علامہ اقبال،پاکستان اور تازہ فیصلے

تنویر قیصر شاہد  جمعـء 21 اپريل 2017
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

21اپریل حکیم الامت حضرت علامہ محمداقبال علیہ رحمہ کا یومِ وفات ہے۔ ایک عظیم المرتبت انسان کی رخصتی کا دن۔ حضرت علامہ اقبال محسنینِ پاکستان میں نمایاں ترین مقام رکھتے ہیں۔وہ ہم سے جدا ہو کر بھی ہم سے جدا نہیں ہیں۔ ہم دراصل شاعرِ مشرق کے دیکھے گئے خواب ہی میں تو ہمہ وقت سانس لیتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ سارا سال ہمیں اپنے اس عظیم الشان مفکر اور فلسفی کو جس اسلوب میں یاد کرنا چاہیے،نہیں یاد کر رہے۔ اِسی لیے تو معروف شاعر جناب سید ضمیر جعفری نے ایک بار جنرل ضیاء الحق کی موجودگی میں طنزیہ کہا تھا:’’کبھی ہم سال میں اِک مجلسِ اقبال کرتے ہیں؍  پھر اِس کے بعد جو کرتے ہیںوہ قوال کرتے ہیں‘‘۔ویسے عجب تماشے ہو رہے ہیں۔ایک سینئر اخبار نویس،  نے نجی ٹی وی پر اپنے ایک طویل لیکچر میں ’’ارشاد‘‘ فرمایا ہے :’’یہ کہنا غلط ہے کہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔‘‘

اگر ہم سید نذیر نیازی صاحب کی نہایت شاندار کتاب’’اقبال کے حضور‘‘ کا مطالعہ کریں تو اُن لوگوں پر رشک آتا ہے جو اقبال کے حضور حاضر ہونے کی سعادت  حاصل کرتے رہے۔ اورینٹل کالج(لاہور) کے معروف استاد، اُردو ادب کے ممتاز نقاد اور ادیب ڈاکٹر باقر صاحب بھی ایسے ہی خوش نصیبوں میں شامل تھے جنہیں اقبال کو دیکھنے،اُن کی باتیں سُننے اور اُن سے ہمکلام ہونے کا شرف حاصل ہُوا۔ چند ہفتے قبل ممتاز جریدے’’ماہِ نو‘‘نے اُردو ادب کا ایک شاندار 28 سالہ انتخاب شایع کیا ہے۔ اس میں ڈاکٹر باقر صاحب کا ایک پرانا انٹرویو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس مصاحبے کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے محترمہ کشور ناہید، ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، ڈاکٹر شکور احسن،عبداللہ قریشی اور جسٹس عطاء اللہ سجاد نے یہ مکالمہ کیا۔ڈاکٹر باقر صاحب نے حضرت علامہ اقبال کے بارے میں بھی کئی دلچسپ باتیں کی ہیں۔ وہ اقبال کی مشہور کتاب’’ بالِ جبریل‘‘ کی اوّلین اشاعت کے بارے میں کہتے ہیں: ’’ہمارے گھر میں اقبال کا چرچا رہتا تھا۔ اقبال کی سگی بہن میری سگی تائی ہیں۔ اقبال، ایم اے میں میرے ممتحن تھے۔ ہمیں اقبال سے بات کرنے کا قطعاً شعور نہیں تھا۔نہ عقل تھی، نہ حوصلہ۔ سلامت اللہ شاہ، جو لاہور میں ایک نیلام گھر کا مالک تھا، نے اقبال کی ’’بالِ جبریل‘‘کا پہلا ایڈیشن شایع کیا تھا۔ ’’بالِ جبریل‘‘ کوئی نہیں چھاپ رہا تھا۔ میرے پاس’’بالِ جبریل‘‘ کا پہلا ایڈیشن ہے۔

نذیر نیازی کا سلامت اللہ شاہ کے ہاں آنا جانا تھا۔اُنہوں نے سلامت اللہ شاہ کو ’’بالِ جبریل‘‘ چھاپنے پر تیار کر لیا۔سلامت اللہ شاہ سے ہم نے وعدہ لے رکھا تھا کہ ’’بالِ جبریل‘‘ جب چھپے گی تو پہلی کاپی ہم لیں گے۔ وعدے کے مطابق ہم نے اُس سے ڈھائی روپے میں ’’بالِ جبریل‘‘ لی اور سیدھے میکلوڈ روڈ، اقبال کے گھر پہنچے۔ وہ حسبِ معمول چارپائی پر بیٹھے تھے۔ ہم نے کتاب دکھائی۔ کہنے لگے:’’چھپ گئی؟‘‘اور کتاب ایک طرف رکھ دی۔ ہم جس غرض سے اُن کی خدمت میں حاضر ہُوئے تھے، وہ یہ تھی کہ اس کتاب پر اُن سے دستخط حاصل کریں گے۔

مَیں نے عرض کیا: اس پر دستخط کر دیں۔‘‘(صفحہ 68)ڈاکٹر باقر بتاتے ہیں کہ علامہ اقبال نے جب اورینٹل کالج میں پڑھانا شروع کیا، اُن کی تنخواہ 62 روپے ماہانہ تھی (صفحہ66) ماہِ نوکے اِس خاص شمارے میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک زمانے میں ’’اقبال اکیڈمی‘‘ میں اقبال پر شایع ہونے والی کئی کتابیں اغلاط سے بھری ہوتی تھیں لیکن اُن کی تصحیح کرنے کے بجائے ان کتابوں کو 75 فیصد رعایت پر فروخت کر دیا جاتا تھا (صفحہ73) ’’ماہِ نَو‘‘ کے انتخاب نمبر میں ممتاز ناول نگار، ممتاز مفتی کا بھی ایک انٹرویو شاملِ اشاعت ہے۔

مفتی صاحب نے علامہ اقبال کے بارے میں بتایا ہے کہ اقبال کے عشاق، اقبال کے بارے میں کوئی ہلکی سی گستاخی بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ’’چوہدری محمد حسین یہاں پریس ڈیپارٹمنٹ میں ہُوا کرتے تھے۔ بڑے دبنگ آدمی تھے اور اقبال کے زبردست عاشق۔ کسی شخص نے اقبال پر ایک ایسی کتاب شایع کر دی جس میں ایک واقعہ سے اقبال کی توہین کا پہلو نکلتا تھا (مفتی صاحب نے اس واقعہ کا ذکر بھی کیا ہے) چوہدری محمد حسین نے کہا، یہ کتاب پریس سے باہر نہیں جائے گی۔اُنہوں نے وہ (قابلِ اعتراض) پانچ صفحات پھاڑے، نیا مواد لکھوایا، تسلسل بحال کیا، تب وہ کتاب پریس سے باہر جانے دی۔‘‘(صفحہ47)

شاعرِ مشرق حضرت علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال علیہ رحمہ کا یومِ ولادت ہو یا یومِ وفات، اُن کی یاد منانے کے ساتھ ہی یہ بحث بھی اکثر چھڑ جاتی ہے کہ ’’پاکستان‘‘ کے نام کا اصل خالق کون تھا؟ ہم تو اب تک یہی سُنتے،پڑھتے اور لکھتے رہے ہیں کہ لفظِ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی صاحب تھے جو لندن میں مدفون ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پنجاب کے ایک ریٹائرڈ آئی جی ( سردار محمدچوہدری) نے جناب رحمت علی کا جسدِ خاکی لندن سے پاکستان لانے کی بھرپور مہم چلائی تھی مگر پاکستان کی بعض صحافتی اور سیاسی قوتوں نے بوجوہ اس مہم کو ناکام بنا دیا تھا۔ اب چند دن پہلے لندن میں بیٹھے پیپلز پارٹی کے ایک جیالے اور بزرگ دانشورجناب علی جعفر زیدی صاحب، جو بھٹو صاحب کے قریبی ساتھی بھی رہے ہیں، کی سیاسی یاداشتوں پر مبنی کتاب پڑھی ہے تو اس میں لفظِ پاکستان کے خالق کے حوالے سے ایک نیا انکشاف کیا گیا ہے۔

اِس کتاب کا نام ہے: ’’باہر جنگل، اندر آگ‘‘۔ علی جعفرزیدی صاحب نے بڑے تیقن اور دھڑلے سے لکھا ہے کہ لفظِ پاکستان کے اصل خالق خورشید عالم تھے۔وہ لکھتے ہیں: ’’جمعہ کو مَیں اور حنیف رامے (پیپلز پارٹی کے معروف سوشلسٹ دانشور، مصور، سیاستدان اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ) چھُٹی کرتے تھے۔ اُس روز مَیں اور خورشید عالم گول باغ جا بیٹھے۔ خورشید عالم ایک زمانے میں اخبار ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ سے وابستہ تھے۔ عالم ِجوانی میں لندن میں مقیم چوہدری رحمت علی کے ساتھ خورشید عالم کی خط کتابت تھی اور اپنے خطوط میں پہلی بار لفظِ پاکستان خورشید عالم نے چوہدری رحمت علی کو تجویز کیا تھا جو بالآخر چوہدری (رحمت علی) صاحب سے منسوب کر دیا گیا۔‘‘ (صفحہ نمبر274) سچی بات ہے کہ یہ انکشاف پڑھ کر مَیں تو چونک گیا؛ چنانچہ مَیںنے تاریخِ پاکستان، تحریکِ پاکستان اور بانیِ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح علیہ رحمہ سے والہانہ عشق و محبت کرنے والے منفرد محقق اور کئی کتابوں کے مصنف سینئر اخبار نویس جناب منیر احمد منیر سے رابطہ کیا اور اُن سے اِس بارے میں استفسار کیا: آیا واقعی لفظِ پاکستان کے خالق کے حوالے سے ’’باہر جنگل،اندرآگ‘‘ کے مصنف کا یہ نیا دعویٰ درست ہو سکتا ہے؟ کیا خورشید عالم لفظِ پاکستان کے خالق تسلیم کیے جا سکتے ہیں؟

منیر صاحب نے فون پر بلند قہقہہ لگاتے ہُوئے کہا: ’’لفظِ پاکستان کے خالق نہ چوہدری رحمت علی ہیں اور نہ ہی خورشید عالم۔‘‘ منیر احمد منیر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ خورشید عالم صاحب دراصل ماہنامہ ’’حکائت‘‘ ڈائجسٹ کے بانی مدیر عنائت اللہ صاحب کے بھائی تھے۔ دورانِ گفتگو منیر صاحب نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس طرح کے کئی دعویدار پیدا ہو جایا کرتے ہیں، جیسا کہ ’’پیپلز پارٹی‘‘ کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نہیں تھے بلکہ قیام ِپاکستان سے قبل بھٹو صاحب کے والد سر شاہنواز بھٹو نے بھی ایک سیاسی جماعت بنائی تھی اور اُس کا نام ’’پیپلز پارٹی‘‘ رکھا گیا تھا۔ منیر صاحب نے یہ بتا کر بھی حیران کر دیا کہ خان عبدالغفار خان عرف باچا خان، جو ولی خان کے والد اور اسفند یار ولی خان کے دادا تھے، نے بھی ایک سیاسی جماعت بنائی تھی اور اُس کا نام بھی ’’پیپلز پارٹی‘‘ رکھا گیا تھا اور یہ تشکیلِ پاکستان کے اوّلین دنوں کی کہانی ہے!!

نوٹ: پانامہ کیس کا فیصلہ سنادیا گیاہے۔ یہ خبر بھی آگئی ہے کہ سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ نے 30 دہشتگردوں (جنہیں فوجی عدالتوںنے سزائے موت سنائی تھی) کی سزاؤں پر عملدرآمد کرنے کے لیے دستخط کر دیے ہیں۔ خدا کرے یہ تازہ، اہم ترین فیصلے پاکستان اور پاکستانی عوام کے بہترین مفاد میں ثابت ہوں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔