گلوبل وارمنگ سے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں، اقبال سعید

اسٹاف رپورٹر  منگل 21 مارچ 2017
کراچی میں بارش کاپانی ذخیرہ کرنیکی لیاری وملیرندی نکاسی آب کے نالے بن گئے۔ فوٹو: فائل

کراچی میں بارش کاپانی ذخیرہ کرنیکی لیاری وملیرندی نکاسی آب کے نالے بن گئے۔ فوٹو: فائل

کراچی: ماہر ماحولیات ڈاکٹر اقبال سعید کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے باعث دنیا بھر میں گلیشیرزپگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے سمندرکی سطح گزشتہ 10سال میں0.6 میٹر بڑھ چکی ہیں اور بیشترجزیرے پانی میں ڈوب چکے ہیں لیکن دوسری طرف صاف پانی کی قلت بڑے پیمانے پرپیدا ہوگئی ہیں۔

عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کا آبی بخارات میں تبدیل ہونے کی شرح بھی بڑھ چکی ہے،کھلے مقامات پر پانی تیزی سے بخارات میں تبدیل ہورہا ہے اور صاف پانی کے ذخائر کم ہوگئے ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے باعث حب ڈیم کا پانی خشک ہوچکا ہے، میٹھے پانی کی کمی سے دریا کے کنارے واقع جنگلات اور جنگلی حیات پر منفی اثرات رونما ہورہے ہیں، پینے کا پانی رساؤ کی نظر ہوجاتا ہے اور پاکستان میں لوگ پانی کا اصراف بھی بے تحاشا کرتے ہیں، وضو کے بعد پانی کا نلکا کھلا چھوڑجاتے ہیں جبکہ سعودی عرب میں وضو کے لیے پانی کا نلکا ہر30سیکنڈ کے بعد آٹومیٹک بند ہوجاتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں درختوں کی کمی کے باعث بارش کا سلسلہ بھی کم ہوچکا ہے اورپاکستان میں بیشتر علاقوں کا ریگستان میں تبدیل ہونے کا عمل بڑھ رہا ہے فضا میں موجود کیمیکلز سلفر اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ پانی کے بخارات کے ساتھ ملکر تیزابی بارش کا باعث بن رہے ہیں اس سے حیوانات و نباتات شدید متاثر ہورہے ہیں اورکراچی میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کی لیاری و ملیر ندی نکاسی آب کی نالی بن چکی ہیں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔