ہیپاٹائٹس کی روک تھام،بیوٹی پارلروں کے سروے اوررجسٹریشن کا فیصلہ

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 19 جنوری 2013
اندرون سندھ بھی بیوٹی پارلروں کی رجسٹریشن کی جائے گی، ہیپاٹائٹس سے بچائو اور آگاہی فراہم کرنے کے لیے ورکشاپس منعقد کی جائیں گی. فوٹو: ایکسپریس نیوز

اندرون سندھ بھی بیوٹی پارلروں کی رجسٹریشن کی جائے گی، ہیپاٹائٹس سے بچائو اور آگاہی فراہم کرنے کے لیے ورکشاپس منعقد کی جائیں گی. فوٹو: ایکسپریس نیوز

کراچی: کراچی میں ہیپاٹا ئٹس کی روک تھام اور بیوٹی پارلروںکوآگاہی فراہم کرنے کیلیے کراچی میں بیوٹی پارلرز کے سروے کا کام آئندہ ماہ سے شروع کیا جائے گا جس کے بعد ان کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

بیوٹی پارلرز کا سروے اور رجسٹریشن ضلع انتظامیہ کے تعاون سے شروع کیا جائے گا، یہ بات وزیراعلیٰ سندھ ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے صوبائی منیجر ڈاکٹر ایاز میمن نے بتائی، انھوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس وائرس پر قابو پانے کیلیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں کراچی میں بیوٹی پارلروں کا سروے اور رجسٹریشن کے بعد اندرون سندھ بھی بیوٹی پارلروں کی رجسٹریشن کی جائے گی، ڈاکٹر ایازمیمن نے بتایا کہ بیوٹی پالروں کی رجسٹریشن کا مقصد بیوٹیشنز کو کام کے دوران استعمال کیے جانے والے سرجیکل آلات اور دیگر سامان کے بارے میں بھی آگاہی دینا ہے کہ ایک بار استعمال کیا جانے والا آلہ کسی اور خاتون کے چہرے پر استعمال کرنے سے قبل اس سرجیکل آلے کی اسٹرلائزیشن کی جائے گی۔

عام طور پر بیوٹی پالرز ان سرجیکل آلات کی مکمل اسٹرلائزیشن نہیں کراتے ، اس بات کا احتمال ہوتا ہے کہ ہیپاٹائٹس سے متا ثرہ کسی خاتون کے وائرس آلے میں نہ لگ جائیں اور آلہ دوسری خواتین کے چہروں پر استعمال نہ ہوجائے ، ان کا کہنا تھا کہ بیوٹی پالروں پر کام کرنے والی ٹیکنیشنز اوردیگر ماہرین کو ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کیلیے آگاہی فراہم کی جائے گی،اس لیے پہلے مرحلے میں رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا ،دوسرے مرحلے میں ان کی ورکشا پ منعقد کی جائے گی۔

ڈاکٹر ایاز میمن نے بتایا کہ کنٹرول پروگرام کے تحت اس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا اورگزلرکالجوں میں بھی ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے خصوصی لیکچرز منعقد کیے جائیں گے،ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام سندھ کے انچارج ڈاکٹرایاز میمن نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بارکراچی کے60 لاکھ بچوں کی ہیپاٹائٹس سے بچائوکی ویکسینشن کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے،انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریبا 50 کروڑ افراد اس مرض کا شکار ہیں جن میں 35 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس بی جبکہ 15کروڑ افراد ہیپاٹا ئٹس سی کے بھی شامل ہیں اور ہر سال 10لاکھ افراد فوری علاج نہ کرانے کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔