سپریم کورٹ کو کسی منتخب رکن کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار نہیں، راجہ ظفرالحق

ویب ڈیسک  جمعـء 21 اپريل 2017
اپوزیشن جماعتیں اپنی مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر مایوسی کا شکار اور ناکامی کے گھیرے میں پھنس گئے ہیں، راجاظفرالحق: فوٹو : ایکسپریس نیوز

اپوزیشن جماعتیں اپنی مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر مایوسی کا شکار اور ناکامی کے گھیرے میں پھنس گئے ہیں، راجاظفرالحق: فوٹو : ایکسپریس نیوز

 اسلام آباد: سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق کا کہنا ہے کہ سپریم کے اکثریتی ججز کا اعتراف ہے کہ عدالت عظمیٰ کو بھی پاکستانی آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت یہ اختیارحاصل نہیں کہ وہ کسی منتخب شخص کو اس کے عہدے سے برطرف کرے یا کسی کی رکینت معطل کرے۔

قومی اسمبلی کے باہرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں اکثریتی اپوزیشن نے اپنے ہی منتخب کردہ چئیرمین سینیٹ کی بات سننے سے انکار کردیا اوران کے احکامات کو ہوا میں اڑایا جس پر چئیرمین سینیٹ کو مجبوراً اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا عدم برداشت کا رویہ آج کی بات نہیں اور نا ہی اس کا تعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہے بلکہ 2013 کے عام انتخابات میں بھی ان کا یہی رویہ ان کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ اوران کی شکست کا باعث بنا۔

اس خبر کوبھی پڑھیں: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ

راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ جب سپریم کورٹ نے ان کی مرضی اور منشا کے مطابق ان کا من پسند فیصلہ نہیں کیا تو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ان کی مرضی کے مطابق کیسے فیصلہ کرے گی، لیکن سپریم کورٹ کے اکثریتی ججز نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں ان کا کہنا ہے کہ آئین کے اندر آرٹیکل 184/3 کے تحت عدالت عظمیٰ کو بھی یہ اختیارات حاصل نہیں کہ وہ کسی کو اس کے عہدے سے ہٹا سکے یا اس کی رکنیت ختم کرسکے، اس لئے ضروری ہے اس کی تحقیقات ہوں اور معاملہ آگے بڑھ سکے، لیکن اپوزیشن جماعتوں نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو ماننے بھی انکار کردیا ہے اور ایک اپوزیشن رہنما نے یہ بھی کہا ہے کہ میں نے شروع دن سے کہہ دیا تھا کہ سپریم کورٹ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف فیصلہ نہیں دے گی، اس کا مطلب یہ ہوا  کہ اپوزیشن جماعت کے ارکان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ  گزشتہ روز کا فیصلہ نوازشریف کے خلاف نہیں آیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: قومی اسمبلی اجلاس کے میں شورشرابہ، ایوان مچھلی منڈی بن گیا

قائد ایوان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو یقین ہے کہ ان کی جانب سے نوازشریف اور ان کے خاندان پر لگائے جانے والے الزامات سپریم کورٹ کے بعد جے آئی ٹی میں بھی ثابت نہیں ہوسکتے اس لئے وہ مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں اور ناکامی میں گھرے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن نے ایک تہیہ کررکھا تھا کہ وہ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں آئیں گے اور شور شرابا کرتے رہیں گے اور کسی حکومتی رکن کو بولنے کا موقع نہیں دیں گے اور اس طرح یہ فیصلہ یک طرفہ ہوجائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو من وعن قبول کریں گے اور اب جے آئی ٹی میں کیس جانے کے بعد ہماری قیادت قانونی ماہرین سے مشاورت کرے گی اور آئین اور قانون میں رہتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔ ہم اپوزیشن کی طرح  نا ہی سپریم کورٹ کے ججز کو گالیاں دیتے ہیں اور ناہی کسی ادارے کی تضحیک کرتے ہیں، نوازشریف سپریم کورٹ کے سامنے بھی سرخرو ہوئے اور 2018 کے انتخابات میں بھی کامیاب ہوں گے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: عمران خان اب جلنا اور رونا بند کردیں

وزیرمملکت عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ 20 اپریل کا دن پاکستان کے عوام کے لئے خوشی کا دن تھا، گزشتہ روز حق اور سچ کا فیصلہ آیا اور ہماری بہن مریم نواز کو کلین چٹ مل گئی جس سے ثابت ہوگیا کہ ان کا دامن صاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس نے ایک دوسرے کے دشمن پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو آپس میں جوڑ دیا اور سب مل کر ہمارے خلاف ہو گئے ہیں لیکن اپوزیشن جماعتیں کچھ بھی کرلیں، 2018 کے انتخابات میں (ن) لیگ ہی کامیاب ہو گی اور نوازشریف ہی ملک کے وزیراعظم ہوں گے۔

عابد شیر علی کا کہنا تھا پیپلزپارٹی سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے جب کہ پی پی رہنماؤں کا وطیرہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو نہیں مانتی، اور عدالتوں کا احترام نہیں کرتی۔ اب انہوں نے ملک کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے جے آئی ٹی کے فیصلے کو بھی ماننے سے انکار کردیا ہے، پیپلزپارٹی اپنی جے آئی ٹی تشکیل دے اور اس کا سربراہ آصف زرداری کو بنا کر ایان علی اور شرجیل میمن کو اس کا ممبر بنا دیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔