منظر امام قتل کیس: تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی

اسٹاف رپورٹر  اتوار 20 جنوری 2013
جائے وقوع پر 30دکانداروں نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے ملزمان کو نہیں دیکھا۔ فوٹو: فائل

جائے وقوع پر 30دکانداروں نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے ملزمان کو نہیں دیکھا۔ فوٹو: فائل

کراچی: ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی کے قتل کی تحقیقات میں 3 روز گزر جانے کے باوجود کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی اور نہ ہی پولیس قتل کی واردات میں ملوث گروپ کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو سکی ہے۔

عینی شاہدین بھی پولیس کی مدد کرنے سے گریز کر رہے ہیں، واردات میں استعمال کی جانے والی 3 اقسام کی 38گولیوںکے خول پیرکو فارنسک لیبارٹری بھیجے جائیں گے۔اورنگی ٹائون انویسٹی گیشن پولیس کے انچارج سید کریم نے بتایا کہ واردات کے بعد پولیس کو جائے وقوع سے واردات میں استعمال کی جانے والی 3 اقسام کی گولیوں کے 38  خول ملے تھے جس میں29 خول 9 ایم ایم پستول ، 6 خول ایس ایم جی جبکہ 3 خول 30 بور پستول کے ہیں جنھیں پیر کو روز فارنسک لیبارٹری سندھ بھیجا جائے گا۔

تفتیشی افسر  نے بتایا کہ پولیس نے ہفتے کو جائے وقوع کے قریب واقع دکانوں کے30 سے زائد دکانداروں اور دیگر افراد سے ایم پی اے کے قتل سے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہی تو تمام افراد نے پولیس کی مدد کرنے سے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے ملزمان کو نہیں دیکھا۔تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ جب تک عینی شاہدین پولیس کی مدد نہیں کریں گے پولیس کا ملزمان تک پہنچا مشکل ہو جائے گا تاہم پولیس اپنے خفیہ ذرائع سے ملزمان اور ان کے گروپ بارے میں معلومات جمع کر رہی ہے ۔

7

انھوں نے بتایاکہ عینی شاہدین کی جانب سے تعاون نہ کرنے  کی وجہ سے اب تک ملزمان کے خاکے بھی تیار نہیں کیے جا سکے۔ ڈی ایس پی اورنگی ٹائون زاہد حسین نے بتایا کہ ایم پی ایم منظر امام کے قتل کے سلسلے میں پولیس سر توڑ کوششیں کر رہی ہے اور تفتیش میں پیش رفت بھی ہوئی ہے تاہم اس وقت بتانا قبل از وقت ہو گا۔ واضح رہے کہ 3روز قبل اورنگی ٹائون کے علاقے میں نشان حیدر چوک کے قریب گھات لگائے دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے متحدہ قومی موومنٹ کے رکن سندھ اسمبلی سید منظر امام ،ان کے دو محافظوں اور ڈرائیور کو قتل کردیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔