔ چین اور پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں ذرائع ابلاغ اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ایکسپریس میڈیا گروپ نے ایک قدم آگے بڑھ کر اس منصوبے کے مختلف اثرات پر صاحبان اختیار اورماہرین کے تبادلہ خیال کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی دارالحکومت میں 6، مارچ کوایک سیمینار ہوا جس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال، وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ میر حاصل خان بزنجو، چینی سفیر سن وی ڈونگ، بیجنگ یونیورسٹی کے پروفیسر تانگ منگ شنگ نے خطاب کیا تھا۔

اس سلسلے کا اگلا سیمینار بروز 15، مارچ کوکراچی میں ہوا۔ اس میں گورنر سندھ محمد زبیر، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، چین کے قونصل جنرل وانگ یو، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو شمس الدین شیخ، ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستار، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر شمیم فرپو اور دیگر نے خطاب کیا۔ ایکسپریس میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹیو اعجازالحق نے بتایا کہ ان نشستوں کا مقصد CPEC سے عوام کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا احاطہ کرنا ہے۔

کراچی میں ہونے والے سیمینار میں، میں نے ایک بڑے قومی مقصد کی خاطر مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے لیڈرز کو ہم خیال اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر خوش دلی سے آمادہ دیکھا۔ سیاست کے میدان میں ایک دوسرے کی حریف اورایک دوسرے سے شاکی سیاسی جماعتوں کا CPEC پر اتحاد اور اتفاق اطمینان کا سبب اور اچھا شگون ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔