وزیراعظم کی عدم گرفتاری پر سپریم کورٹ برہم، فیصلے پر عمل کیلیے بدھ تک مہلت

نمائندہ ایکسپریس / خبر ایجنسیاں  جمعـء 18 جنوری 2013
موجودہ پوزیشن میں ریفرنس داخل کیا تو ملزمان بچ جائیں گے، فصیح بخاری، تفتیش اور ریفرنسز کا ریکاڈ طلب، عدالت کو اس کا اختیار نہیں، وکیل نیب، سماعت ملتوی۔ فوٹو: فائل

موجودہ پوزیشن میں ریفرنس داخل کیا تو ملزمان بچ جائیں گے، فصیح بخاری، تفتیش اور ریفرنسز کا ریکاڈ طلب، عدالت کو اس کا اختیار نہیں، وکیل نیب، سماعت ملتوی۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے رینٹل پاور پراجیکٹ عمل درآمد کیس میں قومی احتساب بیور(نیب) کی رپورٹ مسترد کر دی۔

نیب کو عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے بدھ تک کی مہلت دیدی گئی، کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ نیب نے ملزمان کو کلین چٹ دیدی ہے، ہم اس کیس کی نگرانی کر سکتے ہیں، پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے عدالت پر اختیارات سے تجاوز کا الزام عائد کیا ہے، ہمیں تبایا جائے ملزمان کی گرفتاری سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا جارہا، 10 ماہ گذرنے کے باوجود ابھی تک ایک بھی ریفرنس فائل نہیں ہوا۔

گزشتہ روزچیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے رینٹل پاور منصوبوں میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ذمہ داروں کو گرفتار نہ کرنے پر سخت بر ہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہا پندرہ جنوری کو راجہ پرویز اشرف اور دیگر 15 ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھالیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے چیئر مین نیب سے استفسار کیا کہ آخر عدالت کے احکام پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ چیئرمین نیب فصیح بخاری نے رپورٹ پیش کی اور کہا رینٹل پاور منصوبوں سے متعلق نیب کی رپورٹ ناقص ہے، یہ تاثر غلط ہے کہ نیب تفتیش نہیں کر رہا بلکہ ان معاملات میں تفتیش کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا، کسی پر الزام ثابت نہیں ہوا، تحقیقات میں رقم کی واپسی رضاکارانہ طور پر ہوئی ہے، تفتیشی افسر نے کیس کے اہم نکات سے پہلو تہی کی ہے، اگر ٹھوس مواد کے بغیر ریفرنس دائر کیا گیا تو تمام ملزمان بری ہو جائیں گے۔

چیئرمین نیب نے رینٹل پاور کیس میں تیار کیے گئے دو ریفرنسز کو ناقص قرار دیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ تفتیشی افسران عبوری تحقیقات میں کوئی ٹھوس شواہد حاصل نہیں کرسکے، جو دو ریفرنس تیار ہوئے وہ تحقیقاتی افسران نے جلد بازی میں تیار کئے۔ عدالت نے نیب کی رپورٹ مسترد کر دی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فیصلے میں جو دستاویزات لگائی گئی ہیں وہ ٹھوس شواہد فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک ایک کیس کی تفصیل اپنے فیصلے میں لکھی ہے، اس میں تو ملزمان کو کلین چٹ دی گئی ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ لگتا ہے رپورٹ استغاثہ نے نہیں بلکہ وکیل دفاع نے تیار کی ہے، ساری رپورٹ حقائق کی منافی ہے۔

4

عدالت نے کیس کا تمام ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے کہا کہ تحقیقات کے دوران ریکارڈ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا ریکارڈ حساس ہے رجسٹرار آفس میں جمع کرا دیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے اس پر بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو مذاق بنا دیا گیا ہے، تمام ریکارڈ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں، اسی ریکارڈ پر عدالت نے فیصلہ دیا تھا، چیف جسٹس نے اوپن کورٹ میں ریکارڈ پیش کر نے کا حکم دیا ۔پراسکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے موقف اپنایا عدالت اپنے اختیارات سے تجاوز کررہی ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا ریکارڈ پیش کر دیا جائے گا لیکن پراسیکیوٹر جنرل نے بہت اہم نکتہ اٹھایا ہے اس پر بھی غور کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا یہ کیس عدالت اپنی نگرانی میں لے سکتی ہے، بنک آف پنجاب اور حج کرپشن کیس کی مثال موجود ہے جس میں عدالت نے خود کیس کی نگرانی کی، بھارت میں تہلکہ ڈاٹ کام کیس کی مثال موجود ہے۔ اس دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ انھیں بھی نوٹس ہے اس لیے انھیں سنا جائے تاہم عدالت نے انھیںبیٹھنے کے لیے کہا۔ عدالت نے ریکارڈ پیش کرنے کے لئے سماعت کچھ وقت کے لیے ملتوی کر دی ۔سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو نیب نے کیس کا تمام ریکارڈ عدالت میں پیش کیا اس دوران ایڈ یشنل پراسیکیوٹر جنرل رانا زاہد محمود اور چیف جسٹس کے درمیان تلخ جملوں کا استعمال بھی ہوا۔

رانا زاہد محمود نے کہا عدالت مجھے نکلوانا چاہتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کو نکلنا چاہئے۔عدالت نے مزید سماعت 23جنوری تک ملتوی کر کے رینٹل پاور منصوبوں کے ہر کیس میں الگ الگ پیش رفت کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ آئی این پی کے مطابق دریں اثناء نیب نے وزیراعظم اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر نہ کرنے کی سفارش کی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رینٹل پاور کیس میں ایسے لوگ بھی ہیں جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں،ہم ایک بات جانتے ہیں کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 30مارچ 2012 کوفیصلہ نیب کی میز پر تھا، تفتیش ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی رپورٹ اور پراسیکیوٹر نے سپریم کورٹ فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا، آپ کے بیان اور نیب کی رپورٹ میں تضاد ہے۔ ثنا نیوز کے مطابق سماعت کے دوران نیب نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو گرفتار کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی وزیر اعظم کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا جبکہ عدالت کو مطلو بہ ریکارڈ پیش کر دیا جائے گا۔ بی بی سی کے مطابق نیب چیئرمین ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں اپنے ادارے کی تفتیشی رپورٹ کو ناقص قرار دیدیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر ملزمان کے خلاف اس معاملے میں ریفرنس ٹھوس ثبوت کے بغیر بنائے گئے ہیں، ان افراد پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ثابت نہیں ہو سکا اور تفتیشی افسران نے ریکارڈ میں پہلو تہی کی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔