فاسٹ اور بائونسی ٹریک پر عالمی نمبر ون ٹیم کا چیلنج درپیش

محمد ادریس  ہفتہ 19 جنوری 2013
قومی کرمٹ ٹیم جنوبی افیقا کے خلاف بلند ھوصلوں کے ساتھ روانہ ہورہی ہے۔ فوٹو : فائل

قومی کرمٹ ٹیم جنوبی افیقا کے خلاف بلند ھوصلوں کے ساتھ روانہ ہورہی ہے۔ فوٹو : فائل

 مصباح الحق کی قیادت میں محمدحفیظ، ناصرجمشید، اظہرعلی، اسدشفیق، یونس خان، سرفرازاحمد، عمرگل، جنیدخاں، محمد عرفان، احسان عادل، سعیداجمل، عبدالرحمن، حارث سہیل، فیصل اقبال اور توفیق عمر پر مشتمل ٹیم جنوبی افریقہ پہنچے گی تو گزشتہ ایک سال میں عمدہ پرفارم کرنے والے میزبان کھلاڑیوں کے دمکتے چہرے استقبال کریں گے۔

حال ہی میں نیوزی لینڈ کو 45 پر ڈھیر کرنے والی ٹیم نے اس سے قبل آسٹریلیا کو 47رنز پر آؤٹ کیا۔ ایک موقع پر کینگروز 9 کھلاڑی21رنز پر پویلین جا چکے تھے۔ جنوبی افریقہ نے سخت جدوجہد کے ذریعے بعض ملکوں کو ناقابلِ یقین انداز میں شکستوں سے دوچار کرکے آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں 124 پوائنٹس کے ساتھ نمبر ون پوزیشن پر قبضہ جمایا ہے، انگلینڈ 118دوسری، آسٹریلیا 117 تیسری اور پاکستان 109کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر ہے۔ پاکستانی اسکواڈ میں چار کھلاڑی ایسے ہیں جنھوں نے ابھی اپنا پہلا ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا۔ مجموعی ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو شاہینوں کا جنوبی افریقہ کے ساتھ کوئی جوڑ نظر نہیں آتا۔

پاکستان ٹیم کے کوچ’’ڈیوواٹمور‘‘سخت گیر کوچ ہونے کے ناطے بہترین انتظامی صلاحیتوں کے مالک ہیں لیکن کھلاڑیوںکو میدان میں بغیر دبائو کے پرفارم کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ایک چیلنج ہوگا۔ اسپنرز ٹیم کی اصل قوت رہے ہیں، تاہم جنوبی افریقہ میں حالات بھارت سے مختلف ہوں گے۔ فاسٹ بولرز جو کامیابیاں حاصل کر چکے وہ بولنگ کوچ محمداکرم کو اپنے کیریئر میں نصیب نہیں ہوئیں مگر فاسٹ بولرز سے مزین میزبان ٹیم خود بھی پیسرز کا عمدگی سے سامنا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ پاکستان ٹیم جیت کا جذبہ لئے جنوبی افریقہ ضرور جا رہی ہے لیکن بیٹنگ لائن بڑے امتحان سے گزرے گی۔ صرف بولنگ کے سہارے فتوحات حاصل کرنا آسان نہیں، ہر شعبہ میں عمدہ پرفارم کرنا ہوگا۔

جنوبی افریقہ نے 2سے 4جنوری تک کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ کو ایک اننگز اور 27 رنز سے شکست دی، فلینڈرنے 6 اوورز، 3میڈن، 7رنز،5وِکٹ، مورکل 6 اوورز، 2میڈن، 14رنز، 3 وِکٹ کی پرفارمنس دکھائی۔ پھر 11جنوری سے 14 جنوری تک دوسرے ٹیسٹ میں میزبان نے 525رنز بنائے، کیویزنے پہلی اننگزمیں 121 دوسری اننگز میں 211 بناکر 193 رنز سے مات کھائی۔ نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 1952ء میں آکلینڈ کے میدان میں 26رنز پر آئوٹ ہوئی تھی جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک اننگز کا سب سے کم اسکور ہے۔ یہ ریکارڈ ٹوٹتے ٹوٹتے رہ گیا جب جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کی 9وکٹیں 21رنز پر اڑا دیں، دسویں وِکٹ کی شراکت میں 26رنز بن گئے۔ کہانی اس ٹیسٹ کی یہ تھی کہ آسٹریلیا نے 284رنز بنائے، جواب میںپروٹیز 96رنز بنا سکے، کینگروز کو 188رنز کی برتری حاصل ہوئی، دوسری اننگز میں آسٹریلیا صرف 47رنز بنا سکی، جنوبی افریقہ کو فتح کے لیے 135رنز کی ضرورت تھی جو اس نے باآسانی حاصل کر لیے۔ پروٹیز کی فارم کو دیکھتے ہوئے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان ٹیم کو کیسے چیلنج کا سامنا ہوگا۔

قومی ٹیم کے انتخاب پر نظر ڈالیں تو بجا طور پر کئی تبصرہ نگاروں اور کرکٹ کے ناقدین نے عدنان اکمل کو ٹیم میں شامل نہ کرنے پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے 16ٹیسٹ میں عمدگی سے وِکٹ کیپنگ اور کئی اچھی اننگز بھی کھیلی ہیں مگر سرفراز کو بھیجنے کا انوکھا فیصلہ سمجھ سے باہر ہے۔ چیئرمین سلیکشن کمیٹی کہتے ہیں کہ ایسی کون سی قیامت آ گئی، باصلاحیت کھلاڑی جلد ٹیم میں واپس آ جائے گا۔ عدنان اکمل کے لیے آخری میچ تو نہیں، اس کا مستقبل تابناک ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی باصلاحیت کھلاڑی کو ٹیم سے نکالا ہی کیوں جائے کہ واپسی کی امید دلانا پڑے؟ گمنام فیصل اقبال نے کچھ عرصہ سے کوئی چونکا دینے والی اننگز نہیں کھیلی، انہیں ایک بار پھر کس بنیاد پر دریافت کر لیا گیا ہے، محمدیوسف کو واپسی کی آس دلا کر توڑ دی گئی، اب وہ تبلیغ کی طرف متوجہ ہوچکے، اس دورے کے لیے مڈل آرڈر بیٹسمین جیسے تجربہ کی ہی ضرورت تھی، دراز قدمحمد عرفان کوٹوئنٹی 20 اور 50اوور میچز میں موقع دیا گیا ہے۔

فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے، سرپرائز پیکج ثابت ہوں گے یا نہیں وقت فیصلہ کرے گا، میچ میں 4 اوورز دو سپیل میں کر لینا اور 10 اوورز کو کئی حصوں میںکرنا اور بات ہے۔ پانچ روزہ ٹیسٹ میچ بڑی آزمائش ہے جو فٹنس اور صلاحیتوں کا بھرپور امتحان لیتی ہے، دعا ہے کہ انھیں کامیابی حاصل ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کسی بھی کھلاڑی کو بڑے ایونٹ میں شریک کرنے کے لیے بہت سوچ بچار اور زمینی حقائق کو مد ِنظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ بعض صورتوں میں آپ ٹیلنٹ کو بغیر ’’گروم‘‘ کیے کھلاکر کیریئر ہی خراب کر دیتے ہیں۔ عمران خان کی بات اور ہے، پہلے ٹیسٹ میں بڑی ناکامی کے بعد میدان سے گردن جھکائے باہر آ رہے تھے تو انتخاب عالم اور دوسرے کھلاڑیوں کو یہ بات کرتے ہوئے سنا کہ جب کوئی شخص سفارش کی بنیاد پر ٹیم میں آ جاتا ہے تو اُس کا یہی حشر ہوتا ہے۔ عمران خان نے اس طنز کو ایک چیلنج کی حیثیت سے قبول کیا، انگلینڈ کے مایہ ناز بولرز سے فاسٹ بولنگ کے گُر سیکھے اور ٹیم میں تب ہی آئے جب وہ بہتر کھیل پیش کرنے کی پوزیشن میں تھے۔

شماریاتی تجزیہ آپ کی نظر ہے پاکستان نے 2003-4ء میں صرف ایک بار ٹیسٹ سیریز جیتی، لاہور میں میزبان ٹیم نے جنوبی افریقہ کو 8وِکٹوں سے ہرایا، دوسرا میچ فیصل آباد میں تھا جو ڈراہوا، جنوبی افریقہ میں پاکستان نے آج تک کوئی سیریز نہیں جیتی۔ اب تک کل 18ٹیسٹ میچ ہوئے ہیں جس میں سے 3پاکستان نے جیتے، 8 ہارے اور 7ڈراہوئے۔ ٹیسٹ میچز میں تو پاکستان کوئی مقام حاصل کرتا نظر نہیں آتا ہے لیکن یہ بات اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ Twenty 20 اور ODI میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کے ہم پلہ ہو گی اور اِس میں اچھا کھیل پیش کر سکے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔