آئی سی سی اصلاحات کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ

اسپورٹس ڈیسک  منگل 21 مارچ 2017
نیا آئین عالمی گورننگ باڈی کو ہی تبدیل کرکے رکھ دے گا،جوہری کی ای میل۔ فوٹو: فائل

نیا آئین عالمی گورننگ باڈی کو ہی تبدیل کرکے رکھ دے گا،جوہری کی ای میل۔ فوٹو: فائل

نئی دہلی: ششانک منوہر کے مستعفی ہونے سے آئی سی سی اصلاحات کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، بھارت نے معاملے کوٹالنے کیلیے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کردیا۔

ششانک منوہر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے پہلے خود مختار چیئرمین بنے تھے، انھوں نے بگ تھری کے خاتمے اور زیادہ منصفانہ و شفاف انداز میں معاملات کو چلانے کیلیے جن اصلاحات کا بیڑا اٹھایا تھا وہ اب کھٹائی میں پڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔

فروری کے اجلاس میں کونسل نے نئی مالی اور آئینی ترامیم کے حوالے سے تجاویز کی منظوری دی تھی جس کے بارے میں حتمی فیصلہ اپریل کی میٹنگ میں ہونا ہے تاہم اس سے قبل ہی اچانک منوہر ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر عہدے سے مستعفی ہوگئے، اب بھارت نے ایک بار پھر اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دھونس اور دھمکیوں کے ساتھ تکنیکی جھول بھی ڈھونڈنا شروع کردیے ہیں۔

بی سی سی آئی معاملات چلانے کیلیے سپریم کورٹ کی نامزد کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز کے ممبر وکرم لیمے نے ایک روز قبل آئی سی سی چیف ڈیو رچرڈسن کو 11 صفحات پر مشتمل خط لکھا تھا، انھوں نے دھمکی دی تھی کہ ریونیو میں کٹوتی اورآئینی ترامیم پر ان کیخلاف قانونی چارہ جوئی کرسکتے ہیں۔

اب بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو راہول جوہری نے آئی سی سی کے چیف آپریٹنگ آفیسر ایان ہائیگنس کو ای میل بھیجی جس میں نئے فنانشل ماڈل کو تکنیکی طور پر غلط قرار دینے کے ساتھ واضح کیا کہ نیا آئین کھیل کی عالمی گورننگ باڈی کو ہی تبدیل کرکے رکھ دے گا، اس سے ممبران کی خودمختاری شدید متاثر ہوگی، نئی ترامیم بھی مبہم اور غیریقینی قسم کی ہیں، ان سے کنفیوژن اور زیادہ بڑھے گی، انھوں نے یہ بھی لکھا کہ اگر 2014 والا مالیاتی تقسیم کا فارمولا غلط تھا تو نئے طریقہ کار کیلیے کیا فارمولا اختیار کیا گیا اور کس حساب سے مختلف بورڈز کے درجے بناکر ان کا الگ الگ ریونیو میں حصہ مقرر کیا گیا؟ یہ وضاحت کرنا ضروری ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔