ان سوالوں کے جواب کون دے گا؟

امجد اسلام امجد  ہفتہ 19 جنوری 2013
Amjadislam@gmail.com

[email protected]

طاہر القادری صاحب کا لانگ مارچ اور دھرنا تو ان کے بقول اپنے مقاصد حاصل کر کے ختم ہو گیا لیکن اب جوں جوں اس ڈرامے کی اُڑائی ہوئی گرد بیٹھتی جا رہی ہے‘ کچھ نئے اور کچھ پرانے سوال ٹکٹکی باندھے پاکستانی قوم اور اس کے لیڈروں کی طرف دیکھ رہے ہیں جن کا مجموعی تاثر یہی بنتا ہے کہ یہ علامہ صاحب کیا تھے؟ کیا ہیں؟ کیوں آئے تھے؟ اور اس اربوں روپے کے خرچ کا مقصد کیا تھا؟

ممکن ہے قادری صاحب ان کے جواب میں منیر نیازی مرحوم کے اس شعر سے مدد لیں کہ

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے

مگر وہ ایسا کریں گے نہیں کیونکہ ایک تو انھیں اپنی آواز سننے کا شوق بہت ہے اور دوسرے یہ کہ جو سوالات ان سے کیے جا رہے ہیں انھیں تو شاعری کا لائسنس دے کر بھی غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔

میں ایسے سیاسی موضوعات پر بات کرنے سے اکثر اجتناب کرتا ہوں جن کا بنیادی مقصد سوائے سنسنی خیزی اور لفظوں کی لُڈو کھیلنے کے اور کچھ نہ ہو کہ اسی طرح کی بے کار بحثوں کے بارے میں فلسطینی مزاحمتی شاعر عبد الوہاب البسیاتی نے اپنی ایک نظم میں کہا تھا کہ

’’مشرقی قہوہ خانوں کی سیلن میں ہم اپنی بے کار بحثوں کے ہاتھوں مرے
جھوٹ کے چوبی ہتھیار سج کے
ہواؤں کے گھوڑوں پہ لڑتے رہے
ہم زیاں کار تھے ایک دوجے سے لڑتے ہوئے کٹ مرے اور ٹکڑے ہوئے‘‘

اس کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان سارے سوالات کو درج کیا جا سکے جو 23 دسمبر 2012ء سے 17 جنوری 2013ء کے درمیان سامنے آئے ہیں لیکن چند بنیادی نکات پر بات ہو سکتی ہے جو کچھ اس طرح ہیں:

(1) طاہر القادری صاحب نے بار بار چیخ چیخ کر اپنے آپ کو حسینیت کا پیروکار اور حکومت وقت کو یزیدیت کا لشکر قرار دیا اور اعلان کیا کہ جب تک وہ حاکموں کے خلاف آخری فتح حاصل نہیں کر لیتے ان کا مارچ اور احتجاج جاری رہے گا۔ اب کون اس سوال کا جواب دے گا کہ کیا جنابِ امامؓ نے بھی یزید سے صلح کر کے واپسی کے کسی عہد نامے پر اسی طرح سے دستخط کیے تھے جیسے قادری صاحب نے نام نہاد ’’یزیدیوں‘‘ سے جپھیاں ڈال کر اور ایک ایک کا نام لے کر ان کے قصیدے پڑھے ہیں اور بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ اس معاہدے پر پہلے وزیراعظم (جن کی اپنی جان پر بنی ہوئی ہے) نے دستخط کیے اور اس کے بعد انھوں نے اسے ’’شرفِ قبولیت‘‘ عطا کیا۔

(2) کیا اپنے چاروں مطالبات کے حوالے سے انھوں نے جن ’’فتوحات‘‘ اور ’’اصلاحات‘‘ کا ڈھول بجایا ہے وہ پہلے سے (تحریر اور تھیوری کی سطح پر) آئین کا حصہ نہیں تھیں؟ انھوں نے حکومتِ وقت کو الٹی میٹم تو بہت دیئے (نہ معلوم کس استحقاق کی بنیاد پر) لیکن نہ تو اسمبلیاں ’’فوری طور‘‘ پر تحلیل ہوئیں اور نہ ہی الیکشن کمیشن کی صحت پر کوئی فرق پڑا (شائد ان سے متعلق آئینی مسائل کا انکشاف مولانا پر مذاکرات کے دوران پہلی بار ہوا تھا) جہاں تک باقی دو شقوں کا تعلق ہے تو ان میں سوائے کچھ لفظی قلابازیوں کے تمام معاملات جوں کے توں رہے البتہ یہ بات انھوں نے حکومت سے ضرور منوا لی کہ عبوری حکومت کے وزیراعظم کے لیے دو مجوزہ نام ان کی ’’رائے‘‘ سے نہیں بلکہ ان کی ’’منظوری‘‘ سے طے کیے جائیں گے اور معاملات کی تفصیلات طے کرنے کے لیے اگلی میٹنگ ادارہ منہاج القرآن کے دفتر میں ہو گی۔

حکومتی وفد نے اس شخصی تکبر کی نمائندہ تجویز پر کیوں اور کیسے حامی بھری اس کا جواب تو وہی لوگ دیں گے مگر جہاں تک قادری صاحب کے ماضی کے ریکارڈ‘ خود پرستی اور تحریک منہاج القرآن سے وابستہ مخلص دین دار اور مخیر لوگوں کے عطیات کو اپنی ذاتی صوابدید کے مطابق خرچ کرنے کا تعلق ہے وہ اپنی جگہ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں لیکن ان سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ قادری صاحب نے پاکستان سے مایوس ہو کر کینیڈا کی شہریت حاصل کر لی ہے اور اب گزشتہ کئی برس سے پاکستان کے تمام مسائل اور تکالیف سے بے نیاز ہو کر اپنے مریدوں کی عقیدت اور ادارے کی سربراہی اور وسائل کے ساتھ ایک پر امن زندگی گزار رہے تھے، یکایک انھیں کیا سوجھی کہ وہ ایک ایسا ایجنڈا لے کر پھر سے اہل وطن کی ’’خدمت‘‘ کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں جس کا نہ کوئی سر ہے اور نہ پیر‘ کہ یہ مطالبات تو پہلے ہی خلق خدا صبح و شام حکومت سے کر رہی تھی۔ ہاں اگر اس کا مقصد ذاتی شہرت اور بلّے بلّے تھا تو اس میں وہ یقینا کامیاب رہے ہیں۔

قادری صاحب کے علم و فضل (تھیوری کی حد تک) زورِ خطابت اور انتظامی صلاحیتوں سے انکار ممکن نہیں کہ بلا شبہ ان تینوں میدانوں کے وہ شہ سوار ہیں لیکن جہاں تک Leading From the Front کا تعلق تو انگریزی زبان پر تمام تر استعداد کے باوجود (جس کا بھر پور مظاہرہ کسی نہ معلوم وجہ سے وہ اپنی حالیہ تقریروں میں کثرت سے کرتے رہے ہیں) شائد وہ اس کا صحیح مطلب نہیں جانتے۔ اپنے بیشتر اہل خانہ کو کینیڈا بھجوا کر اور باقیوں کو اپنے ساتھ تمام سہولیات سے آراستہ اور موسم کی سختیوں سے محفوظ کسی جگہ پر رکھنے اور خلق خدا کو خدا کے بجائے اپنے مفادات اور نعروں کے سہارے پر چھوڑنے سے قیادت کا حق ادا نہیں ہوتا۔ مجھے احساس ہے کہ میرے ان خیالات سے ان کے عقیدت مندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی اس کے لیے میں ان سے پیشگی معذرت خواہ ہوں مگر ان سوالات کو ان کے اور ساری قوم کے سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر علامہ طاہر القادری صاحب کے پاس ان کے ایسے جوابات موجود ہوں جنھیں تسلی بخش کہا جا سکے تو میں اپنے ان الفاظ کو بخوشی واپس لینے کو تیار ہوں گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔