پاکستان کرکٹ کے آفتاب آخری بارچمکنے کوتیار

اسپورٹس ڈیسک  جمعرات 20 اپريل 2017
ویسٹ انڈیزکیخلاف کلین سوئپ پر چوتھے نمبرکی سائیڈ انگلینڈ سے صرف 2 پوائنٹس کی دوری رہ جائے گی۔
 فوٹو: فائل

ویسٹ انڈیزکیخلاف کلین سوئپ پر چوتھے نمبرکی سائیڈ انگلینڈ سے صرف 2 پوائنٹس کی دوری رہ جائے گی۔ فوٹو: فائل

دبئی:  پاکستان کرکٹ کے آفتاب یونس اور مصباح آخری بار چمکنے کو تیار ہیں، دونوں ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز میں عمدہ کارکردگی سے ٹیم کا رینکنگ میں پانچواں نمبر مضبوط بنا سکتے ہیں۔

ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا جمعے سے آغاز ہورہا ہے۔ پاکستانی کرکٹ کے 2 عظیم کھلاڑی یونس خان اور مصباح الحق کیریئر میں آخری بار ایکشن میں دکھائی دیں گے، وہ عمدہ کارکردگی سے گرین کیپس کو کیریبیئن جزائر پر پہلی سیریز میں کامیابی سے ہمکنار کرنے کے ساتھ اپنے کیریئر کا اختتام بھی بہترین رینکنگ کے ساتھ کرسکتے ہیں،البتہ ماضی میں رینکنگ میں وہ جن بلندیوں کو دیکھ چکے وہاں تک صرف تین میچز میں واپس پہنچنا بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

یونس خان ٹاپ اور مصباح چھٹے نمبر پررہ چکے ہیں، وہ اگر بہتر کارکردگی پیش کریں تو پاکستان ٹیم اپنی موجودہ پانچویں پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گی۔ یونس نے جب فروری 2009 میں سری لنکا کے خلاف نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ٹرپل سنچری اسکور کی تھی تو انھیں پہلی بار رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن پر براجمان ہونے کا موقع میسر آیا تھا، وہ72 دنوں تک نمبر ون رہے تھے۔

یونس ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز میں دوسرے ہائی رینکڈ بیٹسمین ہوں گے، ان سے صرف ایک پوزیشن آگے ساتھی کھلاڑی اظہر علی موجود ہیں۔ مصباح نومبر 2011 سے دسمبر 2016 کے دوران ٹاپ 15 میں موجود رہے لیکن نیوزی لینڈ اور پھر آسٹریلیا سے مایوس کن سیریز کے باعث اب رینکنگ میں 26 ویں نمبر پر پہنچ چکے ہیں، انھیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ بطور کھلاڑی اور کپتان ان کی آخری سیریز میں پاکستان موجود 97 پوائنٹس سے نیچے نہ جائے۔

ادھر اگر یونس اور مصباح ٹیم کو ویسٹ انڈیز پر 3-0 سے کلین سوئپ بھی کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ انگلینڈ سے آگے نکلنے کیلیے کافی نہیں ہوں گے جو اس وقت 101 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ گرین کیپس کو موجود پوزیشن برقرار رکھنے کیلیے 1-0 سے فتح بھی کافی ہوگی لیکن اگر وہ اسی مارجن سے ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے تو پھر نیوزی لینڈ کی جگہ چھٹے نمبر پر جانا پڑے گا، اگر دباؤ کا شکار یا کسی اور وجہ سے تینوں میچز میں پاکستان ٹیم کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے تو وہ ساتویں نمبر پر پہنچ جائیگی۔

گرین کیپس نے گزشتہ برس اگست میں انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز 2-2 سے برابر کرنے پر چند روز کیلیے ٹاپ رینک ٹیم کے اعزاز سے لطف اٹھایا تھا۔ اس کے بعد کھیلے جانے والے 8 میں سے 6 ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد اسے کافی نیچے جانا پڑگیا۔ اسد شفیق اس وقت 24 اور نائب کپتان و وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد 25 ویں نمبر پر ہیں، ان کے پاس بھی بہتر کارکردگی سے پوزیشن بہتر بنانے کا موقع موجود ہے، بیٹسمینوں میں ٹاپ پر آسٹریلیا کے اسٹیون اسمتھ موجود ہیں۔ دونوں ٹیموں میں اس وقت ٹاپ رینکڈ بولر لیگ اسپنر یاسر شاہ 16 ویں نمبر پر ہیں، وہاب نے کیریئر بیسٹ 19 ویں پوزیشن سنبھالی ہوئی ہے۔

دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے کریگ بریتھ ویٹ (20) اور جرمین بلیک ووڈ (46) ہائی رینکڈ بیٹسمین ہیں،لیگ اسپنر دیویندرا بشو اس وقت بولرز میں کیریئر بیسٹ 25 ویں نمبر پر موجود ہیں، بولنگ چارٹ میں بھارت کے رویندرا جڈیجا بدستور نمبر ایک پوزیشن پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ آل راؤنڈرز میں بنگلہ دیش کے شکیب الحسن ٹاپ پر موجود ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔