ناانصاف زندگی

وجاہت علی عباسی  جمعـء 18 جنوری 2013
wabbasi@yahoo.com

[email protected]

زندگی ایسی خواتین کے ساتھ بہت ناانصاف ہے جن کے عورت ہونے کو کمزوری سمجھ کر سوسائٹی کے کچھ درندے ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پچھلے کچھ ہفتوں سے انڈیا کے اخبار اور ٹی وی چینلز پر دلی میں ہونے والا ایک وحشیانہ کیس سرخیوں میں رہا جس میں ایک بیس سالہ پری میڈیکل اسٹوڈنٹ رات کو سینما دیکھ کر اپنے دوست کے ساتھ گھر واپس جارہی تھی، بس اسٹاپ پر بس رکی جس میں صرف چھ لوگ بیٹھے تھے،کنڈیکٹر نے بس اسٹاپ پر کھڑے لڑکا لڑکی کے پوچھنے پر بتایا کہ بس وہیں جارہی ہے جہاں انھیں جانا ہے۔

دونوں بس میں چڑھ گئے، بس میں سوار چھ کے چھ لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے وہ بس میں سوار ہوتے ہی لڑکی سے بدتمیزی کرنے لگے، انھیں روکنے کی کوشش کرنے پر اس کے ساتھی لڑکے کو انھوں نے بہت مارا، جس کے بعد لڑکی کو بری طرح مارا اور ریپ کیا۔ بہت دیر تشدد کرنے کے بعد لڑکی کو سڑک پر پھینک کر اس پر سے گاڑی گزارنے کی کوشش بھی کی لیکن لڑکی کے دوست نے عین موقعے پر اس کو سڑک سے ہٹالیا، لڑکی کو سریے کی راڈ سے اس بری طرح پیٹا گیا تھا کہ اس کی آنتیں تک باہر آگئیں، کچھ دن زندگی اور موت کی جنگ لڑتے وہ ہار گئی، اس نے دم توڑ دیا۔

پورا انڈیا ساتھ ہوگیا، انھیں اس ریپ کیس میں انصاف چاہیے، کچھ ہفتے پہلے اس کیس کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں شروع کیا گیا اور تمام مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کی اپیل کی گئی۔ اس ناانصافی سے گھرے واقعے کے سامنے آنے کے بعد انڈیا میں اس قسم کے کئی کیسز اور منظر عام پر آئے جو انصاف چاہتے ہیں، اس کا نوٹس گورنمنٹ لے رہی ہے، ساتھ ہی نئے قوانین کے لاگو کرنے کے احکامات کی بات بھی کی جارہی ہے، جس میں ریپ کیس ملزمان کے لیے سخت سے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ شاید یہی وہ کیس ہے جس کے بعد انڈیا میں ریپ کیسز کی ہینڈلنگ میں ایک بڑا بدلاؤ آنے والا ہے۔

پاکستان اپنی کئی مشکلات کے علاوہ ’’ریپ کیسز‘‘ کی مصیبتوں سے بھی نبرد آزما ہے، ہمارے یہاں بھی ریپ، درندگی، طاقت، بدلہ، شادی کے انکار پر انتقام اور مذہبی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں۔ مختاراں مائی کا 2002 کا ریپ کیس دنیا میں بہت مشہور ہوا تھا جہاں پنجاب پاکستان کے ایک گاؤں میں سزا کے طور پر 14 آدمیوں نے مختاراں مائی پر تشدد کیا تھا، دنیا بھر میں اس کیس کی ہمدردی میں کھڑے ہوجانے کے باوجود اس کے فیصلے میں نو سال لگے اور جس کے بعد ملزم بری ہوگئے تھے۔ جب مختاراں مائی جس کے لیے دنیا بھر کی این جی اوز کھڑی ہوگئی تھیں، اس کے ساتھ یہ ہوا تو عام لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔

پاکستان میں ریپ کیس کے ستم رسیدہ سسٹم کی ناانصافی سے تنگ آکر بیشتر لوگ خودکشی کرلیتے ہیں، جس کی ایک اور اہم وجہ خود گھر والوں کا لڑکی سے منہ پھیر لینا ہوتا ہے، اگر وہ خودکشی نہیں کرتی تو اس کی زبردستی حملہ کرنے والے سے ہی شادی کردی جاتی ہے تاکہ خاندان کی بدنامی نہ ہو۔ پاکستان میں ڈر کے مارے اس ناانصافی کو اتنا کم رپورٹ کیا جاتا ہے کہ کسی بھی ریپ کیس میں گرفتار ہونا اور جیل جانا بہت ہی کم سنائی دیتا ہے۔

پاکستان میں اس طرح کے واقعات کا کوئی صحیح ڈیٹا نہیں رکھا گیا ہے، کیونکہ ایسے واقعات کو زیادہ تر رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا ہے، کچھ پرائیویٹ اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 2900 ریپ کیسز ہوتے ہیں، یعنی دن میں آٹھ لیکن کٹہرے میں پہنچنے والوں کی گنتی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ اس کی ایک وجہ کیس کو کورٹ میں عجیب ڈھنگ سے پیش کرنا بھی ہے جیسے کئی دفعہ کورٹ کیس میں چار مسلمان آدمیوں کو Eye-Witness کے طور پر پیش کرنے کو کہا گیا ہے جو 99.9% ناممکن ہوتا ہے، ناانصافی نہ صرف یہ بلکہ کئی بار پولیس Victim کو گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیتی ہے۔

اسلام میں عورتوں کو کسی بھی دوسرے مذہب سے زیادہ حقوق حاصل ہیں اس کے باوجود پاکستان میں نوے فیصد عورتوں پر کبھی نہ کبھی تشدد ہوا ہے ۔ ڈومیسٹک وائلنس (گھریلو تشدد) شاید نوے فیصد آپ کو بہت زیادہ لگے لیکن یہ سچ ہے، ویسا ہی سچ جیسے پاکستان میں بڑی تعداد میں ریپ کیسز کا ہونا اور صحیح طرح ہینڈل نہ کیے جانا، وہ خواتین جو ہمت کرکے کورٹ تک پہنچ بھی جاتی ہیں کیس شروع ہونے کے بعد پریشر میں آکر دھمکی، پیسے اور طاقت کے آگے مجبور ہوکر اپنا کیس واپس لینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

پاکستان میں شایع ہونے والی انسانی حقوق سے متعلق کئی رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ پاکستان کے چھوٹے علاقوں میں چھوٹی بچیوں کو زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس طرح کے سال میں تقریباً دو ہزار واقعات ہوتے ہیں۔ کئی چھوٹے علاقوں میں ریپ کو شادی کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مجرم جانتا ہے کہ ہمارے یہاں اس جرم کی سزا دینے کے لیے قانون سخت نہیں ہیں اسی لیے شادی سے انکار کے بعد وہ لڑکی پر صرف اس مقصد سے ظلم کرتے ہیں کہ گھر والے شرمندگی چھپانے کے لیے شادی Rapist سے کردیں گے۔

مختاراں مائی کے ساتھ تمام تر ہمدردی کے باوجود جب انھوں نے اپنی حفاظت کے پیش نظر پاکستان سے باہر جانے کی درخواست کی تو حکومت نے اسے رد کردیا، مختاراں مائی آج بھی اپنے گاؤں میں زندگی گزار رہی ہے۔
ہر سال ہمارے ملک میں 2900 سے زیادہ مختاراں مائی جنم لیتی ہیں۔ انڈیا سے ہمیں سیکھنا چاہیے، اگر وہ ایک ریپ کیس کو میڈیا کے ذریعے اتنا بڑا بناکر ایک انقلاب لانے کی کوشش کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ یہ بات ہم کئی بار ثابت کرچکے ہیں کہ ایک قوم بن کر مل کر ہم کوئی بھی بدلاؤ لاسکتے ہیں، تو ایک بار اور کیوں نہیں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔