آلودگی اور گرد سے آنکھوں کی وبائی بیماریاں بڑھ گئیں

اسٹاف رپورٹر  منگل 21 مارچ 2017
اندھے پن کی بڑی وجہ موتیا ہے،ملک میں آنکھیں عطیہ کرنے کا رجحان نہیں بڑھا۔ فوٹو : فائل

اندھے پن کی بڑی وجہ موتیا ہے،ملک میں آنکھیں عطیہ کرنے کا رجحان نہیں بڑھا۔ فوٹو : فائل

کراچی: ماہر امراض چشم ڈاکٹر شریف ہاشمانی نے کہا ہے کہ کراچی میں گندگی، کچرے کے ڈھیر،آلودگی اور گرد و غبار کے باعث آنکھوں کے وبائی امراض بڑ ھ رہے ہیں۔

آلودگی اورگرد کے نتیجے میں آشوب چشم اور آنکھوں کی بینائی بھی متاثر ہوتی ہے تاہم کراچی میں چند برس میں آنکھوں کے امراض میں اضافہ ہو گیاہے۔ پاکستان میں اندھے پن کی پہلی بڑی وجہ موتیا ہے لیکن اب شہروں میں غیر صحت مند طرز زندگی کے باعث اندھے پن کی پہلی بڑی وجہ ذیابیطس بنتی جا رہی ہے، یہ بات ڈاکٹر شریف ہاشمانی نے پیر کوبریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔

اس موقع پر اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ارسلان ہاشمانی، صادق قریشی اورترجمان اظہر نثار بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر شریف ہاشمانی نے کہاکہ موتیا کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی، 40 سال کی عمر کے بعد 20 فیصد لوگوں کو موتیا ہوجاتا ہے، موتیے کی ایک وجہ ذیابطیس بھی ہے اورپاکستان میں اندھے پن کی بنیادی وجہ بھی موتیا ہے جبکہ دنیا بھر میں اندھے پن کی پہلی اور سب سے بڑی وجہ ذیابطیس ہے لیکن اب شہری علاقوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ ذیابطیس اندھے پن کی بڑی وجہ بنتی جا رہی ہے جس کا سب سے اہم سبب شعور اور تعلیم کی کمی ہے، لوگوں کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ ذیابطیس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر شریف ہاشمانی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آنکھیں عطیہ کرنے کے رجحان میں اضافہ نہیں ہوا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔