قومی اسمبلی اجلاس میں شورشرابہ، ایوان مچھلی بازار بن گیا

ویب ڈیسک  جمعـء 21 اپريل 2017
اپوزیشن ارکان نے ایوان کے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں : فوٹو: فائل

اپوزیشن ارکان نے ایوان کے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں : فوٹو: فائل

 اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان کو بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن ارکان نے شورشرابہ شروع کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں جس سے ایوان مچھلی بازار بن گیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی زیر صدارت ہوا جس میں تمام اپوزیشن ارکان بازؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 2 ججز نے پاناما کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جب کہ 3 ججز نے جے آئی ٹی سے تحقیقات کا حکم دیا ہے لیکن جے آئی ٹی وقت کے وزیراعظم سے تحقیقات نہیں کرسکتی۔ نوازشریف کو چاہیئے کہ وہ جمہوری نظام اور پارلیمنٹ کو بچانے کے لئے مستعفیٰ ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قاعدہ اور قانون کے مطابق وقفہ سوالات مؤخر کریں اور عمران خان کو بات کرنے کا موقع دیا جائے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ

خورشید شاہ کی جانب سے عمران خان کو اظہار خیال کی اجازت دیئے جانے کے بیان پر حکومتی اراکین سے شور شرابہ شروع کر دیا۔ حکومتی رکن شیخ آفتاب کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو عوام نے منتخب کیا ہے اور یہ اپوزیشن کی بھول ہے کہ وزیراعظم اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں گے۔ رانا تنویرکا کہنا تھا کہ اگراپوزیشن اراکین بات کرنا چاہتے ہیں تو قاعدے و قوانین کے مطابق پہلے سوالنامہ پیش کیا جائے اور اس پر رائے لی جائے جس کے بعد اس سے متعلق فیصلہ کریں گے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: پاناما کیس کے فیصلے میں وزیراعظم کو نااہل قرارنہیں دیا گیا

عمران خان کو بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر پر تمام اپوزیشن ارکان نے بھی شور شرابہ شروع کردیا اور حکومتی ارکان کی جانب سے بھی نعرے بازی کی گئی، حکومتی اور اپوزیشن بینچوں سے تلخ جملوں کا تبادلہ بھی کیا  گیا جس سے ایوان مچھلی بازار بن گیا۔ اپوزیشن ارکان نے ڈپٹی اسپیکر کی ڈائس کا گھیراؤ بھی کیا اور ایوان کے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں جب کہ قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے شور شرابے پراجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔