ظلم کی ہوگئی ہے حد یا ربّ

سعید پرویز  جمعـء 18 جنوری 2013

’’ظلم کی ہوگئی ہے حد یا رب‘‘ 86 جنازے لے کر،ان کے پیارے سیکڑوں لوگوں کے ساتھ چار دن اور چار راتیں علمدار روڈ کوئٹہ پر بیٹھے رہے، جنوری کا دوسرا عشرہ اورشہر کا منفی درجہ حرارت، عورتیں معصوم بچوں کے ساتھ، بوڑھے، جوان بیٹوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے،اﷲ اور بندوں کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں تھی، پہلی ہی رات اﷲ نے مینہ برسادیا۔ اﷲ کے بندوں میں سے کوئی نہ ہلا۔ یہ منظر دیکھ کر پورے ملک میں رہنے والوں کے کلیجے پھٹ گئے اور شہروں شہروں، قصبوں قصبوں لوگ سڑکوں پر آگئے۔ ’’لبیک یا حسین‘‘ کی صدائیں گونجنے لگیں۔ دھرنوں والے ماتم کر رہے تھے، ان کے جسم دہک رہے تھے اور سرد موسم ان کے سامنے پسپا ہورہا تھا، حکومت والے دیکھتے رہے، اپنے محلوں کے گرم کمروں میں بیٹھے منفی درجہ حرات میں کھلے آسمان تلے بیٹھے گلاب جیسے معصوم بچوں کو بچیوں، عورتوں بوڑھوں کو دیکھتے رہے، جن کے ساتھ ان کے پیاروں کے 86 لاشے جنازوں میں پڑے تھے۔

چار دن اور چار راتوں کے بعد حکمران، عملدار روڈ والوں کے پاس آئے، دھرنے والوں نے اسے بٹھایا، حکمران اور رعایا دونوں فرش پر بیٹھے تھے، ان کی بات مان لی۔ مگر یہ کیسا انصاف ہے کہ جس کے لیے 86 انسان قربانی کی بھینٹ چڑھائے جاتے ہیں، کتنے گھر اجڑے، تب بات مانی جاتی ہے، ہزارہ برادری کے وجہیہ، جری اور اہل علم و دانش لوگوں کو پچھلے دو سال سے چن چن کر مارا جارہا ہے۔ زیارتوں کے لیے ایران جانے والی بسوں کے قافلے روکے جاتے ہیں اور دہشت گرد، بسوں میں سوار ہزارہ برادری کے لوگوں کو اتار کر گولیاں برسا کر مار دیتے ہیں۔ ’’کس کو منصف جان کر آواز دوں؟‘‘ یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ منصف فیصلے سناتے ہیں، اور حکمران ان فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ہم اعلیٰ عدالتوں کا بہت احترام کرتے ہیں‘‘ یہ کیسا احترام ہے کہ ان کے فیصلوں پر عمل ہی نہیں کرتے۔

اعلیٰ عدالت نے دو تین ماہ پہلے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ’’بلوچستان کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، اب اسے حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے، مگر حکمرانوں نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر ذرہ برابر کان نہیں دھرا، اور نااہل حکومت بلوچستان کو جاری رکھا، جس کا سربراہ صوبے کو چھوڑ کر مرکز میں رہتا تھا۔ ادھر بلوچستان میں خودکش دھماکے ہوئے، لوگ اغوا ہوئے، کاروبار بند، پولیس سمیت تمام ایجنسیاں بے بس، صوبہ دہشت گردوں کے حوالے اور وزیراعلیٰ اسلام آباد کی سڑکوں پر رات گئے تیز موٹر سائیکل چلانے کے مزے لینا، حالیہ سانحہ عظیم پر بھی وزیراعلیٰ صاحب ملک سے ہی غائب تھے اور لندن میں مقیم تھے اور موصوف نے اس سانحے پر جس طرح اظہار افسوس کیا ہے، وہ انتہائی انسانیت سوز ہے، سارے پاکستان کے علاوہ پوری دنیا نے بھی سنا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کیا کہہ رہے تھے۔ ذرا غور فرمائیں، کیا مرکزی حکومت کو پورے بلوچستان سے یہی وزیر اعلیٰ ملا تھا۔

میں پھر واپس چلتا ہوں وہاں جہاں ہزارہ قبیلے والے اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا رہے ہیں۔ ان کا رخ کھلے میدان کی طرف ہے، جہاں ان مرحومین کی اجتماعی نماز جنازہ پڑھائی جائے گی، لوگ بڑے حوصلے کے ساتھ اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا رہے ہیں، پھر بھی صبر کے دامن ہاتھوں سے چھوٹ رہے ہیں، عورتیں، مرد، بوڑھے، جوان دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں، نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد جنازوں کو قبرستان لے جایا جارہا ہے۔ حضرت امام حسین کی بہن جناب زینب کے نام سے منسوب قبرستان میں ان شہدا کو سپرد خاک کیا جائے گا۔ میں دیکھ رہا ہوں ایک طویل خندق تیار کی گئی ہے۔ لیکن اس میں علیحدہ علیحدہ قبریں بھی بنائی گئی ہیں۔ یہ ساتھ ساتھ بنائے گئے آخری گھر اپنے 86 شہدا کے گھر ہیں، یوں یہ تا قیامت ایک ساتھ آسودہ خاک رہیں گے۔

جانے والے تو چلے گئے مگر سوچیے ہمارا کتنا بڑا نقصان ہوا ہے، یہ مرنے والے ان میں کتنے کتنے قابل لوگ تھے، جن سے ہمارا مستقبل وابستہ تھا۔ سوچیے تو ہمارا مستقبل برباد ہوگیا، ہم تباہ ہوگئے۔ میں اور میری طرح پورے ملک کے عوام اس صورت حال پر غم زدہ ہیں، آنسو بہا رہے ہیں، اور یہ حکمران! یہ خاموش ہیں، ان حکمرانوں نے صرف اتنا کہا، وہ بھی بہت مجبور ہوکر کہ اپنے وزیراعظم کو بھیج کر صوبائی حکومت ختم کروادی۔ اسمبلی معطل کردی اور یہ حکم صرف دو ماہ کے لیے ہے، بس یہی ۔۔۔۔ اور آگے سب چپ ہیں۔ اتنے بڑے انسانی جانوں کے زیاں پر کوئی افسوس، کوئی شرمندگی، کوئی ملال، کوئی پچھتاوا، کچھ نہیں؟ان احساسات سے یہ حکمران عاری نظر آتے ہیں۔

ضیاء سرحدی نے یہ مصرعہ ساٹھ کی دہائی میں لکھا تھا۔ ’’کس کو منصف جان کر آواز دوں‘‘ یہ ان کے ایک گیت کا مصرعہ ہے۔ اس گیت کی چند لائنیں قارئین کے لیے لکھ رہا ہوں۔

شام غم پھر آگئی‘ پھر اداسی چھاگئی

اک طرف ہے اونچے محلوں کا غرور اور دولت کا نشہ
دوسری جانب ہزاروں بے قصور اور دکھ افلاس کا

کس کو منصف جان کر آواز دوں

کیا یہی صورت حال آج بھی نہیں ہے؟ بالکل یہی صورت حال ہے، منظر کچھ بھی نہیں بدلا بلکہ اس میں اور کربناک رنگوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔
’’ان کرموں پر کون چلے گا بولو ساتھ تمہارے‘‘، یہ مصرعہ حبیب جالب نے جنرل ایوب کے زمانے میں لکھا تھا، اس غزل کے دو شعر نذر قارئین ہیں۔

کلیوں پر پتھر پھینکو گے پھولوں پر انگارے
ان کرموں پر کون چلے گا بولو ساتھ تمہارے
اس بستی پر کیا بیتی ہے‘ میں ہی کھل کر کہہ دوں
دیواروں کی صورت چپ ہیں‘ اس بستی میں سارے

مگر یہ ہمارے حکمران آج بھی مفر ہیں کہ ’’انھی کرموں پر‘‘ لوگ آیندہ بھی ان کا ساتھ دیں گے۔ پورا ملک گوگلوں کی حالت میں ہے۔ لوگ گھروں میں، دکانوں میں، کاروباری مراکز میں، ٹیلی ویژنوں کے سامنے، اونٹ کے کسی کروٹ بیٹھنے کے انتظار میں ہیں۔ مگر سارا دن گزر جاتا ہے اور پھر رات چھا جاتی ہے، اگلی صبح ہوتی ہے تو اونٹ پھر کھڑا ہی نظر آتا ہے۔ تین چار دن قبل خیبر پختونخوا میں باڑا کے علاقے میں 21 افراد کو مار دیا گیا۔ سیکڑوں لوگ لاشیں لے کر گورنر ہاؤس کے سامنے بیٹھ گئے۔ حکومتیں کہیں نظر نہیں آ رہیں، ’’یہ کیا ہے، کیوں ہے یہ عالم، یہ سوچتے ہیں ہم‘‘ مگر اب عوام سمجھ بھی گئے ہیں، بس اب منزل دو چار قدم ہی رہ گئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔