عام انتخابات اور سیاسی قیادت کی ذمے داری

ایڈیٹوریل  اتوار 20 جنوری 2013
طاہر القادری کے دھرنے کے دوران بھی نواز شریف کی دعوت پر اپوزیشن جماعتوں کے سربراہ اکٹھے ہوئے تھے۔ فوٹو : پی پی آئی

طاہر القادری کے دھرنے کے دوران بھی نواز شریف کی دعوت پر اپوزیشن جماعتوں کے سربراہ اکٹھے ہوئے تھے۔ فوٹو : پی پی آئی

صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ نگران حکومتیں آئین کے مطابق تشکیل دی جائیں گی اور اس کے لیے تمام اتحادی، اپوزیشن اور سیاسی قوتوں سے مشاورت کی جائے گی، جمہوریت کے استحکام کے لیے آیندہ انتخابات کا بروقت انعقاد ضروری ہے، آیندہ انتخابات شفاف انداز میں مقررہ وقت پر کروا کے عوام سے کیا گیا ایک اہم وعدہ پورا کردیں گے۔ وہ ہفتے کو مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ٹیلی فونک گفتگو کررہے تھے۔ اس ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے اور بھی کچھ باتیں میڈیا میں سامنے آئی ہیں کہ صدر مملکت کو طاہر القادری کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

ملک میں منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری نے جب لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا تو اسی وقت بعض حلقوں کی طرف سے ایسا تاثر دیا گیا کہ شاید ملک میں کچھ ہونے والا ہے‘ ایسی قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں کہ عام انتخابات کا بروقت انعقاد مشکل ہے‘ اسی دوران کوئٹہ میں ہزارہ منگول کمیونٹی نے میتیں سامنے رکھ کر دھرنا دیا اور اس کے نتیجے میں بلوچستان حکومت کو فارغ کر کے صوبے میں گورنر راج نافذ ہوا تو معاملہ بگڑتا نظر آیا۔ طاہر القادری کے اسلام آباد میں دھرنے کے دوران بھی صورت حال میں اتار چڑھائو آتا رہا لیکن وفاقی حکومت کی بہتر حکمت عملی کے باعث دھرنے کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا۔

اب صورتحال بالکل واضح ہو چکی ہے‘ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی ہے۔ اس وقت ملک کی تمام سیاسی جماعتیں غیر اعلانیہ انتخابی مہم چلا رہی ہیں‘ جلسے بھی ہو رہے ہیں اور علاقائی سطح پر جوڑ توڑ کی سیاست بھی جاری ہے۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ سندھ میں جلسے کر رہے ہیں اور پیپلز پارٹی پنجاب میں جوڑ توڑ میں مصروف ہے۔ اگلے روز سندھ کے ضلع مٹیاری تعلقہ ہالا میں سندھ میں دوہرے بلدیاتی نظام‘ آئین کی بالادستی‘ جمہوریت کی ترقی اور عوام کے حق حکمرانی کے عنوان سے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ عوام آیندہ انتخابات میں صحیح جگہ پر ٹھپہ لگائیں‘ ٹھپہ اگر صحیح لگ جائے گا تو اللہ اس ملک کی تقدیر بدل دے گا۔

میاں نواز شریف نے حالیہ جمہوری دور میں اپوزیشن میں رہ کر مثبت کردار ادا کیا ہے۔ وہ ان قوتوں کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے جو جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کی خواہش رکھتے تھے۔ طاہر القادری کے دھرنے کے دوران بھی میاں نواز شریف کی دعوت پر اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان ان کی رہائش گاہ رائیونڈ لاہور میں اکٹھے ہوئے تھے۔ اپوزیشن لیڈروں نے اس موقع پر متفقہ موقف اختیار کیا تھا کہ جمہوریت پر کسی قسم کا حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یوں دیکھا جائے تو ملک میں جمہوریت کا مستقبل تابناک نظر آتا ہے اور عام انتخابات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ جمہوریت کا سفر تو جاری ہے اور جاری رہے گا لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ جمہوریت کے اس سفر میں قومی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے‘ توانائی کے بحران نے کاروباری سرگرمیوں کو منجمد کیے رکھا‘ ملک میں کئی صنعتیں بالکل بند اور ہزاروں صنعتی ورکرز بے روز گار ہو ہوگئے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی رکی رہی۔ اکثر اوقات صنعت کار یہ واویلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ برآمدی آرڈرز بروقت پورے کرنے کے لیے صنعت کو بجلی کی مسلسل فراہمی ضروری ہے لیکن سنگین بحران کی وجہ سے صنعتکار اپنے آرڈرز پورے کرنے سے قاصر ہیں۔

پاکستان سے پہلے ہی عالمی مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ چھن چکا اور رہے سہے غیر ملکی خریدار بھی ہاتھوں سے نکل جانے کا خدشہ ہے۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ آئی ایم ایف نے بھی مزید قرضے دینے اور قرضے ری شیڈولڈ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اگر توانائی کے بدترین بحران کو حل کرنے کے لیے کوئی قابل قبول حل نہ نکالا گیا تو مستقبل میں صنعتی اداروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہوگا جس کی وجہ سے نہ صرف صنعتوں کی بنگلہ دیش اور ملائیشیا جیسے ممالک میں منتقلی کا رجحان بڑھے گا بلکہ حکومت کو بھی محاصل کی مد میں بھاری نقصان ہوگا۔ برسراقتدار سیاسی جماعتوں ہوں یا اپوزیشن جماعتیں‘ انھیں جمہوریت کی بات کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی معاملات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

صدر مملکت کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ انتخابات بروقت ہوں گے لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ ن یا دیگر سیاسی جماعتیں‘ ان کی اولین ترجیح سیاسی جوڑ توڑ ہی نظر آتی ہے۔ کسی جماعت کے پاس اقتصادی پروگرام نہیں ہے۔ اس وقت سیاسی جماعتیں قومی حلقوں کی سطح پر جوڑ توڑ میں مصروف نظر آتی ہیں۔ ایک سیاسی خاندان پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہا ہے تو کوئی دوسرا ن لیگ کی گود میں بیٹھا نظر آتا ہے۔ تحریک انصاف ہو یا مسلم لیگ ق‘ اے این پی ہو یا ایم کیو ایم اور یا پھر جے یو آئی تمام سیاسی جماعتیں اقتصادی معاملات کو چھوڑ کر الحاق اور اتحاد کے راستے پر گامزن ہیں۔

اس طریقے سے یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی اتحاد ووٹ لے کر اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لے اور حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے لیکن جب یہ حکومت اقتدار سنبھالے گی تو اس کے سامنے اقتصادی بحران منہ کھولے کھڑا ہوگا۔ توانائی کی ضروریات کیسے پوری کی جائیں گی کسی سیاسی جماعت کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ آجا کر سب کو غیر ملکی مالیاتی اداروں کے پاس امداد کے لیے جانا پڑے گا۔ ملک میں پہلے ہی قرضوں کے تلے دبا ہوا ہے‘ عالمی مالیاتی ادارے بھی کڑی شرائط عائد کر رہے ہیں ایسی صورت میں سیاسی جماعتوں کی ذمے داری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

اب یہ بات تو طے ہے کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے‘ عام انتخابات بھی وقت پر ہوں گے‘ سیاسی قیادت کو اب ساری توجہ اقتصادی منصوبہ بندی پر دینی چاہیے۔ ہر سیاسی جماعت کے پاس مستقبل کا اقتصادی ڈھانچہ موجود ہونا چاہیے تاکہ جب وہ عام انتخابات میں جیت کر حکومت بنائے تو اسے اقتصادی معاملات حل کرنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ اگر سیاسی جماعتیں روایتی جوڑ توڑ کی سیاست میں الجھی رہیں تو پھر جمہوریت کا مستقبل بدستور خطرے میں رہے گا۔ عوام کی بدحالی کا فائدہ غیر جمہوری قوتیں ماضی میں بھی اٹھاتی رہی ہیں‘ اب بھی انھوں نے حالات سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ضایع نہیں کیا۔ مستقبل میں بھی وہ ایسا ہی کھیل کھیلتی رہیں گی لہٰذا جمہوریت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے منشور میں اقتصادی پالیسی کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔