فکسنگ کیس نے سلمان بٹ کی راہ میں کانٹے بچھا دیے

اسپورٹس رپورٹر  منگل 21 مارچ 2017
فائنل میں انھوں نے 2سنچریوں سمیت49.40کی ایوریج سے 749رنز بھی جوڑے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

فائنل میں انھوں نے 2سنچریوں سمیت49.40کی ایوریج سے 749رنز بھی جوڑے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

لاہور: پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے سلمان بٹ کی راہ میں کانٹے بچھا دیے، محمد عامر کی واپسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد پی سی بی کیلیے سابق کپتان کو منتخب کرنے کا فیصلہ انتہائی مشکل ہوگیا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے اوپنرز کی مسلسل ناکامیوں کے بعد سلمان بٹ کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کیلیے راہ ہموار ہوتی نظر آرہی تھی، چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے بھی رواں سال کے آغاز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گرین سگنل دیا۔

دوسری جانب انضمام الحق کی زیرسربراہی کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے بھی ان کے نام پر غور کیا، البتہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر سمیت مینجمنٹ میں شامل کچھ افراد ان کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھے۔ ذرائع کے مطابق ایک سلیکٹر نے بھی گزشتہ ماہ سلمان بٹ کو بتایا تھا کہ چند رکاوٹیں دور ہونے کے بعد ان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہوسکتی ہے، البتہ اب اوپنر کو آگاہ کیا گیا کہ پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد اب ان کو منتخب کرنے کا فیصلہ انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ سلمان بٹ نے 5سالہ پابندی کی سزا ختم ہونے اور پی سی بی کے تحت بحالی کا پروگرام مکمل کرنے کے بعد قومی ون ڈے کپ 2015 میں 107.20 کی اوسط سے 536رنز بنائے، بعد ازاں واپڈاکی قیادت کرتے ہوئے اسے گزشتہ سال قائد اعظم ٹرافی کا چیمپئن بنوایا، فائنل میں انھوں نے 2سنچریوں سمیت49.40کی ایوریج سے 749رنز بھی جوڑے، قومی ٹوئنٹی20کپ کے ٹاپ بیٹسمینوں کی فہرست میں سلمان دوسرے نمبر پر تھے لیکن حالیہ پی ایس ایل اسکینڈل سامنے آیا تو سابق کرکٹرز کی اکثریت اور میڈیا نے بار بار حوالہ دیا کہ محمد عامر کو قومی ٹیم میں واپسی کا موقع نہ دیا جاتا توآج نئے واقعات سامنے نہیں آتے تاہم اس صورتحال نے سلمان بٹ کی واپسی کی راہ میں کانٹے بچھا دیے ہیں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔