قانون سازی کے بغیرمعاہدہ بے حیثیت ہوگا،عہدیدارالیکشن کمیشن

آئی این پی  ہفتہ 19 جنوری 2013
امیدواروں کی جانچ پڑتال کی مدت بڑھانے کی گنجائش نہیں،آرٹیکلزمیںترامیم کرناہونگی فوٹو : فائل

امیدواروں کی جانچ پڑتال کی مدت بڑھانے کی گنجائش نہیں،آرٹیکلزمیںترامیم کرناہونگی فوٹو : فائل

اسلام آباد: موجودہ حکومت نے لانگ مارچ کے نتیجے میں طاہرالقادری کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے  کے تحت 16 مارچ سے قبل آئینی ترمیم اور قانون سازی نہ کی تو اس معاہدے کی کوئی حیثیت ہوگی نہ ہی نگران حکومت اور الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے۔

اس کا انکشاف الیکشن کمیشن کے ایک اہم عہدیدار نے جمعے کو آئی این پی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 2002 کی شق 11 کے تحت امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی چھان بین اور جانچ پڑتال کے لیے صرف 7 دن کی مدت درج ہے جبکہ طاہرالقادری اور حکومت کے درمیان معاہدے میں اسے 30 دن تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس پر عمل درآمد کے لیے عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 11 میں ترمیم کی ضرورت پیش آئے گی۔

10

انھوں نے کہا کہ بظاہر الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور اسکے ممبران کی ملازمت کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ انکی تقرری اور مدت ملازمت کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ الیکشن کمیشن کو تحلیل اور چیف الیکشن کمشنرکو ہٹانے کے صرف 2 طریقے ہیں، اولاً آئین میں ترمیم کرکے انھیں ہٹایا جا سکتا ہے، ضمناً وہ رضارکارانہ طور پر یا کسی دبائو میں مستعفی ہوجائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔