اوایس ڈی کیس، سپریم کورٹ کا7اسٹیبلشمنٹ افسروں کونوٹس

نمائندہ ایکسپریس  جمعرات 17 جنوری 2013
خوشنودلاشاری کی رخصت پر تفصیل طلب،چیئرمین قائمہ کمیٹی کی پٹیشن خارج.  فوٹو: فائل

خوشنودلاشاری کی رخصت پر تفصیل طلب،چیئرمین قائمہ کمیٹی کی پٹیشن خارج. فوٹو: فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حسن وسیم افضل اور فرخندہ وسیم افضل کولمبے عرصے تک او ایس ڈی بنائے رکھنے پراسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جامع رپورٹ طلب کی ہے۔

جبکہ چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی محمد علی گردیزی کو تبدیل کیے جانے کیخلاف قائمہ کمیٹی کابینہ ڈویژن کے چیئرمین دیوان عاشق حسین بخاری کی درخواست خارج کر دی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ چیئرمین قائمہ کمیٹی خود اختیارات کے حامل ہیں انھیں کارروائی کرنی چاہیے، جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے2008سے اب تک سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے عہدے پر فائز رہنے والے7 افرادکو بھی نوٹس جاری کردیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ ان افرادکو نوٹس پہنچا دیا جائے، عدالت نے گریڈ21 کے افسر کو 5 سال او ایس ڈی رکھنے کا سخت نوٹس لیا، جسٹس جواد نے کہاکہ اگر افسر اہل نہیں تھے تو فارغ کر دیا جاتا ،5 سال کام لیے بغیر تنخواہ کیوں دی گئی؟ یہاں تو مال مفت دل بے رحم والا سلسلہ چل رہا ہے۔

6

فاضل جج نے کہا حاضر سروس افسر فارغ بیٹھا ہے اور ریٹائر افسران کو دوبارہ کنٹریکٹ ملازمت دی جاتی ہے ۔انھوں نے کہا حسن وسیم افضل کواو ایس ڈی بنانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے7 سیکریٹری آئے لیکن کسی نے اس معاملے پرغور نہیںکیا، ضروری ہوا توان سیکریٹریوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل دل محمد علیزئی نے بتایا کہ خوشنود اختر لاشاری بیرون ملک رخصت پر ہیں، حسن وسیم افضل کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا خوشنود اخترلاشاری9ماہ سے رخصت پر ہیں اور ایفیڈرین کیس میں مطلوب ہیں۔عدالت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے خوشنود اختر لاشاری کی رخصت کی تفصیل طلب کرتے ہوئے سماعت21 جنوری تک ملتوی کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔