شاہدرہ پکنک پوائنٹ، اسلام آباد

ابرار حسین گوجر  جمعـء 21 اپريل 2017
شاہدرہ پکنک پوائنٹ پر سیاح پانی میں ٹیبل اور کرسیاں لگا کر بیٹھتے ہیں، پانی میں نہاتے ہیں، تیراکی کرتے ہیں، ایک دوسرے پر پانی پھینکتے ہیں، اٹکھیلیاں کرتے ہیں اور محظوظ ہوتے ہیں۔ فوٹو: ابرار حسین

شاہدرہ پکنک پوائنٹ پر سیاح پانی میں ٹیبل اور کرسیاں لگا کر بیٹھتے ہیں، پانی میں نہاتے ہیں، تیراکی کرتے ہیں، ایک دوسرے پر پانی پھینکتے ہیں، اٹکھیلیاں کرتے ہیں اور محظوظ ہوتے ہیں۔ فوٹو: ابرار حسین

شاہدرہ ویلی، سرسبز و شاداب پہاڑوں سے گِھری ہوئی حسین وادی ہے۔ یہ بارہ کہو کے شمال میں جبکہ ایوان ’صدر و وزیر اعظم‘ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ فیض آباد سے 15 کلومیٹر، بارہ کہو سے 7 کلومیٹر جبکہ ایوان ’صدر و وزیر اعظم‘ سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ شاہدرہ کے گاؤں کی وجہءِ شہرت ’شاہدرہ پکنک پوائنٹ‘ ہے۔

فیض آباد سے مری جاتے ہوئے لیک ویو پارک سے چند منٹ کے فاصلے پر شاہدرہ کا سائن بورڈ نصب نظر آتا ہے۔ یہاں سے ’شاہدرہ پکنک پوائنٹ‘ تک تقریباََ 12 منٹ کی ڈرائیو ہے۔

شاہدرہ پکنک پوائنٹ پُرسکون جگہ ہے، جس کے درمیان سے ٹھنڈے میٹھے پانی کا بہت بڑا چشمہ نکلتا ہے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ شاہدرہ قدرتی حُسن کی لازوال داستان ہے، مگر یہاں تک پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اِس لئے اسپیشل گاڑی بک کرنی پڑتی ہے یا ذاتی ٹرانسپورٹ کا ہونا لازم ہے۔

سڑک کی حالت بہت اچھی ہے، مقامی افراد نے یہاں پر کھانے پینے کی مختلف روایتی اشیاء کے اسٹال لگائے ہوئے ہیں جبکہ یہاں ایک ہوٹل بھی ہے۔

شاہدرہ پکنک پوائنٹ پر سیاح پانی میں ٹیبل اور کرسیاں لگا کر بیٹھتے ہیں، پانی میں نہاتے ہیں، تیراکی کرتے ہیں، ایک دوسرے پر پانی پھینکتے ہیں، اٹکھیلیاں کرتے ہیں اور محظوظ ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ فیملیز کے ساتھ آتے ہیں، بچے پانی کی گہرائی کم ہونے کی وجہ سے وہ بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سے قریب ترین ہونے کی بناء پر یہاں ویک اینڈ میں بہت رش ہوتا ہے۔

شاہدرہ پکنک پوائنٹ پر راک کلائمبنگ کے لئے 15-10 میٹر کا ایک پوائنٹ بھی ہے۔ نوجوان اُس پر اپنی کلائمبنگ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اِس طرح کے کلائمبنگ پوائنٹس اور بھی ہیں، مگر لوگوں کی دلچسپی زیادہ تر پانی میں تیرنے، بیٹھنے میں ہوتی ہے۔ شاہدرہ پکنک پوائنٹ کے قریب سی ڈی اے مستقبل میں واٹر پارک بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، جوکہ جڑواں شہروں کے رہائشیوں کے لئے ایک بڑی خوشخبری ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ سیاح شاپنگ بیگ، ریپر اور پھلوں کے چھلکے وغیرہ جابجا پھینک دیتے ہیں، جوکہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتے ہیں اور قدرتی حسن کو گہناتے ہیں۔ اِس لیے سیر کرنے والے تمام سیاحوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایک شاپنگ بیگ رکھیں اور تمام فالتو اشیاء اُس میں ڈالیں تاکہ یہاں کی خوبصورتی قائم و دائم رہے۔ اِس سلسلے میں اگر سی ڈی اے اپنا کردار ادا کرے تو یہ بہت احسن کوشش ہوگی۔

یہاں کے مقامی افراد ہندکو بولتے ہیں مگر پنجابی اور اردو بخوبی سمجھتے ہیں۔ مقامی دیہات شاہدرہ پکنک پوائنٹ سے آگے دور تک پھیلے ہوئے ہیں، جن کی سرحد ایک طرف اسلام آباد کے ساتھ اور دوسری طرف مری (پنجاب) کے ساتھ ملتی ہے جب کہ تیسری طرف خیبر پختون خواہ کے ساتھ لگتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
ابرار حسین گوجر

ابرار حسین گوجر

ابرار حسین ماس کمیونیکشن میں ماسٹرز کرنے کے بعد اب ایکسپریس کیلئے لکھ رہے ہیں، آپ ان سے رابطہ کرسکتے ہیں [email protected]



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔