شان رسالت ﷺ

حافظ عاکف سعید  اتوار 20 جنوری 2013
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

جہاں تک حضور ﷺ کی شان‘ رفعت اور عظمت کا معاملہ ہے اس کا تعین میں اور آپ کر ہی نہیں سکتے ۔

اگر ہم اس کی کوشش کریں گے تو اپنی حدود سے تجاوز کریں گے۔ نبی رحمتﷺ کی شان کا تعین تو وہی کر سکتا ہے جو آپﷺ سے بھی کماحقہ اوپر ہو اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے۔ ہم خود حضورﷺ کی شان کا تعین نہیں کرسکتے‘ کیوں کہ ہمیں اس کا ادراک ہو ہی نہیں سکتا۔ سورۃ الضحیٰ کی آیت ہے:

’’اے نبی ﷺ! بعد کا آنے والا دور آپ ﷺ کے لئے پہلے سے بہتر ہے۔‘‘ یہ آیت مکی دور کے بالکل ابتداء میں نازل ہو رہی ہے۔ اس کے مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ اس وقت مشکل حالات ہیں‘ اسلام مغلوب ہے‘ آپﷺ کی بات سننے کو کوئی تیار نہیں ہے‘ آپﷺ کو مجنوں اور ساحر کہا جا رہا ہے۔ لیکن بعد میں جو وقت آئے گا وہ آپﷺ کے اور مسلمانوں کے لئے بہتر ہو گا۔ مسلمانوں کو فتوحات ملیں گی۔ سربلندی عطا ہو گی۔

اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہر آنے والا لمحہ آپﷺ کے لئے پچھلی گھڑی سے بہتر ہے‘ یہ وہ سلسلہ ہے جو ختم نہیں ہو رہا‘ بلکہ جاری و ساری ہے‘ یعنی آپﷺ کے درجات بلند ہونے کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا‘ یہاں تک کہ حشر کے میدان میں آپﷺ مقام محمود پر فائز کئے جائیں گے۔ اس اعتبار سے ہم آپﷺ کے مقام کا تعین کرہی نہیں سکتے۔

قرآن مجید میں حضور ﷺ کی شان اور عظمت کے حوالے سے نوع انسانی کو جو فائدہ پہنچا ہے‘ اس کا تذکرہ اس انداز میں کیا گیا: ’’اے نبیؐ! ہم نے آپؐ کو جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ رحمتہ اللعالمین کا لفظ بتا رہا ہے کہ آپ ﷺ جہان والوں کے لئے رحمت بن کر آئے ہیں اور پوری نوع انسانی کے حق میں رحمت ہیں۔ وہ رحمت کیا تھی؟ حضور ﷺ کو الہدیٰ یعنی قرآن عطا کیا گیا جس میں ہر طرح کے فکری و نظری اور علمی و عملی سوال اور ان کے جواب تسلی بخش انداز میں موجود ہیں۔

قیامت تک آنے والے بڑے سے بڑے فلسفی کے لئے بھی اگر علمی پیاس کی تسکین کا کوئی سامان ہے تو قرآن مجید میں ہے۔ بڑے سے بڑے اقتصادی مسائل کا حل بھی اسی قرآن میں ہے۔ قرآن میں بالقوہ تمام علوم موجود ہیں‘ البتہ لوگوں کے ذہن ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ جوں جوں ترقی ہو رہی ہے لوگ آہستہ آہستہ ان تک پہنچ رہے ہیں اور قرآن کے نئے معارف اور حکمتیں نکھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ ایک تو اس پہلو سے آپﷺ جہان والوں کے لئے رحمت ہیں کہ آپﷺ کے ذریعے یہ قرآن نوع انسانی کو ملا ہے۔ دوسرے یہ آیات بھی آپﷺ کی شان رحمت بیان کر رہی ہیں۔

’’وہی (اللہ) ہے جس نے اپنے رسول کو بھیجا الہدیٰ اور دین حق دے کر۔‘‘
نبی اکرم ﷺ الہدیٰ (قرآن حکیم) کے ساتھ دین حق یعنی ایک کامل اور اجتماعی نظام عدل بھی لائے جس میں انسانوں کو حقوق ملیں اور کوئی شخص اپنے جائز حق سے محروم نہ رہے۔ اس نظام کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک حقوق وہ ہیں جن کا تعلق دنیاوی معاملات اور زندگی کی سہولتوں سے ہے۔ یعنی ہر شخص کو اس کی کفالت کا بنیادی حق ملنا چاہئے ۔ یہ نظام بھی حضورﷺ ہی نے نوع انسانی کو عطا فرمایا۔

حضور پاکﷺ کی رحمت پورے عالم کے لئے تھی اور ہے۔ یہ رحمت الہدیٰ اور دین حق کی شکل میں موجود ہے۔ یہ آپﷺ کی شان ہے کہ آپﷺ کے ذریعے انسانیت کو ایک عادلانہ نظام ملا۔ اس ضمن میں آپﷺ کی منفرد شان یہ ہے کہ آپﷺ نے صرف قال سے نہیں‘ بلکہ اپنے حال سے بھی گواہی دی اور آخری درجے میں اتمام حجت کر دی۔

تیسری شان جس میں آپﷺ یکتا ہیں وہ یہ ہے کہ آپﷺ نے اس دین حق یعنی نظام عدل اجتماعی کو قائم کر کے بھی دکھا دیا۔ اس نظام اور اس کی برکات سب کو دکھا دیں۔

ایک شان کا بیان سورۂ اعراف میں ہوا ہے:
’’وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ کی اتباع کریں گے جس کے بارے میں وہ تورات میں بھی اورا نجیل میں بھی پیش گوئیاں پائیں گے‘ وہ انہیں معروف کا حکم دیں گے اور برائی سے منع فرمائیں گے۔ وہ تمام طیب چیزوں کو تمہارے لئے حلال کریں گے اور تمام خبیث چیزوں کو تمہارے لئے حرام کر دیں گے۔ وہ نوع انسانی کو ان کے کندھوں پر پڑے ہوئے بوجھ اور گردنوں پر پڑے ہوئے طوقوں سے نجات دلائیں گے۔ پس جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں اور ان کی نصرت کریں گے اور اس نور کا اتباع کریں گے جو ان پر نازل ہوا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘۔

ہر نبی ا ور رسول نے نبیﷺ کے آنے کی بشارت اور نوید سنائی۔ گویا پورے عالم کو آپﷺ کا انتظار تھا۔ جس چیز کا وہ حکم دیں گے وہ معروف ہے اور جس چیز سے منع فرمائیں گے وہ منکر ہے۔ گویا خیر و شر کے معاملے میں مختلف شریعتوں میں فرق رہا ہے۔ بعض چیزیں سابقہ شریعتوں میں حلال تھیں بعد میں وہ حرام کر دی گئیں۔ بعض باتیں مباح تھیں بعد میں انہیں جائز قرار دیا گیا۔ خیر و شر‘ معروف و منکر کا حتمی اور قطعی فیصلہ وہ نبی آ کر صادر فرمائیں گے۔ جن باتوں کا انہوں نے حکم دیا‘ انہیں تھام لو کہ وہ خیر ہی خیر ہے اور جس سے منع فرمایا اس سے رک جاؤ کہ اس میں شر اور نقصان ہے۔

گویا وہ ذات خود معیار خیر وشر ہے۔ سابقہ شریعتوں میں کچھ اونچ نیچ رہی اور کچھ لوگوں نے خود اس کا بگاڑ پیدا کر دیا مثلاً بنی اسرائیل سمجھتے تھے کہ اونٹ حرام ہے جو ان کی غلط فہمی تھی۔ لیکن نبی اکرمﷺ نے ہر شے جو طیب‘ عمدہ اور پاکیزہ ہے جس میں انسان کے لئے بھلائی ہے ان تمام چیزوں کو حلال قرار دیا تاکہ انسان ان کے فوائد سے محروم نہ رہ جائے۔ اس کا بھی آخری اور اٹل فیصلہ وہی فرمائیں گے اور جس شے میں خباثت اور نجاست ہے اسے تاقیامت حرام قرار دے دیا۔ آخری بات یہ فرمائی گئی کہ اس نبی کی یہ شان ہو گی کہ نوع انسانی کو ان کے کندھوں پر پڑے ہوئے طاقوں سے نجات دلائیں گے۔ آیت کے اس حصے کی طرف توجہ عام طور پر کم ہوئی کہ اس سے کیا مراد ہے؟ نوع انسانی کی گردنوں میں کئی طرح کے ناروا بوجھ اور طوق ڈالے گئے ہیں۔ ایک طوق بادشاہوں نے ڈالا جو یہ تھا کہ رعایا ان کی محکوم تھی۔

ان کا اپنا کوئی حق نہیں تھا۔ اگر بادشاہ نے کچھ دے دیا تو وہ اسے انعام سمجھے ورنہ جو کچھ ان کا ہے‘ اس میں بادشاہ جو چاہے جب چاہے غصب کر لے۔ اس محکومی وغلامی سے حضورﷺ نے نوع انسانی کو نجات دلائی۔ ایک بوجھ مذہبی طبقات کی طرف سے لوگوں پر ڈالا گیا کہ تم اپنے رب سے ہم کلام ہونا چاہتے ہو‘ اس سے دعا کرنا چاہتے ہو‘ لیکن تم نجس‘ ناپاک اور گناہ گار ہو۔ تم اپنے رب سے رابطہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں خوش کرو‘ نذرانے دو ہمارے مطالبات پورے کرو تو پھر ہم تمہاری بات وہاں تک پہنچائیں گے کیوں کہ ہمیں وہاں تک رسائی حاصل ہے۔ یا یہ بت اللہ کا قرب رکھتے ہیں‘ یہ تمہاری بات وہاں پہنچائیں گے۔

اپنے نذرانے یہاں پیش کرو۔ نذرانے کہاں جاتے تھے؟ وہ مذہبی نظام چلانے والے لے جاتے تھے۔ یہ ایک بہت بڑا مذہبی غلامی کا طوق تھا جو ان کی گردن میں پڑا ہوا تھا۔ اس بوجھ سے بھی حضورﷺ نے نجات دلائی۔ قرآن حکیم میں ارشاد ربانی ہے ’’اے نبیﷺ! جب آپؐ سے میرے بندے میرے بارے میں سوال پوچھیں تو بتا دیجئے کہ میں بالکل قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی پکار(دعا) سنتا ہوں (جواب دیتا ہوں‘ قبول کر لیتا ہوں) جب بھی مجھے پکارے (جہاں بھی مجھے پکارے۔)‘‘

اس طرح کچھ معاشی رسومات کا بوجھ انسان اپنے اوپر لاد لیتا ہے مثلاً بچہ پیدا ہو گا تو اس کی خوشی کیسے منانی ہے؟ نکاح کیسے ہو گا؟ کوئی مر گیا تو اس کی تدفین کیسے ہو گی؟ ان معاملات میں کتنے ہی بوجھ ہم نے اوپر لاد لئے ہیں۔ حضورﷺ نے انسانیت کو ایسے تمام ناروا بوجھوں سے نجات دلا کر ان معاملات کو سادہ اور آسان بنا دیا۔ اگر ہم واقعی آپﷺ کے عطا کردہ نظام کو عملاً اپنی زندگی میں لاگو کریں تو اس سے زیادہ آئیڈیل نظام کوئی نہیں ہو گا۔ کسی شخص پر کوئی ناروا بوجھ نہیں ہو گا‘ کوئی شخص اپنے جائز حق سے محروم نہیں ہو سکتا۔

آیت کے اگلے حصے میں ذکر ہو رہا ہے کہ رسولﷺ کے سچے پیروکار کون ہیں؟ آپؐ کا سچا امتی کون ہے؟ سچے امتی کی چار شرطیں ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ آپﷺ پر ایمان لائے‘ ایسا یقین قلبی والا ایمان جو انسان کے عمل کو متاثر کرے اور اس کا عمل گواہی دے کہ یہ شخص نبیﷺ پر ایمان رکھتا ہے۔ اللہ کے ساتھ رسول کی اطاعت بھی لازمی ہے۔ دوسری شرط یہ کہ وہ دل سے نبیﷺ کا ادب‘ احترام اور تعظیم کرے۔ نبیﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ آپﷺ کے طریقے کو اختیار کیا جائے۔ آپﷺ کے نقش قدم پر چلا جائے۔

آپﷺ کی پیروی کی جائے۔ آپﷺ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ سچے امتی ہونے کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ نبیﷺ کی نصرت کی جائے یعنی جو مشن نبی کریمﷺ کو دیا گیا تھا‘ اسے قائم کرنے میں آپﷺ کی مدد کی جائے۔ چوتھا تقاضا یہ ہے کہ جو الہدیٰ (قرآن حکیم) نبیﷺ کو دیا گیا تھا‘ اس قرآن کو اپنا امام اور راہ نما بنایا جائے اور اس کے حقوق ادا کئے جائیں یعنی اس کی تلاوت کی جائے‘ اسے سمجھا جائے‘ اس پر عمل کیا جائے اور اسے پوری دنیا میں پھیلایا جائے۔ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں ہے۔ اللہ کی اس ہدایت کو پوری نوع انسانی تک پہنچانے کی ذمہ دار یہ امت ہے اور سچا امتی وہی ہے جو اس ذمے داری کو محسوس کر کے اپنا کردار ادا کرے۔ ان چار شرطوں کو پورا کرنے والوں کے بارے میں فرمایا گیا:

’’یہی ہیں اصل میں کام یاب ہونے والے!‘‘
اس نبیﷺ کے سچے پیروکاروں اور سچے امتیوں کے لئے رحمت ہی رحمت ہے۔ اپنی وہ خاص رحمت اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے ہی متعین کی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔