کراچی اسٹاک مارکیٹ: اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی، انڈیکس کی 16200 کی حد بحال

بزنس رپورٹر  جمعـء 18 جنوری 2013
وفاقی دارالحکومت کی سیاسی غیر یقینی کا اثر غالب، صورتحال میں بہتری نہ آئی تو منفی اثرات حصص کی تجارت پر مرتب ہوسکتے ہیں، اسٹاک ماہرین  فوٹو : فائل

وفاقی دارالحکومت کی سیاسی غیر یقینی کا اثر غالب، صورتحال میں بہتری نہ آئی تو منفی اثرات حصص کی تجارت پر مرتب ہوسکتے ہیں، اسٹاک ماہرین فوٹو : فائل

کراچی:  کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کوتمام کاروباری دورانیے میں وقفے وقفے سے اتارچڑھائو کے باوجودتیزی کا تسلسل قائم رہا جس سے انڈیکس کی16200 کی حد بحال ہوگئی، تیزی کے باعث72.48 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید 21 ارب80 کروڑ 33 لاکھ 66 ہزار 616 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

سیاسی افق پر غیریقینی صورتحال کے باوجود چھوٹے ودرمیانے درجے کے اسٹاکس میں سرگرمیاں زیادہ رہیں جسکی وجہ سے اتارچڑھائو کا تاثر قائم رہا، کاروبار کا آغاز تیزی سے ہوا اور ایک موقع پر253.81 پوائنٹس کے اضافے سے انڈیکس کی16400 کی حد بھی بحال ہوگئی تھی لیکن عدالت عالیہ میں وزیراعظم کیس کی سماعت مارکیٹ پر اثرانداز رہی۔

ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر67 لاکھ53 ہزار366 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری نے مارکیٹ کے گراف کو بلند کیا لیکن اس دوران بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے10 لاکھ80 ہزار59 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے51 لاکھ99 ہزار545 ڈالراور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے4 لاکھ73 ہزار763 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کی شرح میں کمی کی نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس109.62 پوائنٹس کے اضافے سے16291.09 ہوگیا۔

جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس59.83 پوائنٹس کے اضافے سے13303.97 اور کے ایم آئی30 انڈیکس81.45 پوائنٹس کے اضافے سے 28216.47 ہوگیا، ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کیس کی سماعت میں عدالت عالیہ کی جانب کوئی مزید سخت فیصلہ نہ آنے کی وجہ سے کیپیٹل مارکیٹ میں تیزی کی لہر برقرار رہی لیکن سرمایہ کاروں کی اکثریت اسلام آباد کی غیریقینی سیاسی صورتحال سے متعلق مضطرب ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سیاسی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو اسکے منفی اثرات حصص کی تجارت پر مرتب ہوسکتے ہیں اور مارکیٹ میں بڑی نوعیت کی مندی رونما ہوسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری اور حکومتی ٹیم کے درمیان مزاکرات اگر کامیاب ہوئے توسیاسی صورتحال واضح ہونے کی وجہ سے جمعہ کے سیشنز میں سرمایہ کاری بڑھنے اور تیزی کا تسلسل قائم رہ سکتا ہے، کاروباری حجم بدھ کی نسبت51 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر14 کروڑ49 لاکھ57 ہزار400 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار338 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں245 کے بھائو میں اضافہ 73 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں انڈس ڈائینگ کے بھائو29.50 روپے بڑھکر 619.50 روپے اور نیشنل فوڈز کے بھائو9.03 روپے بڑھکر271.03 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور پاکستان کے بھائو30.33 روپے کم ہوکر9969.67 روپے اور شیزان انٹرنیشنل کے بھائو17 روپے کم ہوکر392.30 روپے ہوگئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔