موسمیاتی تغیر سے زرعی پیداوار اور برآمدات شدید متاثر

بزنس رپورٹر  ہفتہ 19 جنوری 2013
زرعی پیداوار کی ترسیل میں بھی مشکلات کے باعث برآمدی سرگرمیاں سست روی کا شکار، سازگار بیرونی منڈی سے فائدہ اٹھانے کا موقع ضائع ہونے کا خدشہ۔  فوٹو : فائل

زرعی پیداوار کی ترسیل میں بھی مشکلات کے باعث برآمدی سرگرمیاں سست روی کا شکار، سازگار بیرونی منڈی سے فائدہ اٹھانے کا موقع ضائع ہونے کا خدشہ۔ فوٹو : فائل

کراچی:  پاکستان میں موسمیاتی تغیر کی وجہ سے پھلوں و سبزیوں کی پیداوار اور ایکسپورٹ میں تاخیر کا سامنا ہے۔

ہارٹی کلچر انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق پنجاب میں شدید سردی دھند اور بارشوں کی وجہ سے پیاز، آلو اور کینو کی برآمدات متاثر ہورہی ہیں، آلو کی فصل 2 ہفتے کی تاخیر سے تیار ہوئی ہے اس سے قبل کینو کی فصل کو بھی موسم سے نقصان پہنچ چکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں دھند کی وجہ سے برآمدات کیلیے پھل اور سبزیوں کی ٹرانسپورٹیشن میں تاخیر کا سامنا ہے، اس سے قبل سرگودھا میں کینو کی پراسیسنگ فیکٹریوں اور پیک ہائوسز کو بھی سخت موسم اور شدید دھند کی وجہ سے کئی روز تک بندش کا سامنا کرنا پڑا۔

ذرائع نے بتایا کہ اوکاڑہ، دیپالپور، ساہیوال، عارف والا اور بورے والا سمیت آلو کی کاشت والے علاقوں میں موسم کی وجہ سے آلو کی فصل 2 ہفتے تاخیر کا شکار رہی اور اب آلو کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہے، اس سال پاکستان سے 1.5 لاکھ ٹن آلو کی برآمد متوقع ہے تاہم اس کا تمام انحصار موسم پر کیا جارہا ہے، آلو کی نئی فصل کو دو ہفتے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا اور اب بھی ایکسپورٹ کے لحاظ سے آلو مکمل طور پر تیار(میچور) نہیں ہوسکا، غیرمتوقع طور پر جنوری کے مہینے تک دھند رہنے سے آلو کی کراپ بھی متاثر ہوئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ عالمی منڈی میں اس سال پاکستانی آلو کیلیے بہتر مواقع موجودہیں، سعودی عرب اور بنگلہ دیش نے اپنے آلو پر سبسڈی ختم کردی ہے جس سے پاکستان کے لیے فار ایسٹ کی مارکیٹ میں بنگلہ دیش اور خلیجی ریاستوں مڈل ایسٹ میں سعودی عرب سے مسابقت آسان ہوچکی ہے، پاکستان کیلیے روس کی مارکیٹ بھی اچھی ہے تاہم اس مارکیٹ میں مصر کے ساتھ مسابقت درپیش ہے۔

2 سال قبل مصر کی کراپ میں کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان سے روس کو ریکارڈ مقدار میں آلو برآمد کیا گیا تھا، پاکستان خود بھی آلو کی بہت بڑی مارکیٹ ہے، آلو سے تیار اسنیک کیلیے آلو کی طلب بڑھتی جارہی ہے جس کے لیے اسنیک بنانے والی کمپنیاں باہر سے لیڈی روزیٹا نامی آلو کی ورائٹی کے بیج منگواکر کاشت کراتی ہیں، اسنیک کی تیاری کیلیے مٹھاس سے پاک آلو درکار ہوتے ہیں، غیرملکی فوڈ چینز فرنچ فرائز کے لیے آلو درآمد کررہی ہیں۔

پاکستان سے اس سال 70 ہزار ٹن سے زائد پیاز بھی برآمد کی جاچکی ہے، موسم کی وجہ سے پیاز کی برآمد میں بھی سست روی کا سامنا ہے، اس سال بھارت کی فصل میں تاخیر کی وجہ سے پاکستانی پیاز کی برآمد کافی حد تک بہتر رہی، سندھ کے بعد بلوچستان کی فصل بھی تیار ہوچکی ہے اور مزید 10 سے 20 ہزار ٹن پیاز کی برآمد متوقع ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔