’’میرا اُس پر حق ہے‘‘

مجدی رشید  جمعـء 21 اپريل 2017
اُس کے پاس سے گزرتے ہوئے موٹر سائیکل کی رفتار کم کردیتا ہوں اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگ جاتا ہوں۔ جب میں گاڑی پر پر ہوں تو اُس کی طرف والا دروازہ کھول کر اُسے بیٹھنے کا بھی کہہ دیتا ہوں۔ فوٹو: فائل

اُس کے پاس سے گزرتے ہوئے موٹر سائیکل کی رفتار کم کردیتا ہوں اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگ جاتا ہوں۔ جب میں گاڑی پر پر ہوں تو اُس کی طرف والا دروازہ کھول کر اُسے بیٹھنے کا بھی کہہ دیتا ہوں۔ فوٹو: فائل

میں نے اُسے دیکھا، وہ روزانہ کی طرح آج بھی بس اسٹاپ کر کھڑی تھی، میں اکثر اُس کے پاس جاکر اُس سے وہاں کھڑا ہونے کی وجہ دریافت کرتا ہوں۔ اُس کے پاس سے گزرتے ہوئے موٹر سائیکل کی رفتار کم کردیتا ہوں اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگ جاتا ہوں۔ جب میں گاڑی پر پر ہوں تو اُس کی طرف والا دروازہ کھول کر اُسے گاڑی میں بیٹھنے کا بھی کہہ دیتا ہوں اور اگر کبھی میں رکشہ چلارہا ہوں تب بھی رک کر احتیاطاً اُس سے پوچھ لیتا ہوں کہ اکیلی کیوں کھڑی ہو، آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں۔

وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے، اُس کی ماں اللہ کو پیاری ہوچکی ہے اور باپ فالج کے مرض میں مبتلا بستر پر زندگی کے دن پورے کر رہا ہے۔ وہ خود کامرس میں گریجویشن کرچکی ہے، اُس سے چھوٹی بہن ذہین ہونے کے باوجود صرف اِس لیے پرائیویٹ انٹرمیڈیٹ کر رہی ہے کیونکہ اُس کے پاس کالجوں کی فیس نہ ادا کرنے کے پیسے نہیں ہیں۔ اُس سے چھوٹا بھائی ابھی اسکول جاتا ہے، اور یہی وہ بھائی ہے جس سے سب نے بہت اُمیدیں وابستہ کر رکھی ہیں حالانکہ وہ ابھی محض چھٹی کلاس میں ہے، جبکہ سب سے چھوٹی بہن ابھی صرف چار سال کی ہے جس کے آنے اور ماں کے چلے جانے کا دن اور وقت ایک ہی تھا۔

اب اللہ کے بعد وہ اکیلی ہی اِس خاندان کا واحد سہارا ہے۔ باپ والی شفقت، ماں والا پیار، بھائی والے تحفظ کا احساس، یہ سب ہی تو ہیں اب اُس کی ذات میں۔ گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز اور باپ کی ادویات سے لے کر ماچس کی تیلی تک کی خریداری اُسے ہی کرنا ہوتی ہے۔

وہ علی الصبح بیدار ہوتی ہے۔ سب کو ناشتہ دینے کے بعد دوپہر کے کھانے کا انتظام کرتی ہے اور چھوٹے بہن، بھائیوں کو اسکول روانہ کرکے اپنے دفتر کے لئے نکل جاتی ہے۔ جانے سے پہلے وہ اپنے بہن، بھائیوں کو سینکڑوں نصیحتیں اور ہزاروں تاکیدیں کرنا نہیں بھولتی۔ آفس جانے کے لئے وہ اکثر اُسی بس اسٹاپ پر بس کا انتظار کرتی ہے جہاں میری اُس سے ملاقات ہوتی ہے۔ میں نے کئی بار اُس کا پیچھا بھی کیا ہے جس سے مجھے پتا چلا کہ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری کرتی ہے جہاں جانے کے لئے اُسے دو بسیں تبدیل کرنا پڑتی ہیں۔ سردی ہو یا گرمی، بارش ہو یا طوفان، اُسے اِن بس اسٹاپس پر روزانہ بس کی آمد سے پہلے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہی معاملہ واپسی پر بھی درپیش ہوتا ہے۔ اِن تمام مجبوریوں اور ذمہ داریوں سے آگاہ ’’سر‘‘ یا ’’میڈم‘‘ کبھی دیر تک بیٹھنے پر مجبور کردیں تو واپسی پر اندھیرا بھی چھا جاتا ہے۔

جب شام کو گھر پہنچتی ہے تو چھوٹی بہنیں آپس کی شرارتوں، ابا جی کے بار بار بلانے، محلے میں ہونے والی لڑائیوں سمیت ہر قصہ کھول کھول کر اُس کے آگے رکھ دیتی ہیں۔ سب کے لئے کھانا بنانے کے ساتھ ساتھ سب کہانیاں سنتی ہوئی یہ ماں بجا بہن صرف مسکرا کر رہ جاتی ہے۔ جس کی عمر خود اٹھکیلیاں کرنے، ماں سے ناز نخرے اٹھوانے اور آنکھوں میں سہانے مستقبل کے خواب سجانے کی ہے وہ اب اپنی ہر خواہش، اپنا ہر خواب اپنے بھائی بہنوں کے نام کرچکی ہے۔ رات کو کھانا کھلا کر اور باپ کو دوائی دے کر تھکن سے چور بدن کے ساتھ جب وہ سونے کے لئے لیٹتی ہے تو ساتھ لیٹے بہن، بھائی کسی کہانی، کسی لوری یا کسی قصے کے منتظر ہوتے ہیں مگر اکثر وہ اُن سے پیشتر ہی اگلے روز کی الجھنوں اور پریشانیوں کا بوجھ لے کر نیند کی گہری وادیوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اُس کی روز کی یہی روٹین ہے۔ اُس کے لئے خوشی، غمی، بیماری، صحت، تنگی، خوشحالی کوئی معنے نہیں رکھتی کیونکہ اُس کے شب و روز میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔

میں جب بھی اُسے اکیلا بس اسٹاپ پر کھڑا دیکھتا ہوں تو میرے دل میں بے شمار خیالات آتے ہیں۔ ہو نہ ہو یہ ’’ویسی‘‘ لڑکی ہے یا پھر اگر میرا دل تھوڑا خدا ترس ہو تو سوچ لیتا ہوں کہ ہوسکتا ہے بیچاری غریب ہو، مجبور ہو تو اُسے گھر تک چھوڑ دیتا ہوں (یہ سوچے بغیر کہ اگر میری اپنی بہن یہاں کھڑی ہوتی تو کیا میں اُسے کسی ’’خدا ترس‘‘ کی پیشکش قبول کرنے کا مشورہ دیتا؟)

میرے دل میں اُس کی ذات کو لے کر بہت سی باتیں آتی ہیں، سوائے اِس بات کے جو وہ حقیقت میں ہے۔ شاید میں اِس بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتا یا پھر خدا نے مجھ سے سوچنے کی وہ صلاحیت ہی چھین لی ہے اور اب میری رسی دراز کی جا رہی ہے۔

میں اکثر اُس کے پاس جاکر اُس سے وہاں کھڑا ہونے کی وجہ دریافت کرتا ہوں۔ اُس کے پاس سے گزرتے ہوئے موٹر سائیکل کی رفتار کم کردیتا ہوں اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگ جاتا ہوں۔ جب میں گاڑی پر پر ہوں تو اُس کی طرف والا دروازہ کھول کر اُسے گاڑی میں بیٹھنے کا بھی کہہ دیتا ہوں اور اگر کبھی میں رکشہ چلارہا ہوں تب بھی رک کر احتیاطاً اُس سے پوچھ لیتا ہوں کہ اکیلی کیوں کھڑی ہو، آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں یہ سب کیوں کرتا ہوں؟ تو وجہ یہ ہے کہ میرا اُس پر حق ہے۔ صرف اُسی پر ہی نہیں بلکہ میرا ہر اُس بنتِ حوا پر حق ہے جو مجھے ہر روز صبح یا شام یا اُس سے تھوڑا پہلے یا بعد کے اوقات میں کسی سڑک کنارے یا بس اسٹاپ پر نظر آتی ہے اور میں رک کر اپنا یہ ’’حق‘‘ ضرور استعمال کرتا ہوں۔ کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہیں یہ حق دیا کس نے ہے؟ تو میں بلاجھجک اور بلا شرم و حیا کہوں گا کہ میں ایک مرد ہوں اور مجھے یہ حق میری ’’مردانگی‘‘ اور اُس کی’’ مجبوری‘‘ نے دیا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
مجدی رشید

مجدی رشید

بلاگر نے پنجاب یونیورسٹی سے ابلاغیات میں ماسٹرز کیا ہے۔ مختلف چینلز کے ساتھ وابستہ رہنے کے بعد آج کل ایک رفاعی تنظیم میں میڈیا ریلیشنز آفیسر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ طبیعت کی حساسیت اور صحافت سے لگاؤ کے باعث گردونواح میں ہونے والے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اُسے احاطہءِ تحریر میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔