آہ پانامہ…!

علی احمد ڈھلوں  جمعـء 21 اپريل 2017
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

آخر کار طویل انتظار کے بعد ’’پانامہ کیس‘‘کا اہم ترین فیصلہ آہی گیا،فیصلہ جیسا بھی تھا مگر عوام کے سر پر چھائے غیر یقینی کے بادل چھٹ گئے، مقدمے  کی سماعت کے دوران فریقین کی جانب سے 26000 کے قریب دستاویزات جمع کرائی گئیں تھیں جنہیں سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے پرکھا ، جائزہ لیا اور 540صفحات پر مشتمل فیصلہ سنا دیا، جس کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نااہل نہیں ہوئے اور ابتدائی نکات کے مطابق رقم کیسے قطر منتقل کی گئی اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں،اس حوالے سے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس میں مختلف اداروں کے نمایندے موجود ہوں گے اور وہ اس حوالے سے  تحقیقات کریں گے اور اس کی رپورٹ ہر دو ہفتوں بعد سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے۔ یہ فیصلہ 3، 2کی ریشو سے سامنے آیا ہے، یعنی پانچ رکنی بینچ میں سے 3معزز جج صاحبان نے مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے جب کہ 2جج صاحبان نے حکومت کے خلاف فیصلہ صادر فرمایا۔

یہ  پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا اہم ترین کیس ہے جس میں مخالفین کی جانب سے وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کے بارے میں استدعا کی گئی تھی، تحریک انصاف اور اس کے اتحادی پر اُمید تھے کہ اس کیس کے فیصلے کے بعد پاکستان کی تاریخ بدل جائے گی، اور دوبارہ پاکستان میں کرپشن زدہ حکمرانوں کی حکومت کبھی نہیں آسکے گی۔ یہ امید بھی دلائی جا رہی تھی کہ ایسا فیصلہ آئے گا جو قوم کی اُمنگوں کے عین مطابق ہوگا، جسے عوام صدیوں تک یاد رکھیں گے۔ اب فیصلہ کیسا آیا کیسا نہیں ؟ یہ تو عوام ہی بتا سکتے ہیں لیکن اس فیصلے میں جس قدر تاخیر ہوئی ہے اور اسے جتنا محفوظ رکھا گیا اُس سے عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات نے جنم لیا کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جس کیس کو جتنا طول دیا جاتا رہا ہے اس کا فائدہ ہمیشہ ’’ملزم‘‘ کو پہنچتا رہا ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ جنرل ایوب خان کے دور میں ان کے بیٹے کی کرپشن کی کہانیاں عام ہوئیں، نتیجہ کچھ نہیں نکلا اُلٹا غصہ عوام پر نکالا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں بشام کے علاقے میں زلزلہ آیا تھا اور دنیا بھر کے ممالک نے امداد دی تھی۔ اس امداد کے بارے میں ایک اسکینڈل اخبارات کی زینت بنا کہ یہ تمام رقم سوئس اکاؤنٹ میں جمع کروا دی گئی۔ وقت نے اس اسکینڈل کی قبر تک غائب کر دی۔ اس کے بعد جونیجو نے کرپشن کی بنیاد پر کئی وزراء کو کابینہ سے نکالا تھا، ان کے اسکینڈلز بھی گمنام قبروں کی طرح گم کر دیے گئے۔

کسی کو یاد ہے کہ جنوری 1998ء میں نیویارک ٹائمز نے آصف علی زرداری کے خلاف کئی اسکینڈل چھاپے۔ شاید لوگ بھول گئے آگسٹا آبدوز کیس کو۔ ’’گولڈ اسکینڈل‘‘ کو۔ شاید ہی کسی کی یادداشت میں ’’سوئس کیس‘‘ بھی ہو۔ میزان بینک اسکینڈل سپریم کورٹ کی رہداریوں سے ہوتا ہوا اور کتنے سیاسی لیڈروں کے چہرے بے نقاب کرتا ہوا کرپشن اسکینڈلز کے قبرستان میں ابدی نیند سو گیا۔ رینٹل پاور اسکینڈل، اوگرا اسکینڈل، نیٹو کنٹینرز کیس، ایفیڈرین کوٹہ کیس، نندی پور پاور اسکینڈل اور بے شمار اسکینڈلز بھی ابدی نیند سو چکے ہیں جو کیس زندہ بچ نکلے اسے حکومتی ادارے دفن کر دیتے ہیں اور جو زیادہ سخت جان ہوتے ہیں انھیں عدم ثبوت کے تیروں سے لہولہان کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔اب کیا یہ پانامہ کیس بھی اسی قبرستان میں دفن کر دیا جائے گا۔

اور رہی اس پانامہ کیس میں فریقین کی بات تو کیس کے فیصلے سے عمران خان کی صبح سویرے کی ورزش اور روایتی مسکراہٹ کو موضوع بنایا گیا اور یہی روایتی مسکراہٹ لیے وہ فیصلے کے بعد بنی گالا کی طرف روانہ ہوگئے، لیکن عمران خان کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اُس نے اُس اشرافیہ کو بے نقاب کیا جس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا تھا ، عمران خان ’’روایتی مسکراہٹ کے ساتھ آج کے بعد بھی کرپشن کی اس لاش کو گھسیٹے ہی چلا جائے گا ۔کیوں کہ اس سے پہلے یہ لاش کئی مہینے مذاکرات کی میز پر رہی۔

جہاں دفن کی تیاریاں ہو رہی تھیں کہ 30 اکتوبر 2016ء کا اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان ہوا اور تدفین لیٹ ہوگئی، سپریم کورٹ نے ذمے داری لی اور اب جب کہ 20اپریل کو یہ فیصلہ آیا تو عمران خان اب بھی اس لاش کو دفنانے کے موڈ میں نہیں لگ رہے کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اسے دفنا دیا گیا تو لوگ بھول جائیں گے،بہر حال عمران خان مایوس ضرور ہوا ہو گا، اب وہ دوبارہ عوام میں جائے گا کیوں کہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔ لیکن آج مسلم لیگ ن کے کارکن جشن منا رہے ہیں اور  دوسری طرف فکر مند پاکستانی  ہیں۔

حقیقت میں کمزوری ہمارے احتسابی اداروں اور سسٹم کی ہے، اور ایسا بھی نہیں ہے کہ اس سسٹم میں احتسابی اداروں کی کوئی کمی رہی ہے۔  ملک میں سب سے پہلے ’’پروڈا‘‘ یعنی Public and Representative Officers Disqualification Act  ، 1949ء میں منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت مرکزی یا صوبائی اسمبلیوں کے ارکان یا وزارء وغیرہ کے خلاف اختیارات سے تجاوز، اقرباپروری، ناجائز اثاثے بنانے، بدعنوانی اور رشوت ستانی کے واقعات پر مقدمات قائم کیے جا سکتے تھے۔مگر اس قانون کو جائز طریقے سے استعمال کرنے کے بجائے سیاسی مخالفین کے لیے ہتھیارکے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔

پروڈا کے بعد صدر ایوب کے دور میں سیاستدانوں کے لیے ایبڈو یعنیElected Bodies Disqualification Orderاور سرکاری عہدیداروں کے لیے پوڈو یعنی Public Offices Disqualification Order کے قوانین بنائے گئے۔ان قوانین کے تحت 75سیاستدانوں کو سزائیں دی گئیں اور کئی پر مقدمات چلائے بغیر ہی انھیں لمبے عرصے تک کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ ایوب خان کے دور میں عدالتی ٹربیونلز میں سرکاری افسروں پر بھی مقدمے چلائے گئے اور تین ہزار کے قریب افسروں کو برخاست بھی کیا گیا۔تاہم ان قوانین کے باوجود رشوت اور بد عنوانی کی انسدادی کارروائیاں پاکستان کے سیاسی نظام کا مستقل حصہ نہ بن پائیں۔ اس کے بعد مارشل لا لگنے کے بعد 1977ء میں ضیاالحق نے ولی خان کو رہا کیا تو ولی خان نے ’’پہلے احتساب ، پھر انتخاب‘‘کا نعرہ لگایا،جوخاصا مقبول ہوا، لیکن اندرونی و بیرونی ’’مجبوریوں‘‘ کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

جنرل ضیا کے دور میں کرپشن منظم شکل اختیار کر گئی۔اسی دور میں سیاسی حامیوں کو رشوت کے طور پر ترقیاتی فنڈز دینے کی روایت پڑی۔ 90 ء میں بے نظیر حکومت کرپشن کے الزامات پر برخاست کی گئی۔ 1993 ء میں نواز شریف حکومت بھی اسی طوفان کی نذر ہوئی۔ اس دو سالہ دور حکومت نے نواز شریف کو ییلو کیب اسکیم اور 18 ارب روپے کے کوآپریٹو بینک اسکینڈل جیسے بدعنوانی کے کئی داغ دیے۔ تین برس بعد بے نظیر کی حکومت دوسری بار کرپشن الزامات پر برخاست کی گئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان میں احتساب کے نام سے آرڈیننس جا ری کیا گیا۔97 ء میں نواز شریف احتساب کا ڈھونڈورا پیٹتے ہوئے دوبارہ وزیر اعظم بنے۔ مگر ان کا احتساب ا پنے سیاسی مخالف بھٹو خاندان کے خلاف محض انتقامی کارروائی تک محدود تھا۔ 99 ء میں پرویز مشرف نواز حکومت کو ختم کر کے بر سر اقتدار آئے تو احتساب ایکٹ کی جگہ’’ نیب ‘‘کا ادارہ قائم کیا گیا۔اور نیب کی کارکردگی یہاں بتانے کی ضرورت نہیں ۔

میرے خیال میں  پاناما کیس میں نوازشریف خوش قسمت ہیں کہ ان کا کیس پانچ رکنی لارجر بینچ نے سنا ہے ورنہ دو رکنی بینچ ہوتا تو آج وہ گھر بیٹھ جاتے، اور ویسے بھی بادی النظرمیں اگر آج بھی وہ اپنے آپ کو حکومت سے علیحدہ کرلیں اور اخلاقی طور پر استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش کر دیں اور بالکل صاف شفاف دامن کے ساتھ عوام میں آئیں تو میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ الیکشن 2018ء میں کلین سویپ کر سکتے ہیںاور اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو یقینا عوام کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ آزاد سپریم کورٹ اس فیصلے میں منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی تو جن اداروں کے زیر اثر کمیشن بننے جا رہا ہے وہ آزاد نہیں بلکہ حکومت کے زیر تابع ہیں تو نئے بننے والے کمیشن سے عوام کس طرح میرٹ پر فیصلے کی اُمید لگا سکتی ہے ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔