نواز شریف اداروں، جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچانے کے لیے استعفیٰ دیں، خورشید شاہ

ویب ڈیسک  جمعـء 21 اپريل 2017
اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ نواز شریف تحقیقات ہونے تک استعفیٰ دیں، سراج الحق۔ فوٹو: آن لائن

اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ نواز شریف تحقیقات ہونے تک استعفیٰ دیں، سراج الحق۔ فوٹو: آن لائن

 اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے نواز شریف اداروں، جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچانے کے لیے استعفیٰ دیں اور اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اداروں کو بچانا چاہتے ہیں یا اقتدار کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جب پارلیمنٹ پر برا وقت آیا، پارلیمنٹ اور جمہوریت کمزور ہو رہے تھے اور حکمران استعفیٰ دے رہے تھے تو پیپلز پارٹی نے نواز شریف سے کہا کہ استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے پارلیمان اور جمہوریت کمزور ہوگی، ہمیں ہمیشہ فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ دیا گیا اور کہا گیا کہ ہم نواز شریف کو بچا رہے ہیں مگر وقت نے ثابت کیا کہ ہم نے ہمیشہ جمہوریت اور اداروں کا ساتھ دیا، ادارے ریاست اور پاکستان کے عوام کی طاقت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کل ادارے نے کھل کر فیصلہ دیا ہے لیکن اگر کوئی بات نہیں سمجھتا، یا طاقت کے بل پر نہیں مانتا تو پھر ہماری مجبوری ہے اور ہمیں احتجاج کرنا پڑ رہا ہے، کل سپریم کورٹ کے 2 ججز نے واضح فیصلہ دیا لیکن باقی ججز نے یہ نہیں کہا وہ اس بات سے متفق نہیں بلکہ انہوں نے صرف جے آئی ٹی بنانے کا کہا، جے آئی ٹی ہمارے لیے شرم کی بات ہے، 19 گریڈ کے آفیسر سے کہا گیا ہے جس سے تم تنخواہ لیتے ہواس کی تحقیقات کرو، یہ کونسی تحقیقات ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : قومی اسمبلی اجلاس کے میں شورشرابہ

خورشید شاہ نے کہا کہ اداروں کی مضبوطی سے ریاستیں مضبوط ہوتی ہیں لیکن اگر ادارے اس طرح کے فیصلے دیں جو قابل قبول نہ ہوں تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس جے آئی ٹی کو نہیں مانتے، جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے 3 بڑے ججز یا پھر ہائی کورٹس کے چاروں چیف جسٹس پر بنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب ہم نے نواز شریف سے کہا کہ استعفیٰ نہ دو لیکن آج کہہ رہے ہیں کہ استعفیٰ دو، اداروں، جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچاؤ، ہم حکومت کو ختم کرنے کا نہیں کہہ رہے لیکن اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ اداروں کو بچانا چاہتے ہیں یا اقتدار کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ

سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی روایات تاریخ کا حصہ ہے کہ نواز شریف اور شریف خاندان پر نرم ہاتھ رکھا جاتا ہے، 1993 میں ان کی حکومت ختم ہوتی ہے اور 6 ہفتوں میں سپریم کورٹ بحال کردیتا ہے جب کہ 3 سال بعد بینظیر بھٹو کی حکومت ختم ہوتی ہے لیکن اس کو بحال نہیں کیا جاتا، یہ سپریم کورٹ پر حملہ کرتے ہیں لیکن ان پر کچھ نہیں ہوتا جب کہ جے آئی ٹی سانحہ ماڈل ٹاون پر بھی بنی اس کا کیا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہیں، مریم نواز جن کا اس معاملے میں کلیدی کردار ہے انہیں استثنیٰ دے دیا گیا اور جے آئی ٹی سے پہلے ہی انہیں فارغ کردینے کی بات سمجھ نہیں آتی، جج صاحب نے صحیح کہا تھا کہ فیصلہ بڑے عرصے تک یاد رکھا جائے گا، 1954  میں مولوی تمیز الدین کا فیصلہ بھی آج تک لوگوں کو یاد ہے جب کہ اگر جوڈیشل کمیشن بنتا اور نوازشریف پیش ہوتے تو مزا آتا جب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا۔

امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاناما پر سپریم کورٹ کا فیصلہ منزل نہیں لیکن عوام کی کامیابی ہے جب کہ نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے ادارے کیسے ان کے خلاف تحقیقات کریں گے، اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ نواز شریف تحقیقات ہونے تک استعفیٰ دیں اور60 دن بعد اگر کلیئر ہوجائیں تو دوبارہ وزیراعظم بن سکتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔